مولانا سید محمود الحسن ندوی کی کتاب ( مشرق وسطی ) کا اجراء
لکھنؤ(پریس ریلیز) ۲۰؍ دسمبر عالم اسلام ایک انسانی جسم کی طرح ہے ، جس کے ایک حصہ میں تکلیف ہوتو دوسرا حصہ محسوس کرتا ہے ، اسی طرح عالم اسلام کے مسائل سے واقف ہونا دینی وایمانی فریضہ ہے ، حدیث پاک میں آیا ہے جو مسلمانوں کے معاملات سے دلچسپی نہیں رکھتا ، وہ ہم سے نہیں ہے ، ان خیالات کا اظہار مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی مہتمم دار العلوم ندوۃ العلماء نے عربی زبان وادب کے ممتاز ادیب و صحافی، و سابق استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء مولانا سید محمود الحسن ندوی ( پیدائش ۱۹۳۱ء )کی ایک کتاب ( مشرق وسطی ) کا اجراء اپنی قیام گاہ پر کرتے ہو ئے کیا ، مولانا نے کہا : مولانا سید محمود الحسن ندوی نے ۱۹۶۰ء سے پہلے دار العلوم ندوۃ العلماء میں تدریسی خدمت انجام دی ، اس کے بعد عراق گئے ، اور عرصہ تک وہاں قیام رہا ، پھر آل انڈیا کے شعبہ عربی نیوز سے منسلک ہو گئے ، مولانا سید محمود الحسن ندوی نے اپنی ملازمت کے دوران قدیم روزنامہ قومی آواز میں عالم اسلام کا کالم ایک عرصہ تک لکھا ، اسی کالم کے مضامین کو جمع کرنے کا کام پروفیسر سید وسیم اختر چانسلر انٹگرل یونیورسٹی نے کیا ہے ، اور عمدہ طباعت سے مزین کیا ہے ، اس کتاب پر حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی نے مقدمہ بھی لکھا ہے ، اس کے لئے پروفیسر سید وسیم اختر قابل مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہیں ۔
عالی جناب سید وسیم اختر صاحب نے کہا : مشرق وسطی کے نام سے جو کتاب آپ کے ہاتھوں میں ہے ، وہ ہمارے خال معظم مولانا سید محمود الحسن ندوی کے شاداب و سیال قلم کی یادگار ہے ، انہوں نے ندوہ میں تعلیم حاصل کی اور بیرون ملک بھی ان کو کام کرنے کا موقع ملا ، ان کی دنیائے اسلام پر گہری نظر تھی ، اس لئے انہوں نے جو کچھ لکھا ہے ، خاصے مطالعہ اورتجزیہ کے بعد لکھا ، ان کے چھوٹے بھائی پروفیسر ضیاء الحسن ندوی سابق صدر شعبہ جامعہ ملیہ اسلامیہ تھے ۔ خال معظم حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے رفیق درس رہے ، اور مولانا سید واضح رشید حسنی ندوی کے ساتھ دہلی ریڈیو اسٹیشن میں کام کیا ۔
واضح رہے کہ یہ کتاب تقریبا ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل ہے ، عمدہ کاغذ اور گٹ اپ کے ساتھ شائع ہوئی ہے ۔اجراء کے اس موقع پر مولانا قاری محمد ریاض مظاھری ، مولانا نجیب الحسن صدیقی ندوی ، مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی ، مولانا مناظر الاسلام ندوی ، مولانا عبد اللہ مخدومی ندوی ، محمد عفان ندوی ، عبید الرحمن اعظمی ، محمد مزمل حسین ندوی ، ذبیح اللہ ندوی وغیرہ موجود تھے ۔
