ہزاروں فرزندان توحید نے عیدالفطر کی نماز ادا کر کے ملک و ملت کی خوشحالی اور آپسی اتفاق واتحاد کے لیے دعا مانگی
رپورٹ: باقر حسین قادری برکاتی انواری
سہلاؤشریف، باڑ میر/ پریس ریلیز:
رمضان المبارک کے پاکیزہ مہینہ کے مکمل ہوتے ہی شوال المکرم کی پہلی تاریخ کو جہاں دنیا بھر میں کروڑوں مسلمانوں نے سنیچر کو انتہائی عقیدت ومحبت اور جوش وخروش کے ساتھ دورکعت نماز عیدالفطر اداکی وہیں علاقۂ تھارکی مرکزی دینی درسگاہ دارالعلوم انوارمصطفیٰ درگاہ حضرت پیرسیدحاجی عالی شاہ بخاری علیہ الرحمہ کے احاطہ میں واقع عظیم الشان غریب نواز مسجد میں ہزاروں مسلمانوں نے امن وآشتی،خشوع وخضوع اور محبت وبھائی چارگی کے ساتھ وقت مقررہ پر عیدالفطر کی نماز ادا کی-
عیدالفطر کی نماز نورالعلماء پیرطریقت حضرت علامہ الحاج سیدنوراللہ شاہ بخاری نے پڑھائی-
نماز عیدالفطر سے قبل آپ نے لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عیدالفطر ہم مسلمانوں کابہت ہی بڑا تہوار ہے اور یہ انتہائی رونق بخش دن ہے،دنیا کے کونے کونے میں جہاں کہیں بھی مسلمان آباد ہیں اس دن عید مبارک…عیدمبارک کی صدائیں سنائی دیتی ہیں،ایک دوسرے سے بغلگیر اور مصافحہ ومعانقہ کرتے ہوتے ہوئے لوگ نظر آتے ہیں،جو آپسی اتفاق واتحاد کی بہترین نظیر ہے-یہ کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ ایک عظیم تحفہ ہے جو عبادت وریاضت کے مہینے رمضان المبارک کے اختتام پر حاصل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس دن کو یوم الانعام یعنی انعام کا دن بھی کہاجاتا ہے،اس تہوارکی رونق اور خوشی کے کیا کہنے-
عید کا نام آتے ہی کیابچہ کیاجوان کیا بوڑھا سب کے چہرے کھل اٹھتے ہیں،کیونکہ سب کو اس بات کا احساس ہے کہ یہ خوشی ایک ماہ کی عبادت کے بعد میسر ہوتی ہے-
دنیا بھر میں عید کاایک ہی پیغام ہے اور وہ پیغام خوشی ومسرت اور امن ومحبت کا پیغام ہے-
آپ نے ان باتوں کے علاوہ مزید اور بھی کچھ اہم ومفید ناصحانہ باتیں کیں-
نماز عیدالفطر کے بعد حضرت قبلہ پیر سیدنوراللہ شاہ بخاری نے عبادت وریاضت کی قبولیت اور ملک وملت کی بہتری کے لیے خصوصی دعا کی، بعدہ لوگوں نے آپس میں مصافحہ ومعانقہ کرکےایک دوسرے کو عیدالفطرکی مبارکبادی پیش کی-

