لکھنؤ: جماعت اسلامی ہند کے امیر اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نائب صدر سید سعادت اللہ حسینی کی لکھنؤ آمد پر اسلامک سینٹر آف انڈیا،عیش باغ میں امام عیدگاہ مولانا خالد رشید فرنگی محلی کی جانب سے استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرنگی محل مدارس کے حوالہ سے بہت ہی اہم ادارہ ہے۔ ایسے تاریخی مرکز پر حاضری میرے لیے مسرت کی بات ہے۔
اس وقت ہندوستان کا مسلمان انتہائی تاریخی، فیصلہ کن اور نازک موڑ پر ہے۔ لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، سخت سے سخت حالات کا بھی مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ ظلم کبھی لمبے وقت تک نہیں رہتا ہے یہ تیزی سے آتا ہے اور تیزی سے چلا جاتا ہے، لیکن اس کے نتیجہ میں ہونے والی مایوسی اور خوف کا ماحول لمبے وقت تک رہتا ہے۔

امیر جماعت سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ اس وقت مسلم امت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ امت کو مایوسی سے بچایا جائے اور اس کے اندر ذرہ برابر بھی انتہاپسندی پائی جاتی ہے تو اس سے بھی روکا جائے، اور اسے ہمت و حوصلہ پر ابھارا جائے۔
اسلامی تاریخ میں آزمائش اول روز سے رہی ہے۔ قرآن جب نازل ہو رہا تھا وہ سخت آزمائش کا دور تھا لیکن پورے قرآن میں کہیں مایوسی کی بات نہیں کی گئی ہے بلکہ ہمیشہ حوصلہ کن باتیں کی گئی ہیں.
اس امت کے مسائل کا حل قلیل وقتی نہیں ہے بلکہ طویل وقتی ہے۔ اس کے لیے تین کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ملک کے رائے عامہ کو ہموار کیا جائے۔ اسلام کے سلسلہ میں اگر برادران وطن غلط فہمیوں کے شکار ہیں تو اس غلط فہمی کو دور کرنا چاہیے۔ اسلام کے سلسلہ میں ملک کی رائے عامہ کو مثبت رخ دینے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ برادران وطن سے اپنے روابط کو مضبوط کریں۔
دوسرا لانگ ٹرم پلان یہ ہے کہ امت کو تعلیم، تجارت، اور معاشی طور سے مضبوط کیا جائے۔ ان دونوں پلان پر اگر عمل کیا جائے تو مسلمان خود بخود آزمائشوں سے نکلیں گے۔

پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے امام عیدگاہ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ آج کے خطاب کا یہ حاصل ہے کہ ہم ناامید نہ ہوں بلکہ اللہ نے ہمیں جتنی بھی استطاعت دی ہے، اس کا استعمال کرتے ہوئے تعمیری رخ پر اپنے امور کو انجام دیں۔ ہم وطنی بھائیوں سے اچھے رشتے استوار کریں تاکہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کر سکیں۔
پروگرام کی نظامت ناظم شہر ڈاکٹر امجد سعید فلاحی نے کی۔ مولانا نعیم الرحمان صدیقی ندوی نے امیر جماعت کی خدمت میں سپاس نامہ پیش کیا۔ ارشد اعظمی نے تشکراتی کلمات پیش کیے۔
اس موقع پر بڑی تعداد میں معززین شہر، سماجی و سیاسی کارکنان، صحافی اور وکلاء نے شرکت کی۔
