قمر الدین ریاضی
استاذ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
اللہ نے بنی نوع انسان کو ایک عظیم مقصد کے عوض تحت پیدا فرمایا ہے، اور وہ مقصد یہ ہے کہ بندہ صرف اللہ رب العالمین کی عبادت وریاضت كرے، انسانی تخلیق کا مقصد ہی تحقیق توحید ہے قال تعالى: وَمَا خَلَقۡتُ ٱلۡجِنَّ وَٱلۡإِنسَ إِلَّا لِيَعۡبُدُونِ۔ یہی نہیں بلکہ تمام انبیاء ورسل کی بعثت کا مقصد ہی یہی تھا۔ وَلَقَدۡ بَعَثۡنَا فِي كُلِّ أُمَّةٖ رَّسُولًا أَنِ ٱعۡبُدُواْ ٱللَّهَ وَٱجۡتَنِبُواْ ٱلطَّٰغُوتَۖ۔
الاصول الستہ یہ وہ کتاب ہے جس کو مملکت سعودی عرب کی ایک مایہ ناز شخصیت مجدد اسلام الشیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے تالیف کی ہے ، اس کتاب کے اندر ایمان و عقیدہ کے چھ بنیادی اصولوں کا ذکر کیا گیا ہے اور یہ ایسے اصول ہیں جن کا ذکر کتاب وسنت میں بکثرت کیا گیاہے یہ ایسے کلی و قطعی اصول ہیں جس کی ضرورت ہر فرد و مجتمع کو ہوا کرتی ہے انہیں پر دین کی صحت کا انحصار ہے اور انہیں کے ذریعہ دینا وآخرت میں سعادت اور دنیوی واخروی امن و استقرار حاصل کیا جاسکتا ہے ان اصولوں کی خلاف ورزی، انحرافات وفساد کا باعث ہوتی ہے۔
پہلا اصل : اس اصل سے مراد یہ ہیکہ تمام عبادات اللہ ہی کے لئے مختص كئے جائيں، کسی بھی عبادت میں غیر اللہ کو شریک و ساجھی نہ ٹھہرایا جائے۔
قال تعالى: قُلۡ إِنَّ صَلَاتِي وَ نُسُكِي وَ مَحۡيَايَ وَ مَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ ٱلۡعَٰلَمِينَﵞ اسی طرح سے دوسری جگہ ارشاد فرمایا: وَمَآ أُمِرُوٓاْ إِلَّا لِيَعۡبُدُواْ ٱللَّهَ مُخۡلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ ۔
اصل ثانى: اس اصل سے مراد یہ ہیکہ لوگوں کا دین کے نام پر یکجا و اکٹھا ہوجانا، اور اسى طرح تمام مسلمان ایک قائد کے جھنڈے تلے یکجا ہو جائیں،اسى کو جماعت کہا جاتاہے ،قال الله تعالى: وَٱعۡتَصِمُواْ بِحَبۡلِ ٱللَّهِ جَمِيعٗا وَلَا تَفَرَّقُواْۚ۔
ہماری شریعت مطہرہ نے اجتماعیت کاصاف اسلوب میں حکم دیا ہے جس کو ہر عام وخاص سمجھ سکتے ہیں اوراختلاف وفرقہ بندی سے سختی سے منع فرمایا ہے اور ہمیں متنبہ کیا ہے کہ سابقہ قوموں کی طرح اختلاف نہ کریں ورنہ ہلاک وبرباد ہوجائیں گی ارشادباری تعالی ہے: وَلَا تَكُونُواْ كَٱلَّذِينَ تَفَرَّقُواْ وَٱخۡتَلَفُواْ مِنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلۡبَيِّنَٰتُۚ وَأُوْلَٰٓئِكَ لَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٞﵞ اور دوسری جگہ فرمایا: إِنَّ ٱلَّذِينَ فَرَّقُواْ دِينَهُمۡ وَكَانُواْ شِيَعٗا لَّسۡتَ مِنۡهُمۡ فِي شَيۡءٍۚ۔
اصل ثالث: اس اصل سے مراد یہ ہیکہ مسلمانوں كا امام مقرر كياجائے كيوں کہ بغیر امام کے جماعت کا وجود غیر ممکن ،اور امام کے امور میں اس وقت استقرار ہوگا جب اس کی اطاعت وفرمانبرداری ہوگی ورنہ فوضی وفساد برپا ہوگا اسی لئے امام کی تعیین واجب وضروری ہے۔
اصل رابع: اس اصل سے شیخ رحمہ اللہ بتلانا چاہتے ہیں کہ جن تینوں اصولوں کا ذکر ہوچکاہے اس کی معرفت بغیر علم کے حاصل نہیں کی جاسکتی ہے اور علم یہ علماء کے ساتھ مختص ہو ا کرتی ہے یہی لوگ اس کا حق ادا کرتے ہیں اسی لئے نفع بخش علم کی معرفت اور علماء ربانیین کی پہچان کرنی لازمی وضروری ہے یہی وجہ ہے کہ کتاب وسنت میں نفع بخش علم کیا ہے اس وضاحت کی گئی ہے اور اسی طرح علماء ربانیین کے صفات بھی ذکر کئے گئے ہیں ۔
اصل خامس: اس اصل میں شیخ رحمہ اللہ اولیاء الله کا تذکر ہ فرما رہے ہیں، اللہ تعالی اولیاءكو کرامات سے نوازتا ہے،لیکن یہ اولیاء نہ تو نبوت کا دعوی کرتے ہیں او نہ ہی اپنی کرامات کو لوگوں میں بیان کرتے پھرتے ہیں بلکہ ان کراما ت کی ستر پوشی کرتے ہیں تاکہ کہیں لوگ فتنہ میں نہ مبتلا ہوجائیں، ان اولیاء کی پہچان کیا ہے اسکی وضاحت اللہ تعالی نے قرآن کریم میں کیا ہے: أَلَآ إِنَّ أَوۡلِيَآءَ ٱللَّهِ لَا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُونَ 62 ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُون۔
اس آیت کریمہ میں ولی ہونے کے لئے دو شرطوں کا پایا جانا لازمی ایک اہل ایمان کا ہونا اور دوسری شرط یہ ہیکہ اہل تقوی بغیر ان دونوں شرطوں کے کسی ولی نہیں قرارد یاجاسکتا۔
اصل سادس: اس اصل میں شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ شیطان ملعون نے لوگوں کے دلوں میں شبہ ڈال دیا کہ قرآن کریم کو حقیقی معنوں میں وہی سمجھ سکتاہے جو مجتہد ین علماء کے مقام کو پہونچ چکا ہو لیکن وہ علما ء جو مجتہد ین کے درجے تک نہ پہونچے ہوں ان کے لئے کتاب و سنت کاسمجھنا ناممکن ومستحیل ہے تویہ جب علماء نہیں سمجھ سکتے تو عوام الناس بدرجہ اولی نہیں سمجھ سکتی۔ چنانچہ وہ علماء جو اجتہاد کے درجہ تک نہیں پہونچ سکے ہیں یا عوام الناس ان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ وہ قرآن کریم کے معانی و مفہوم میں تدبر سے کا م لیں او ر نہ غیر مجتہدین کو اور عوام کے لئے جائز ہے کہ لوگوں کو تدبر قرآن کی تلقین کریں جب کہ قرآن کریم بہت سارے نصوص اس پر دال ہیں کہ اللہ نے ذکر اور تدبر کے لئے قرآن کریم کو آسان بنایا ہے اس کو مجتہدین علماء کے ساتھ مختص کرنا درست نہیں۔
