کتبہ: محمد محب اللہ بن محمد سیف الدین المحمدی

 

قوانین اور اصولوں کے مطابق زندگی گزارنا نظم و ضبط، تنسیق و ترتیب ،استقامت و استقلال ،مستقل مزاجی اور استحکام کا پابند بناتا ہے۔ اصول و ضابطے وضاحت کرتے ہیں کہ ایک فرد کے کیا ترجیحات ہونے چاھئے؟ انہیں اس فانی زندگی کو کیسے گذارنا چاھئے ؟  ایک بہترین فکر پروان چڑھتی ہے ، فردی وسماجی زندگی کے کچھ اصول بنتے ہیں ، لیکن انسان بے اعتدالی اور بے رخی پر اسطرح چل پڑا ہے کہ پورا سماجی سسٹم ہی درہم برہم ہوگیا ہے، مثال کے طور پر حب الذات اور میں ہی میں کے مسئلہ کو لیجئے ۔  یہ حب الذات اور اعجاب بالنفس انتہائی خطرناک اذیت رساں مرض ہے ،  جسے یہ مرض لاحق ہوجاۓ وہ اپنا   دین وایمان و پروقار اصولی شخصیت  سب کچھ گنوا بیٹھتا ہے ، انسان جب بے وقعت ہوتا ہے پیشے اور پیسے کا بندہ بنتا ہے تو وہ اپنے خودی کا بھی سودا کرلیتا ہے چاپلوسی کی ان  کو عادت ہو جاتی ہے ،خیر وشر حق وباطل ،سیاہ وسفید کے مابین خط امتیاز مٹ  جاتی ہے ، وہ تھوک کے بھاؤ بکنے والا ایک بے قیمت  انسان  بن جاتا ہے ، جب اصول اور ضابطے مناھج وحقائق کا خون ہوتا ہے تو بے ضمیروں لئیموں اور فسادیوں کا جتھہ تیار ہوتا ہے جو سماج اور سوسائٹی کو اندر سے دیمک کی طرح چاٹ چاٹ کر کھوکھلا کرکے برباد کر دیتا ہے ،

آج المیہ ہے کہ چوں طرفہ فساد ہی فساد ہے  بگاڑ ہی بگاڑ ہے حب الذات سے شروع ہونے والا فتنہ خواص تک کو دستک دۓ چکا ہے اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ حثالوں کے اس فتنے کا شکار ہو چکے ہیں ،میں سوچتا ہوں کہ کبھی کبھی خودی کو بھی پڑھ لینا چاہئیے لیکن یاد رہے عرفان نفس کاملکہ اچھی طرح پڑھنے اور متانت وسنجیدگی کے کچھ مراحل گزر جانے کے بعد آتی ہے ،اصولی زندگی کی شان ہی کچھ الگ ہے جو حضرت کو خوش کرنے کے لیے اچھے برۓ سب میں ہاں ہاں کرۓ ،ماشاءاللہ سبحان اللہ کا رٹ لگاۓ ایسے ضمیر فروشوں کی آج کل کمی نہیں ۔ اور یاد رکھئے  یہ بہت خطرناک بیماری ہے ۔ اصول اور ضابطوں سے نظام زندگی کو مرتب کیجئے نہیں تو خس وخاشاک کے مثل آپ عشوائیت کے اس طوفان بلا خیز میں بہہ جائیں گے ۔ اللّٰہ خیر کرۓ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے