یوم ولادت 8؍ جنوری پر خصوصی تحریر

ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ناظم جامعۃ الفیصل ۔تاج پور۔ضلع بجنور

اللہ نے انسان کو کس قدر صلاحیتیں عطا فرمائی ہیں ۔اس کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب کسی غیر معمولی صلاحیت والے شخص کی زندگی کا مطالعہ ہوتا ہے۔حیرت سے آنکھیں کھلی رہ جاتی ہیں۔دل اور دماغ اللہ کی حسن تخلیق پر سبحان اللہ کی صدائیں لگاتا ہے ۔اپنے وقتوں کے بزرگوں کے کمالات سے واقفیت اسلاف کے کارناموں پر یقین پیدا کرتی ہے۔ایسے ہی افراد ساز اور ادرہ ساز افراد میں جناب مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کا شمار ہوتاہے۔مولانا کی پیدائش ’’نانوتہ‘‘ میں ہوئی ۔یہ ضلع سہارنپور میں واقع ہے۔مولانا 8جنوری 1926کو پیدا ہوئے اور2018میں آپ کی وفات ہوئی۔آپ کا خاندان دینی علوم اور تقویٰ میں امتیازی مقام رکھتا ہے۔آپ قاری محمد طیب ؒ کے بیٹے اور بانی دارالعلوم مولانا قاسم صاحب ؒ کے پڑ پوتے تھے۔علماء کی جماعت میں ان کا مقام بلند تر تھا، ان کی شخصیت ہشت پہلو تھی، وہ مصنف بھی تھے، محدث و مقرر بھی، فلسفہ و منطق میں بھی انہیں مہارت حاصل تھی، استدلال کی قوت بھی ان کے جملوں سے عیاں ہوتی تھی۔
تصوف و بزرگی کے تمام تر لوازمات ان کے چہرے پر موجود تھے ۔ان کے چہرہ پُر نور پر نگاہ پڑتے ہی قلب میں اُن کی بزرگی کی چھاپ لگ جاتی تھی، حسن و دلکشی، متانت و سنجیدگی، لمبی ستواں ناک،درازی مائل چہرہ، سفید رنگ، سرخی مائل، سفید داڑھی، کشادہ پیشانی، نورانیت سے بھرپور نگاہیں، جو اٹھتی کم جھکی زیادہ رہتی تھیں،نرم و نازک نحیف و نزار جسم جس پربڑھاپے کے آثار نمایاں تھے، لیکن جب وہ مسند تدریس پر جلوہ افروز ہوتے، بخاری پر گفتگو شروع ہوتی تو محسوس ہوتا طاقت ور اور توانا ہیں، الفاظ کا انتخاب زبان پر عبور اور علمی شوکت کو ظاہر کرتاتھا، بزرگی و کمزوری کے باوجود جب انہیں لکھتے پڑھتے، مسند درس پر علم کے گو ہر لٹاتے، مطالعہ کرتے مجلس میں علمی و استدلالی گفتگو کرتے دیکھا جاتا تو زبان عش عش کر اٹھتی تھی، قلب ان کا عقیدت مند ہوجاتا، زبان ان کی محنت و جفاکشی اور علم دوستی کی ثنا خواں ہوجاتی تھی۔
تصوف میں ان کو اعلیٰ مقام حاصل تھا، حضرت حکیم الاسلام کے خلیفہ و مجاز تھے، حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری سے بھی ان کا اصلاحی تعلق قائم رہا، انتظامی و تدریسی امور میں مشغول ہونے اور اسفار کی کثرت کے باوجود انہوں نے بیعت و ارشاد کا سلسلہ جاری رکھا، ان کے خلفاء کی تعداد سو کے قریب ہے، جس سے ان کی اصلاح باطن کی کوششیں ظاہر ہوتی ہیں اور تصوف کی تئیں ان کی لگن کا اندازہ ہوتا ہے۔
وہ خانوادہ قاسمی کے چشم و چراغ تھے، حضرت نانوتوی سے انہیں نسبی تعلق تھا، علمی اعتبار سے ان کے سچے جانشین تھے، اس کے ساتھ انہیں حضرت تھانویؒ کے خاص شاگرد ہونے کا شرف حاصل تھا، میزان انہوں نے حضرت تھانوی ؒسے پڑھی، علوم تھانوی کی ترجمانی کا حق بھی ادا کیا، پوری زندگی مسند تدریس پر جلوہ افروز رہے، درس نظامی کی اہم ترین کتابیں ان سے وابستہ رہیں۔
خوش اخلاقی،ملنساری،بڑوں کا اکرام ،چھوٹوں پر شفقت ،صبر و تحمل، بردباری و سنجیدگی، ان کی اہم صفات تھیں، قیام دارالعلوم وقف دیوبند ان کے حوصلے، ہمت، محنت صبر و تحمل کی کھلی دلیل ہے، زندگی کے مشکل دور میں بھی خدمت دین کا فریضہ انجام دیتے رہنا آسان کام نہیں ہے ، لیکن انہوں نے صبر و ضبط سے کام لیا،پوری محنت و توانائی کے ساتھ زندگی بھر دارالعلوم کی خدمت انجام دیتے رہے، قلم، زبان، وقت ہر شئی اس کے لیے قربان تھی، ان کی محنتوں کا صلہ ہے کہ آج یہ ادارہ ترقی کے منازل طے کر رہا ہے، اور تعارف کا محتاج نہیں ہے۔
انتظامی صلاحیتوں میں وہ قاری طیب صاحب علیہ الرحمہ کے سچے جانشین ثابت ہوئے، جس کا مظاہرہ انہوں نے پوری زندگی دارالعلوم وقف دیوبند کے اہتمام سے وابستہ رہ کر کیا، ملازمین کا خیال رکھتے تھے، نرم مزاج و نرم دل تھے، ملازمین کو اپنے عزیزوں کی طرح رکھتے تھے، طلبہ سے بے پناہ محبت و شفقت کا معاملہ کرتے تھے، مدرسہ میں مشہور تھا جس طالب علم کا کھانا بند ہوتا اور وہ درخواست لے کر حضرت مہتمم صاحب تک پہنچ جاتا تو فوراً کھانا جاری کردیا کرتے تھے، کبھی یہ نہیں سنا کہ وہ کسی طالب علم سے ناراض ہیں، کسی ملازم سے ناراض ہیں یا کوئی ملازم ان سے ناراض ہے، شفقت کا معاملہ کرنا ان کا امتیازی پہلو تھا،وہ ایک کامیاب مہتمم و منتظم تھے، اور بھی بہت سے اداروں نے آپ کی اس مہارت سے فائدہ اٹھایا، اور آپ کئی عظیم اداروں کی انتظامیہ سے وابستہ رہے، جن میں قابل ذکر مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے، جو مسلمانوں کی سب اہم تنظیم ہے، آپ اس کے نائب صدر تھے، مجلس مشاورت کے صدر تھے، اور ان تمام اداروں میں ان کی خدمات قابل قدر تھیں۔
مولانا بہت علم جو انسان تھے ،علم کی طلب میں ہمیشہ سرگرداں رہے ،اساتذہ سے استفادے کے بعد جدید قدیم مصنفین کی کتابوں کا ایک انبار تھا جو ان کے سامنے رہتا ،ہمیشہ مطالعہ کرتے ،سفر میں بھی کوئی علمی کتاب اپنے ساتھ رکھتے ،حالات حاظرہ پر ان کی گہری نظر تھی ۔مولانا نے جہاں تدریس کے میدان میں ہزاروں شاگردوں کا قافلہ چھوڑا ہے جو دن رات دین کی اشاعت میں لگے ہوئے ہوئے ہیں ۔اسی کے ساتھ آپ نے اپنے قلم سے وہ درہائے نایاب بھی دستیاب کرائے ہیں جن سے قیامت تک طالبان علم استفادہ کرتے رہیں گے۔
حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کی زیارت کا شرف مجھے اس وقت حاصل ہوا جب میں ندوہ کی آغوش میں پرورش پارہا تھا،میرا عہد طفولیت تھا او رحضرت مولاناسالم قاسمی صاحبؒ کا عہد شباب ایک دن ہمارے استاذتفسیر مولانا محمد اویس بلگرامی ؒ (جن کا شمار ملک کے چند قابل ترین مفسرین میں ہوتا تھا )نے دوران درس مطلع کیا کہ آج قاری محمد طیب صاحب ؒکے صاحب زادے ،حضرت مولانا محمد سالم قاسمی ؒ لکھنو آرہے ہیں اور امین آباد پارک میں ان کا خطاب ہے ۔ مجھے اور میرے چند دوستوں کو مشہور شخصیات کی تقریر سننے اور ان سے ملاقات و مصافحہ کرنے کا بہت شوق تھا ۔لکھنو میں جہاں بھی کوئی ایسی تقریب ہوتی ہم لوگ ضرور جاتے ۔چنانچہ اس دن بھی ہم امین آباد پہنچ گئے ۔ایک بڑا مجمع تھا ۔اس لیے کہ مولانا سالم قاسمی صاحبؒ کی شہرت قاری طیب صاحبؒ کی وجہ سے بہت تھی ۔ہم نے تقریر سنی ،تقریر کیا تھی الفاظ کا ایک سیلاب تھا جو امڈا آتا تھا، روانی سلاست اور بہاؤ تھا جس پر بند باندھنا ناممکن تھا، آواز کی گھن گرج سے مجمع پر سکوت اور ہیبت طاری ہورہی تھی،وہ دلائل عقلیہ سے دلوں کو قائل کرتے تھے ۔جن لوگوں نے ان کی تقریر نہیں سنی خطبات خطیب الاسلام کا مطالعہ کریں وہاں پر بھی جملوں کی ساخت و پرداخت سے تقریر کی سلاست و روانی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، ان کی علمی قوت، موضوعات کی ندرت بھی خطبات میں محسوس کی جاسکتی ہے،سالم صاحب علمی موضوعات پر فلسفیانہ انداز میںگفتگو کرتے تھے، اعلیٰ اور معیاری زبان بولتے تھے، منطقی اصطلاحات ان زبان کی پر بے ساختہ جاری ہوتی تھیں، جس سے علوم عقلیہ میں ان کی مہارت کا اندازہ ہوتا تھا۔
ندوہ سے فراغت کے بعد میں سہارن پور میں ایک درسگاہ میں صدر مدرس تھا ۔سہارن پور قیام کے دوران میرا آنا جانا دیوبند کافی ہوتا تھا ۔وہاں قاری طیب صاحب سے ضرور ملاقات کرتا تھا ۔قاری صاحب کی نیکی اور بزرگی کا ایک عالم قائل تھا ۔وہ چھوٹوں سے بڑی محبت سے پیش آتے تھے ۔میں ان کی علمی وجاہت اور طبیعتاً شرافت کے باعث عقیدت مند تھا ۔قاری صاحب بھی مجھے نام سے پکارتے تھے ۔ایک بار ان سے ملنے گیا تو قاری صاحب نے مولانا سالم قاسمی صاحب سے میرا تعارف کرایا ۔
1977کی بات ہے جب میں مدرسہ احیاء العلوم میں صدر مدرس تھا کہ میں نے مدرسہ کی کمیٹی کے سامنے اصلاح معاشرہ پر ایک کانفرنس کے انعقادکی تجویز رکھی اور کہا کہ اس میں قاری طیب صاحب کو بلایا جائے ۔ان دنوں قاری طیب صاحب مسلم پرسنل لاء بورڈ کی مسند صدارت پر جلوہ افروز تھے ۔کمیٹی نے میری تجویز مان لی ۔میں دارالعلوم دیوبند گیا اور قاری صاحب سے ملاقات کرکے وقت حاصل کیا۔لیکن بوجوہ حضرت قاری محمد طیب صاحبؒ تشریف نہ لاسکے۔ اپنی جگہ انھوں نے مولانا مفتی شکیل احمد قاسمی صاحب سیتاپوری جن کی خطابت کے چرچے زبان زد عام تھے اور اپنے صاحب زادے مولانا حضرت مولانا محمدسالم قاسمی صاحب ؒ کو بھیج دیا ۔ اس طرح مجھے سالم صاحب سے براہ راست استفادے و ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔اس دن کے بعدسے مولانا سے ایک تسلسل کے ساتھ ہماری ملاقاتیں رہیں۔اچھا ساتھی کے خصوصی شماروں میں مولانامرحوم کے اہم پیغامات بھی ہم نے شائع کیے ۔میری دینیات کی ایک کتاب پر آپ نے حوصلہ افزاء کلمات بھی تحریر فرمائے ۔
ایک مرتبہ جامعۃ الفلاح میں ایک علمی سمینار منعقد ہوا ،جس میں ہندوستان کی مشہور جامعات و مدارس کے ذمہ داران اور کچھ بیرون ملک کی اہم علمی شخصیات نے شرکت کی ۔ مجھے بھی اس پروگرام میں مقالہ پڑھنے اور حضرت مولاناسالم قاسمی صاحبؒ کے ساتھ اسٹیج شیئرکرنے کی سعادت حاصل ہوئی ۔
مولانا جب تک حیات رہے میں ان سے برابر ملتا رہا ۔ایک بار انھوں نے اپنے صاحب زادے جناب مولانا سفیان قاسمی صاحب دامت برکاتہم سے یہ کہہ کر ملاقات کرائی کہ :۔’’ میاں سراج صاحب بجنورمیں تعلیم کا بڑا کام کررہے ہیں ۔‘‘سی وقت سے مولانا سفیان قاسمی صاحب سے بھی ربط قائم ہوگیا ۔اسی ربط و تعلق کا نتیجہ تھا کہ جب میرے دو بیٹے ایک حادثے کا شکار ہوکر اللہ کو پیارے ہوگئے تو تعزیت کے لیے سرکڑہ تشریف لائے ۔ایک چھوٹے سے گائوں میں ایک عظیم شخصیت کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ میرے ان کے آباء و اجداد سے قریبی مراسم تھے۔
دارالعلوم سے وابستہ رہ کر اور اس کی انتظامی ذمہ داریاں سبنھالتے ہوئے اتنا موقع نہیں ملتا کہ کسی دوسرے محاذ پر کام کیا جاسکے ۔لیکن عبقری شخصیات ہر مرحلے پر اور ہر محاذ کے لیے وقت نکال لیتی ہیں۔مولانا محمد سالم قاسمی ؒ بھی اس باب میں ممتاز ہیں۔وہ ملی اتحاد کے لیے سرگرم تمام کوششوں میں شامل رہے،وہ نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ،ممبرعلی گڑھ مسلم یونیورسٹی کورٹ،رکنِ شوریٰ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ،رکنِ شوریٰ، جامعہ مظاہر علوم وقف سہارنپور،مستقل رکن فقہ کونسل جامعہ ازہرقاہرہ،صدر مسلم مجلسِ مشاورت،سرپرست کل ہند رابطہ مساجد،سرپرست اسلامک فقہ اکیڈمی، بھارت رہے۔انھیں مصری حکومت کی طرف سے برِّصغیر کے ممتاز عالم کا نشانِ امتیازدیا گیا۔امام قاسم نانوتوی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا،چوتھاحضرت شاہ ولی اللہؒ ایوارڈ انھیں ملا اس کے علاوہ اور بھی بہت سے انعامات و اعزازات سے اللہ نے انھیں نوازا۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے ۔ان کی سئیات کو حسنات میں مبدل فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم کے اتباع کی سعادت عطا فرمائے ۔آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے