تصویر: جناب سید ذالفقارہاشمی تقریر کرتے ہوئے ایک یادگار تصویر
قادریہ پورہ گراؤنڈ بیدر سے ایک شام سابق ایم ایل اے کے نام سے اقبال الدین انجینئر کا خطاب
بیدر۔ 16؍ڈسمبر (پریس نوٹ) بیدر ایک تاریخی مقام ہے ۔ اس حلقہ سے کئی ایک قابل ذکرسیاسی قائدین رکن اسمبلی منتخب ہوکراپنے کردارواخلاق اور سیاسی بصیرت سے بیدرکی عوام کے مسائل بنگلور کی ودھان سودھاسے حل کروائے۔ جن میں ایک سید ذوالفقارہاشمی بھی تھے۔ 90کادہاتھا، وہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے ۔ کرناٹک کی عوام کو بہت جلد معلوم ہوگیاکہ بیدر سے نمائندگی کرنے والا شخص ایک عظیم سپوت ، شریف النفس اور صاف گو انسان ہے اور ایسا شخص ہے جو دستور کی حفاظت کے لئے اپنی آواز اٹھاتاہے۔ بلالحاظ مذہب وملت امیر ہویا غریب ، مسلم ہویا غیرمسلم ہر ایک کاچہیتاہے۔ اور انسانیت کی خدمت کے لئے اپنے جو بھی وسائل موجودہیں ان کے ذریعہ ہمہ وقت تیار رہتاہے۔ یہی وجہ تھی کہ حلقہ کاہرفراد انہیں اپنے گھر کے افراد میں سے ایک سمجھتاتھا۔ جب بھی بیدرمیں اپنے گھر میں رہتے صبح تڑکے سے ہی ان کادر بار شروع ہوجاتاتھا۔ لوگ سیاسی ، سماجی اور خاندانی مسائل انہیں سناتے تھے اور جو بھی مسائل اپنے کنڑول میں رہتے فوراً حل کرکے انھیں واپس بھیج دیاکرتے تھے۔ اور جن مسائل کے لئے جس شخص کے پاس جاناہو، فوراً جتنے لوگوں کے ساتھ باہرجاناہوکسی ایک کی موٹرسائیکل پر بیٹھ کرتمام مجمع کے ساتھ گھر کے باہر نکلتے ۔ ایک کے بعد ایک مسئلہ حل کرکے ہی واپس آتے تھے۔ بنگلورمیں ہوتے تو ان کے روم میں جوLHمیں الاٹ کیاگیاتھا، لوگ بیدرسے بنگلور سیدھے ان کے روم پہنچتے اور وہیں قیام کرتے۔ ہاشمی صاحب اپنی استطاعت سے ان کے کھانے کاکینٹن میں انتظام کرتے اور جتنے بھی لوگ اپنے اپنے مختلف کام سے آکر قیام کئے رہتے سب کے مسائل حل کرنے کیلئے گروپ کی شکل میں ودھان سودھا جاتے اور یکے بعد دیگرے سب کے مسائل حل ہونے تک اپنے ہی روم میں رکھ کرانہیں واپسی کے ٹکٹ کابھی انتظام کرکے گھر بھجواتے تھے۔ بیدرمیں مختصر عرصہ میں ہی ان کادربار اتنا مشہور ہوگیاتھاکہ روزانہ سینکڑوں خواتین اپنے خاندانی مسائل لاتیں اور ان کے گھر جاکر انہیں سمجھابجھا کر وہ مسئلہ حل کرنے تک دوسرے مسئلہ کے حل پر توجہ نہیں دیتے تھے۔ غرض سید ذوالفقار ہاشمی ایک عظیم سپوت تھے ۔ سیکولرزم پر ایقان رکھتے تھے۔ ریاستی اور قومی قانون لوگوں کوسمجھاتے تھے کہ دیکھو زندگی گزارنے میں قانون کے دائرہ میں رہو ۔بہت جلدبہوجن سماج پارٹی کے ساوتھ انڈیا کے اکلوتے MLAکی حیثیت سے شہرت پائی۔ کرناٹک ہی نہیں بلکہ آندھرا ، مہاراشٹرا جیسی ریاستوںکے لوگ ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے قائل ہوگئے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ان کی خدمت کوقبول فرمائے اورا ن کی مغفرت فرماے ۔انھوں نے جونیک اعمال کئے ہیں وہ قابل تقلید ہیں۔ ہم سب کو بھی صاف گوئی، سچائی اور امانت داری اور خوش اخلاقی سے زندگی گزارکر ہمارے شہر ، ہماری ریاست اور ہمارے ملک کانام روشن کرتے ہوئے پاکیزہ زندگی گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔
