انسان میں حیا ہی وہ اندرونی ملکہ اور عظیم جوہر ہے جو اسے اخلاق فاضلہ پر ابھارتی ہے۔
مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی
ہمارا دینِ اسلام چار اہم بنیادوں پر قائم ہے، یا یوں کہیں کہ دین کو چار بنیادی خانوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1۔ عقائد و ایمانیات 2۔ عبادات 3۔ معاملات 4۔ آداب و اخلاق۔
آداب و اخلاق کے امور و مسائل میں ایک اہم مسئلہ جس پر تمام اخلاقیات کی بنیاد ہے وہ ہے "حیا”۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "إن لكل دين خلقا، وخلق الإسلام الحياء” (رواه ابن ماجه وحسنه الألبانى)
حیا کی اہمیت یہ ہے کہ وہ دین کا حصہ ہے، بلکہ حیا تو پورا کا پورا دین ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ” بل هو الدين كله” بلکہ حیا ہی پورا دین ہے-
(صحیح الترغیب والترہیب)
حیا کی اہمیت و عظمت اور اس کی فضیلت کی واضح دلیل یہ ہے کہ وہ ایمان کا ایک شعبہ ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں حدیث وارد ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
"والحياء شعبة من الإيمان”
حیا ایمان کی شاخ ہے.
حیا انسان کے اندر وہ اندرونی ملکہ اور پوشیدہ خصلت ہے جو اسے نازیبا و غیر شائستہ حرکت و عمل سے باز رکھتی ہے اور بھلی بات کہنے اور بھلا کام کرنے پر ابھارتی ہے، حیا وہ صفت ہے جو تقوی، صلاح اور حسن قول و عمل پر ابھارتی ہے اور حرام نیز فحش قول و فعل سے اجتناب میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔
حیا کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم فطری ہے جیسے کہ ہر انسان میں ستر عورت کی صفت اور خصلت و عادت پائی جاتی ہے
قرآن کریم میں آدم و حوا علیہا السلام کے قصہ میں آتا ہے کہ جب انہوں نے درخت کو چکھ لیا تو وہ بے ستر ہو گئے تو وہ دونوں جنت کے پتوں سے اپنی ستر پوشی کرنے لگے۔
دوسری قسم ایمانی و شرعی حیا ہے، انسان اللہ تعالی کے خوف و خشیت کی بنا پر اس کی اطاعت کرے اور حرام اور معصیت کے کاموں سے پرہیز کرے، یہ انسان میں اس وقت پائی جاتی ہے جب وہ اللہ تعالی کو اپنا رقیب و نگراں سمجھتا ہے۔”… إن الله كان عليكم رقيبا”
حیا ایمان کا ایک شعبہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک انسان کے پاس ہوا جو اپنے بھائی کو حیا کی بابت پندو موعظت کر رہا تھا، آپ نے کہا : اسے چھوڑو! حیا تو ایمان کا حصہ ہے۔
یہ بات یاد رہے کہ حیا اور ایمان دونوں ساتھی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم ہیں، اس لیے اللہ تعالی سے صحیح معنوں میں پوری طرح حیا کرنا چاہیے ، نیز حیا سراپا خیر ہے اس سے خیر ہی حاصل ہوتا ہے۔
بندہ مسلم کو چاہیے کہ وہ خود کو اس عظیم صفت سے آراستہ وپیراستہ رکھے ۔ آمین یا رب العالمین۔
