کرناٹک ہندی پرچار سبھا کلبرگی میں منعقدہ تقریب سے محمد یوسف رحیم بیدری کا خطاب
بیدر۔ 16؍ڈسمبر (پریس نوٹ): اتوار کی صبح کلبرگی (گلبرگہ) کے کرناٹک ہندی پرچار سبھا کے احاطہ موقوعہ سیڑم روڈ کلبرگی میں کرناٹک ہندی پرچارسبھا گلبرگہ اورلوک ساہتیہ منچ کے اشتراک سے ممتاز ادیب، شاعر و صحافی جناب چندر بھان خیال کنوینر اردو ایڈوائزری بورڈ ساہتیہ اکاڈمی نئی دہلی کوتہنیت پیش کی گئی۔ جس کی صدارت لوک ساہتیہ منچ کے صدر ڈاکٹرماجد داغی (گلبرگہ) نے کی اور سرپرستی کافریضہ جناب اشوک گروجی نے انجام دیا۔ چندربھان خیال کی گلپوشی، شالپوشی اور چند تخلیقات کاتحفہ پیش کرتے ہوئے ان کی تاجپوشی کی گئی اور اس طرح انھیں تہنیت پیش کی گئی۔ گلبرگہ یونیورسٹی کلبرگی کے وائس چانسلر پروفیسر دیانند اگسر، بھی موجودتھے۔ اس موقع پر کئی ایک دانشوروں خواجہ اکرام الدین (دہلی)، جناب پروفیسر فاروق بخشی (دہلی)، جناب چندربھان خیال (دہلی) ڈاکٹرماجد داغی (گلبرگہ) اور لکشمن دستی وغیرہ نے خطاب کیا۔
اس تقریب میں اردو کے صحافی ، شاعروادیب جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہندی ہماری راج بھاشا ہے اس کا اپمان نہیں کیاجانا چاہیے۔ اسی طرح ہندوستان بھر کی دیگر زبانوں کو بھی پنپنے، پھلنے پھولنے کا موقع ملے۔ دونوں طرف سمجھانے کی ضرورت ہے۔ موصوف نے مرکزی حکومت سے اشارتاً کہاکہ جب حکومت چھوٹی ذاتیوں اور پچھڑے ورگ کی ترقی کے لئے کام کررہی ہے اور اس کی بابت تشہیر کی جارہی ہے تو پھر زبانو ں کے معاملے میں بھی حکومت کادِل بڑا اورایک متفقہ واضح پالیسی ہونی چاہیے۔
جرمن اور چین ایسے ممالک ہیں جوانگریزی کے بغیر ترقی کررہے ہیں، وہ اپنی مادری زبان کواہمیت دیتے ہیں۔ لہٰذا مادری زبان کی اہمیت آج کے سیناریو میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ انھوں نے پیان انڈیا فلموں کی کمائی کے حوالے سے بھی بتایاکہ آج فلموں میں کرناٹک کی کنڑی فلموں اور جنوبی ہند کی دیگر زبانوں (خصوصاً تیلگو، ٹمل) نے بازی مارلی ہے۔ ہماری پہچان میں بہت زیادہ حوالوں سے اشتراک ہے۔ اس اشتراک کو باقی رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ میں اشوک گروجی سے پر امید ہوں کہ وہ اس سلسلے کو جاری رکھیں گے۔
اس موقع پر ڈاکٹر لکشمن دستی ، بسواراج دیشمکھ ، پروفیسر پی کے تیواری ،ڈاکٹر پیر زادہ فہیم، پروفیسر پریملا امبیڈکر ، ڈاکٹر دلیپ رامپورے ، جناب مبین احمد زخم ، جناب ایاز پٹیل وغیرہ موجودتھے۔ پروگرام کے ختم پرریفرشمنٹ کاانتظام کیاگیاتھا۔
