• ہندوستان کی ایک ہزار سالہ تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان بھائی چارہ، امن اور قومی یکجہتی کی آماجْگاہ  
  • خواجہ محمد اکرام الدین، فاروق بخشی، ڈاکٹر لکشمن دستی،یوسف رحیم بیدری اور ڈاکٹر ماجد داغی و دیگر کا خطاب 
گلبرگہ 19/ڈسمبر(پریس نوٹ): لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ کے زیرِاہتمام احاطہ کرناٹک ہندی پرچار سبھا گلبرگہ میں اردو کے ممتاز نعت گو شاعر،ادیب و صحافی چندربھان خیال کے اعزاز میں منعقدہ تہنیتی تقریب میں چندربھان خیال کا پرتپاک خیرمقدم کیا گیا اور ان کی بے مثال ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے لوک ساہتیہ منچ کے بانی سیکریٹری و موجودہ صدر ڈاکٹر ماجد داغی نے وائس چانسلر گلبرگہ یونیورسٹی پروفیسر دیانند اگسر کے ہاتھوں چندربھان خیال کو تاجپوشی، موتیوں کا ہار اور شال اڑھا کر ذی وقار اعزاز سے سرفراز کیا۔ ڈاکٹر ماجد داغی صدر لوک ساہتیہ منچ نے جناب چندر بھان خیال کنوینئر اردو ایڈوائزری بورڈ ساہتیہ اکاڈمی دہلی و دیگر معزز مہمانان کا استقبال کیا. جناب چندربھان خیال نے لوک ساہتیہ منچ اور کرناٹک ہندی پرچار سبھا کی جانب سے اعزاز عطا کئے جانے پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے لوک ساہتیہ منچ اور سبھا کا شکریہ ادا کیا اور اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں ہر رنگ و نسل کا آدمی ملتا ہے۔ اس سلسلے میں فراق کا شعر سنایا کہ ؎
سرزمینِ ہند پر اقوامِ عالم کے فراقؔ
قافلے آتے گئئے ہندوستاں بنتا گیا
            اور کہا کہ یہ شعر ہندوستان کی تاریخ و تہذیب کی پہچان و ترجمان ہے۔ اور لوک ساہتیہ منچ مختلف زبانوں، مذاہب اور علاقے کے قلمکاروں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر کے ہندوستانی تہذیب و تمدن، بھائی چارہ اور قومی یکجہتی کو تحفظ فراہم کر رہا ہے. انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں ہر زبان کو عزت و وقار حاصل  ہے۔ ہر مذہب کے لوگوں کو یہاں بولنے، رہنے کھانے پینے اور ہر طرح کی آزادی ہے۔ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں ہرمذہب کے لوگ مل جل کے رہتے ہیں۔ کبھی کوئی فساد نہیں، کبھی کوئی دنگا نہیں، چھوٹی موٹی باتیں تو ہر گھر میں ہوتی ہیں۔ ایک ہی رنگ، ایک ہی زبان اور ایک ہی مذہب کے لوگ جہاں رہتے ہیں وہاں بھی آپس میں لڑائیاں ہو جاتی ہیں، تو کئی زبانوں، بھاشاؤں اور مذاہب کا ملک ہے۔ چھوٹی موٹی باتوں کا ہو جانا فطری بات ہے۔ انہوں کہا کہ ہندوستان کی ایک ہزار سالہ تاریخ شاہد ہے کہ ہندوستان بھائی چارہ، امن اور قومی یکجہتی کی آماجْگاہ ہے.
پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سنٹر آف انڈین لینگویجز، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی دہلی نے ہندی اور اردو کے رشتوں کو اٹوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندی اور اردو میں صر ف اتنا فرق ہے کہ ہم خواب دیکھتے ہیں اور وہ سپنا۔ پروفیسر فاروق بخشی سابق صدر شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر ہندوستانی تہذیب و ثقافت کے لئے لوک ساہتیہ منچ اور کرناٹک ہندی پرچار سبھا کی ستائش کی۔جناب محمد یوسف رحیم بیدری نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہندی ہماری راج بھاشا ہے، اس کا اپمان نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ہندوستان بھر کی دیگر زبانوں کو بھی پنپنے اور پھلنے پھولنے کاموقع ہمارے بھارت میں ملے۔ دونوں طرف سمجھانے کی ضرورت ہے۔ موصوف نے مرکزی حکومت سے اشارۃً کہاکہ جب حکومت چھوٹی ذاتوں اور پچھڑے ورگ کی ترقی کے لئے کام کررہی ہے اور اس کی تشہیر کی جارہی ہے تو پھر زبانوں کے معاملے میں بھی حکومت کادِل بڑا ہونا چاہیے اورزبانوں سے متعلق ایک واضح پالیسی ہونی چاہیے۔
لکشمن دستی صدر کے کے ہوراٹا سمیتی نے کہا کہ میں گلبرگہ اور کرناٹک کی عوام کی جانب سے جناب چندربھان خیال کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ کلیان کرناٹک دراصل غیر معمولی جگہ کا نام ہے۔ جہاں وگنیانیشور نے ’’متاکشرا‘‘ کے ذریعہ دنیا کو اولین ہندو آئین پیش کیا۔ حضرت خواجہ بندہ نواز ؒ نے صوفی گرنتھ دیا۔ بسویشور کی قیادت میں دنیا کو نظامِ جمہوریت اور پارلیمنٹ کا عملی نمونہ ’’انوبھومنٹپ‘‘ قائم کیا۔ وچن ساہتیہ، داس ساہتیہ، شرن ساہتیہ اس علاقے کی دین ہے۔ اس علاقہ کی اتنی عظیم تاریخ ہے۔ بودھ، جین، صوفی، ویشنو پرم پرا کے آثار بھی یہاں پائے جاتے ہیں۔ تمام پرمپراؤں کو لے کر سماجی اسباق دوہرائے گئے۔ نظام کے دور میں بھی اچھے کام ہوئے ہیں۔ ایم ایس کے مل، فیکڑیاں، انڈسٹریز اور بنیادی سہولیات انھوں نے ہمیں دیں۔ ان عظیم کارناموں کو ہم یاد رکھیں گے۔ ہمارے پہلے گورنر میر عثمان علی خان تھے۔ اس تاریخ کو نصاب میں کیوں نہیں پڑھایا جاتا۔ اس طرح تاریخ سے متعلق بہت سی باتیں لکشمن دستی نے بیان کیں اور ڈیموکریسی کو اس ملک کی بنیاد قرار دیا۔ اشوک گروجی سیکریٹری کرناٹک ہندی پرچار سبھا نے کرناٹک ہندی پرچار سبھا کا کی سرگرمیوں سے متعلق اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم ادب، ثقافت، صحت اور قومی یکجہتی و بھائی چارہ کے لئے مختلف موضوعات پر پروگرام کرتے ہیں۔ ان پروگراموں میں ملک کی نامور شخصیات، بڑی بڑی ہستیوں کو مدعو کیا اور ان کے مفید تجربات و خیالات کو عام کیا۔ کرناٹک ہندی پرچارسبھا بھاشاؤں کو بھاشا کے نقطہء نظر سے دیکھتی ہے۔ وہ بھارتی بھاشاؤں کے تحفظ کو اولیت دیتی ہے۔ قبل ازیں ڈاکٹر ماجد داغی صدر لوک ساہتیہ منچ نے چندربھان خیال کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ممتاز نعت گو شاعر، ادیب و صحافی جناب چندر بھان خیال کنوینئر اردو ایڈوائزری بورڈ ساہتیہ اکاڈمی دہلی کے شاعری کی شہرت برِصغیر ہند و پاک کی سرحدوں سے پار ایشیاء اور سارے عالمِ اردو کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ہے. انہوں نے کہا کہ چندربھان خیال نے شعر و سخن، فکر و فن اور تقدیسی شاعری میں اپنے کمالِ ہنرمندی کا لوہا منوایا اور ایران میں سہ روزہ عالمی نعتیہ کانفرنس کے موقع پر ایران کے قابلِ تعظیم امام نے انہیں ایران کا خصوصی ایوارڈ تفویض کیا ڈاکٹر ماجد داغی نے چندر بھان خیال کی صحافتی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ چندربھان خیال اپنی صحافتی سفر کا آغاز روزنامہ ”تیج” سے کیا اور بعدازاں انہوں نے ” سویرا ”، ” قومی آواز” اور دیگر اخبارات میں اپنی صحافتی خدمات انجام دیں۔ چندر بھان خیال کی غیر معمولی صلاحیتوں اور ادبی خدمات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ چندربھان خیال قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی کے وائس چیئرمین کی حیثیت سے بھی قابلِ قدر خدمات انجام دی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اب تک چندربھان خیال کی 10  کتابیں شعلوں کا شجر،گمشدہ آدمی کا انتظار، کمار پاشی: شاعری اور شخصیت، سلگتی سوچ کے سائے،  لولاک (حضرت محمدﷺ کی سیرت پر مبنی طویل نظم)، صبح مشرق کی اذاں، کلیاتِ کمار پاشی،  احساس کی آنچ، تازہ ہوا کی تابشیں کے علاوہ انگریزی میں ترجمہ شدہ نظموں کا مجموعہ ” انڈر دی سن” (Under the Sun) شائع ہو کر منظرِ عام پر آچکے ہیں۔چندر بھان خیال کی فکر و فن پر اردو کے کئی موقر رسالوں نے ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے یادگار خصوصی نمبر شائع کئے.
ڈاکٹر ماجد داغی نے کہا کہ چندربھان خیال کو بین الاقوامی اور ملک کے قومی و ریاستی اداروں نے کئی انعامات واعزازات سے سرفراز کیا۔ مدھیہ پردیش حکومت کا اقبال سمّان۔ ساہتیہ اکادمی اور سیم سنگ انڈیا کا ٹیگور لٹریچر ایوارڈ، * اتر پردیش اردو ساہتیہ کمیٹی ایوارڈ. *  آل انڈیا یونانی طبی کا نفرنس ایوارڈ برائے قومی یکجہتی. * نیوفینس ایوارڈ برائے ” لولاک” * دہلی اردو اکادمی ایوارڈ برائے شاعری * مدھیہ پردیش اردو اکادمی ”شعری بھوپالی ایوارڈ” برائے شاعری. * یوپی اردو اکادمی ایوارڈ برائے شاعری دیگر دوسری عالمی اردو کانفرنس نئی دہلی کا اعزازی سکریٹری، دہلی اردو اکادمی گورننگ کونسل کے دو مرتبہ ممبر نامزد * قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان، حکومت ہند کے وائس چیئر مین، * ایگزیکٹیوممبر، ساہتیہ اکادمی، حکومت ہند نئی دہلی، *  کنوینئر و رکن، اردو مشاورتی بورڈ، ساہتیہ اکادمی، حکومت ہند نئی دہلی *  رکن، اردو مشاورتی بورڈ نیشنل بک ٹرسٹ آف انڈیا، حکومت ہند نئی دہلی * ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  جیسے قابلِ فخر اعزازات و انعامات سے سرفراز کیا. انہوں نے کہا کہ چندربھان خیال سماج میں طبقاتی درجہ بندی، معصوم، مظلوم اور کمزوروں کے ساتھ انصاف رسانی میں غفلت، عورت کے استحصال جیسے شعری موضوعات پر پُر زور اظہارِ خیال کرتے ہیں ان کے سینے میں موجود ایک درد مند دل کی کربناکی، پریشانی اور اضطرب کا مظہر ہیں اور سماج کی ان ناہمواریوں کے خلاف چندربھان خیال کی قلمی لڑائی بصورتِ ادیب و حساس شاعر اور ایک ذمہ دار صحافی آج بھی جاری ہے.
ڈاکٹر ماجد داغی نے چندر بھان خیال اور گلبرگہ سے ان کے رشتے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چندربھان خیال کا تعلق مجتبٰی حسین کے انتہائی مخلص ترین احباب میں ہوتا ہے جو زندگی کے آخری ساڑھے چار دہائیوں تک ساتھ رہے. لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ ان کا شہر گلبرگہ میں دلی خیر مقدم کرتی ہے. قبل ازیں ڈاکٹر ماجد داغی بانی سیکریٹری و موجودہ صدر لوک ساہتیہ منچ نے ممتاز مجاہدِ آزادی شری ودیا دھر گروجی کے حوالے سے ہمہ لسانی ادبی تنظیم لوک ساہتیہ منچ کے قیام اور اغراض و مقاصد اور تین دہائیوں پر محیط سرگرمیوں پر بھی اختصارً روشنی ڈالی۔ پروفیسر پی کے تیواری سابق وائس چانسلر جی یو کے، مسٹر اشوک گروجی سیکریٹری کرناٹک ہندی پرچار سبھا پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نئی دہلی سنٹر آف انڈین لینگویجز، لٹریچر اینڈ کلچر اسٹڈیز، جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی، پروفیسر فاروق بخشی سابق صدر شعبہ اردو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد، ممتاز ادیب، شاعر و صحافی محمد یوسف رحیم بیدری، پروفیسر دیانند اگسر وائس چانسلر گلبرگہ یونیورسٹی اور ڈاکٹر لکشمن دستی سیکریٹری کلیان کرناٹک پردیشدا اتہاس رچنا سمیتی نے بھی لوک ساہتیہ منچ گلبرگہ کی ادبی خدمات پر اظہارِ خیال فرمایا۔ اس موقع پر معزز مہمانان پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین، پروفیسر فاروق بخشی،  ممتاز سینئر صحافی شاعر و ادیب جناب محمد یوسف رحیم بیدری، ڈاکٹر لکشمن دستی اور سید عبدالرؤف قادری، جناب پیرزادہ فہیم الدین کو بھی تہنیت پیش کی گئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے