پرویز یعقوب مدنی
خادم جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال
ملک نیپال کو یہ عظیم اور خوش کن شرف حاصل ہوا کہ وزارت برائے اسلامی امور و دعوت و ارشاد کے تعاون سے دو روزہ عظیم الشان دورہ شرعیہ تاصیلیہ بتاریخ 11-12 دسمبر 2024م پورے تزک واحتشام کے ساتھ منعقد ہوا. اور پورے آب و تاب سے دو دن تک جاری رہا جس میں مختلف علمی موضوعات پر اہم اور بیش بہا اور بیش قیمت محاضرہ کیا گیا۔ پروگرام کی افتتاحی نششت کی صدارت مادر علمی جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال کے باوقار ناظم جامعہ حضرت مولانا شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ نے فرمائی۔ جامعہ کے ایک ہونہار طالب علم نے تلاوت کلام باری تعالیٰ سے بزم کا آغاز کیا۔ خطبہ استقبالیہ جامعہ کے استاذ ڈاکٹر عبد الغنی مدنی نے بیش کیا اور ترحیبی کلمات فضیلتہ الشیخ عبد القیوم مدنی نے پیش کرتے ہوئے دورہ کے اہداف و مقاصد کو مختصر اور جامع انداز میں پیش کیا بعدہ ناظم جامعہ فضیلتہ الشیخ شمیم احمد ندوی نے انتہائی جامع صدارتی خطاب کرتے ہوئے دعائیہ کلمات کے ذریعہ مجلس کے اختتام کا اعلان فرمایا۔
پھر بوقت 9 بجے صبح سے علمی محاضرات کا سلسلہ شروع ہوا پہلا محاضرہ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال کے شیخ الحدیث حضرت مولانا خورشید احمد سلفی نے جماعت اسلامی کے عقائد وافکار کا انتہائی بہترین انداز میں پیش فرمایا، دوسرا محاضرہ جامعہ کے مربی انجمن ومعتمد تعلیمات فضیلتہ الشیخ قمرالدین ریاضی نے عالم اسلام کی نامور شخصیت شیخ الاسلام علامہ محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ کی ایک انتہائی جامع اور مختصر ترین کتاب "الأصول الستة” پر جامع محاضرہ پیش کیا بعدہ تیسرا محاضرہ جامعہ کے وکیل الجامعہ فضیلتہ الشیخ ڈاکٹر شہاب الدین "مقدمہ فی اصول التفسیر” پیش کیا۔ پہر پہلی نششت ختم ہوگئی۔ بعدہ طلبہ نے نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد ظہرانہ تناول کیا۔ پہر تیسری نششت بعد نماز عصر خاکسار پرویز یعقوب مدنی کی نظامت میں ہوئی جس میں جامعہ کے مدیر الامتحانات ڈاکٹر عبدالغنی نے "علمانیت اور الحاد” کے موضوع پر پیش کیا، یہ نششت اذان مغرب تک چلتی رہی۔
پہر نماز مغرب کے بعد پانچواں محاضرہ خاکسار برویز یعقوب مدنی نے "بریلویت اور ان کے باطل اور کفریہ عقائد وافکار” کو پیش کیا، پہر جھٹواں محاضرہ شیخ الجامعہ فضیلتہ الشیخ عبد الرشید مدنی نے "ہندومت” کے موضوع پر پیش فرمایا اور یہ نشست اذان عشاء تک چلتی رہی پہر طلبہ نے نماز عشاء کی ادائیگی کے بعد شام کا کھانا تناول فرمایا۔ اور پہلے دن کی تمام نشستیں ختم ہوگئیں۔
پہر دوسرے دن پروگرام کا آغاز ہوا۔ جامعہ کے ایک طالب نے آٹھ بجے تلاوت کلام ربانی سے ساتواں محاضرہ فضیلتہ الشیخ وصی اللہ مدنی "جامع بخاری کی کتاب الفتن” پر پیش کیا۔ اسی طرح آٹھواں محاضرہ فضیلتہ الشیخ انعام اللہ مدنی نے "قادیانیت’ فتنہ گوہر شاہی، فتنہ شکیل بن حنیف” کے موضوع پر پیش کیا اسی طرح نواں اور آخری محاضرہ جمعیتہ التوحید الخیریہ کے باوقار ناظم اور جماعت اہل حدیث کی عظیم علمی اور جماعت کی عبقری شخصیت ڈاکٹر بدر الزمان مدنی نے "تبلیغی جماعت پر ایک معتبر نظر” کے موضوع پر پیش فرمایا۔
پہر اس کے فورا بعد اختتامی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت ناظم جامعہ فضیلتہ الشیخ شمیم احمد ندوی حفظہ اللہ نے فرمائی۔ کلمہ شکر و سپاس شیخ عبدالقیوم مدنی نے پیش کیا پہر تاثراتی کلمات پیش کئے گئے اور اس کے معا بعد تمام محاضرین دورہ اور مشارکین کی تکریم کی گئی. پہر کفارة المجلس کے بعد مجلس کے اختتام کا اعلان ہوا۔ الحمد لله بنعمته تتم الصالحات.
