ظہیرآباد 16/دسمبر(مشرقی آواز جدید): تلنگانہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معین ایک عظیم رہنما ، حقوق ِنسواں  کے  کارکن اور سماجی مصلح  ہیں۔ جنھوں نے  پوری زندگی  ملک  سماج اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کی ہے۔ ان کی خدمات تحریکِ آزادئ تلنگانہ  تک محدود  ہے بلکہ وہ مختلف سماجی مسائل کے لیے سرگرم نظر آتے  ہیں۔ان  کی قیادت  میں  مقامی عوام اور کمیونٹی رہنماؤں کی جانب سے انڈیسٹیریل اسمارٹ سٹی ظہیر آباد میں نئے   تعمیر ہونے والے فلائی اوور کا نام ’’اسمارٹ سٹی فرید الدین فلائی اوور‘‘ رکھنے اور اس کے قریب مرحوم جناب محمد فرید الدین کے اعزاز میں  ان کا مجسمہ نصب کرنے کی تجویز   پیش کی گئی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف مرحوم کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے بلکہ ان کی یاد کو زندہ رکھنے اور آنے والی نسلوں کو ان کے اعلیٰ  خدمات سے  روشناس کروانے کا ذریعہ بھی ہوگا۔
جناب محمد فرید الدین، ولد محمد فخر الدین، ظہیر آباد کے ایک ممتاز سیاسی اور سماجی رہنما تھے۔  سیاست کا  آغاز 1989-1996 کے دوران بطور سرپنچ اور ڈرائیور یونین کے صدر کے طور پر کیا۔ 1994-1999 تک بلاک کانگریس صدر   تھے۔ ظہیر آباد کے ایم ایل اے کے طور پر (1999-2009)  تک خدمات انجام دیے۔اس دوران آندھرا پردیش میں کئی اہم وزارتی قلمدان  رہے ۔ان کے زیر قیادت اقلیتی بہبود، ماہی پروری، توانائی، سول سپلائیز، اور کوآپریٹو سوسائٹیز کے شعبوں میں نمایاں ترقی ہوئی۔ ریاست کی تقسیم کے بعد، انھوں نے ایم ایل سی کے طور پر خدمات انجام دیے اور 2016-2019 کے دوران تلنگانہ اقلیتوں کی بہبود کی کمیٹی کے چیئرمین رہے۔
جناب فرید الدین نے اقلیتوں کے لیے نمایاں اصلاحات کیں اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے۔ تمام  مذاہب اور برادریوں کے درمیان ہم آہنگی اور اتحاد کو فروغ دیا، جو ان کی شخصیت کی نمایاں خصوصیت تھی۔ان کی قیادت میں تعلیمی ادارے اور ثقافتی پلیٹ فارم قائم کیے گئے جنھوں نے عوام کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے۔ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں ظہیر آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اہم ترقیاتی کام ہوئے، جن میں عیدگاہ اور قبرستان کا قیام بھی شامل ہے۔وہ تمام مذاہب کے عقائد کا احترام کرتے تھے، جو ان کے بلند اخلاق اور عوامی مقبولیت کی بنیادی وجہ تھی۔
نیا فلائی اوور، جو ظہیر آباد کے علاقے کو مرحوم فرید الدین صاحب کے آبائی گاؤں ھوتی (بی) سے جوڑتا ہے، ایک اہم انفراسٹرکچرل منصوبہ ہے۔ عوام کی جانب سے اس فلائی اوور کو ’’اسمارٹ سٹی فرید الدین فلائی اوور‘‘ کا نام دینے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ اورفلائی اوور کے قریب ان کا مجسمہ نصب کرنے کی بھی تجویز   دی ہے تاکہ ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جا سکے اور ان کی شخصیت کو ایک مستقل علامت کے طور پر پیش کیا جا سکے۔یہ اقدام نہ صرف ان کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے ہوگا بلکہ آنے والی نسلوں کو ان کے اصولوں اور جدوجہد سے متاثر کرے گا۔فلائی اوور کے قریب  خوبصورت  گارڈن کے ساتھ   مجسمہ نصب کیا جائے۔ جس سے  ان کی شاندار شخصیت کی عکاسی  ہو سکے۔یہ مجسمہ نہ صرف ان کی خدمات کی نمائندگی کرے گا بلکہ ظہیر آباد کے شہریوں کے لیے فخر کا باعث بھی بنے گا۔
یہ تجویز مقامی عوام اور کمیونٹی رہنماؤں ، ٹیپو کرانتی سینا کے صدر جناب محمد یوسف،مولانا  حافظ مبین احمد قاسمی، آصف  (اےٹو زیڈ)  محمد عبدالرحیم  و دیگر  ملی   و  سماجی  نوجوان  کثیر تعداد میں   سیٹوین چیر مین  جناب   گریدھر ریڈی  اور  اجول ریڈی سینئر  کانگریس لیڈر کا قیام گاہ  پہنچ کر  مذکورہ تجویز  پیش کی تو انھوں نے بھی بھرپور حمایت کی ۔سب کا ماننا ہے کہ یہ اقدام ظہیر آباد کی ثقافتی اور تاریخی شناخت کو مزید تقویت دے گا اور مرحوم فرید الدین کی شخصیت کو عزت دینے کا بہترین ذریعہ ہوگا۔فلائی اوور کا نام رکھنے اور مجسمہ نصب کرنے سے مقامی شہریوں کو اپنے شہر پر فخر ہوگا۔یہ اقدام ظہیر آباد کے تنوع اور مختلف ثقافتوں کی خدمات کے اعتراف کا عکاس ہوگا۔یہ مقام سیاحوں کے لیے دلچسپی کا باعث بنے گا اور نوجوانوں کے لیے ایک تعلیمی اور تاریخی علامت کے طور پر کام کرے گا۔عوامی حلقے اور کمیونٹی رہنما حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ اس تجویز کو جلد از جلد منظور کیا جائے تاکہ جناب فرید الدین مرحوم کی خدمات کو مستقل خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے۔ظہیر آباد کے عوام کو یقین ہے کہ یہ اقدام نہ صرف مرحوم کے کارناموں کی یادگار ثابت ہوگا بلکہ شہر کی  جمالیات میں ایک سنگ میل کی حیثیت اختیار کرے گا۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے