عبدالغفارصدیقی
حیا عورت کی نفسیات کا حصہ ہے اور حیاء کا اظہار پردہ ہے ۔بعثتِ نبوی ﷺ سے پہلے بھی بعض خواتین دوپٹہ اور اوڑھنی کا اہتمام کرتی تھیں لیکن ان کا پردہ برائے نام تھا ۔اس سے پردہ کے مقاصد پورے نہیں ہوتے تھے ۔اسی نسوانی فطرت کے نتیجہ میںآج بھی بعض غیرمسلم خواتین پردہ کرتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں پردہ کے متعلق پہلا حکم نہ سر ڈاھنکنے کا دیا گیا ،نہ چہرہ چھپانے کا بلکہ امہات المومنین رضی اللہ تعالیٰ عن ھنَّ، سے اگر کچھ مانگنا ہو تو حجاب کے پیچھے سے مانگنے کاحکم دیا گیا ۔جس کی تفصیلات کتبِ حدیث میں اِن الفاظ میں درج ہیں ۔
’’خادم ِرسول حضرت انس ؓ کا بیان ہے کہ پردہ کے حکم کا نُزول سب سے پہلے اس رات ہوا جس میں رسول اللہ ﷺ نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا۔اس موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو دعوت ولیمہ پر بلایا تھا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب لوگ چلے گئے لیکن چند آدمی آپ کے پاس بیٹھے رہ گئے اور بہت دیر تک وہیں ٹھہرے رہے۔ نبی کریم ؐ اٹھ کر باہر تشریف لے گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلا گیا تاکہ وہ لوگ بھی چلے جائیں۔ نبی اکرم ؐچلتے رہے اور میں بھی آپ کے ساتھ چلتا رہا ۔کچھ دور جانے کے بعد ہم نے سمجھا کہ وہ لوگ اب چلے گئے ہوں گے۔ اس لیے واپس تشریف لائے اور میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا لیکن آپ جب زینب رضی اللہ عنہا کے حجرے میں داخل ہوئے تو وہ لوگ ابھی بیٹھے ہوئے تھے اور ابھی تک واپس نہیں گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ وہاں سے لوٹ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ گیا۔ جب آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی چوکھٹ تک پہنچے تو آپ نے سمجھا کہ وہ لوگ نکل چکے ہوں گے۔ پھر آپ لوٹ کر آگئے اور میں بھی آپ کے ساتھ لوٹ آیا تو واقعی وہ لوگ جا چکے تھے۔‘‘
اس موقع پر سورہ احزاب کی آیت نمبر 54نازل ہوئی جس کا ترجمہ ہے :۔’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ۔نبی کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو۔نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آئو۔مگر جب کھانا کھا چکو تو منتشر ہوجائو۔باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں ،مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتااور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا۔نبی کی بیویوں سے اگر کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے ۔‘‘
اس آیت مبارکہ میں دیگر چند ہدایات کے ساتھ مردوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ خواتین سے پردے کے پیچھے سے بات کریں۔اس آیت کے شان نزول سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پردے کا پہلا حکم مردوں کو دیا گیا ہے ۔یہ ذمہ داری مردوں کی ہے کہ وہ خواتین سے بات کرتے وقت پردے کا اہتمام کریں اگر کوئی خاتون ان سے بے پردہ بات کرنے کی کوشش کرے تو وہ بات کرنے سے انکار کرسکتے ہیں ۔
اس کے حکم کے بعد اسی سورہ احزاب میں دوسرا حکم دیا گیا : ’’اے نبی اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر پلو لٹکا لیا کریں، یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیںاور نہ ستائی جائیں اور اللہ بخشنے والا نہایت رحم والا ہے۔‘‘(الاحزاب:59)
اس آیت میں حجاب کو مسلم خواتین کی شناخت اور تشخص بتایا گیا ہے ۔اس میں ستانے سے مراد چھیڑ خانی اور پھبتی کسنا وغیرہ ہے ۔آج بھی جو خواتین برقع میں ہوتی ہیں ،شرارتی لوگ ان کو چھیڑتے ہوئے گھبراتے ہیں ،جبکہ بے پردہ خواتین کو دیکھ کر منچلے پھبتیاں کسنے سے باز نہیں آتے ۔اسلام ہر قدم پر مومنانہ تشخص کی حفاظت کا حکم دیتا ہے ۔وہ اسلامی معاشرہ کو کفراور شرک کے معاشرے سے الگ پہچان بنانے کی ہدایت کرتا ہے ۔اس آیت مبارکہ میں دو حیثیتوں سے تعارف کی بات کہی گئی ہے ایک یہ کہ نقاب پوش خواتین کا دین اسلام ہے اور دوسرا یہ کہ ان کا تعلق شریف گھرانے سے ہے۔ہمیں اپنی ان دونوں شناختوں کی حفاظت کرنا ہے۔
سورہ احزاب کے بعد سورہ نور میں پردے کے متعلق تفصیلی حکم نازل ہوا ۔بعض محققین کے نزدیک سورہ نور پہلے نازل ہوئی اور سورہ احزاب بعد میں لیکن بیشترمحققین کی یہی رائے کہ سورہ نور سورہ احزاب کے بعد نازل ہوئی ۔سورہ نور کی 30اور 31 ویں آیات میں ارشاد ربانی ہے :’’اے نبیؐ!مومن مردوں سے کہیے کہ اپنی نگاہیں بچا کررکھیں، اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہی ان کے لئے پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے باخبررہتاہے اور اے نبی !مومن عورتوں سے کہیے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں بچاکررکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں، سوائے اس کے جو خودظاہر ہوجائے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رہیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں۔‘‘ان آیات میں بھی نظریں نیچی رکھنے اور شرم گاہوں کی حفاظت کرنے کا حکم پہلے مردوں کو دیا گیا ہے اور بعد میں عورتوں کو ۔اس ترتیب سے میری اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ پردے اور حجاب کے احکامات کے اولین مخاطبین مرد ہیں۔
عورت لفظ کے معنی ہی ایسی چیز کے ہیں جسے چھپایا جائے ۔اسی لیے عربی زبان میں قابل ستر اعضاء کے لیے عورت جس کی جمع عورات ہے استعمال ہوا ہے ۔پھر اس ایشو پر بحث کی ضرورت ہی نہیں رہتی کہ عورت کو پردہ کرنا چاہئے یا نہیں ۔عورت کے لفظ سے ،اس کی ساخت سے ،اس کے مزاج سے یہ عیاں ہوتا ہے کہ عورت کو پردہ کرنا ہی چاہئے۔اسی لیے مسلمانوںمیں پردے کے وجوب و عدم وجوب پر کوئی اختلاف نہیں ہے البتہ پردے میں کون سے اعضاء شامل ہیں یا کون سے نہیں ہیںیعنی الا ماظھر منہاکے الفاظ کے مفہوم اور اطلاق میں مفسرین کے درمیان اختلاف رائے ہے ۔بیشتر مفسرین نے اس سے چہرے کو باہر رکھا ہے ،ان کے نزدیک عورت کو اپنے چہرے پر نقاب ڈالنا چاہئے ،اور بعض کے نزدیک اس میں گٹوں تک ہاتھ ،ٹخنوں تک پائوں اور چہرہ شامل ہے ،یعنی چہرہ پردے کے حکم میں شامل نہیں ہے ۔یہی رائے حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کی ہے ۔
چونکہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کی کوئی وضاحت نہیں فرمائی ہے اور سیرت نبوی میں بھی اس بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں اس لیے میری رائے ہے کہ اس کو ہم خواتین کی صواب دید پر چھوڑ دینا چاہئے ،یہ ایک مومنہ کے ایمان اوراس کے ضمیر پر منحصر ہے کہ وہ چہرہ کھولے یا چھپائے ۔اللہ تعالیٰ دلوں کے حال سے خوب واقف ہے ۔وہ نہ جسموں کے حسن و فربہی کو دیکھتا ہے ،نہ چہرے کے حسن و قبح کو بلکہ وہ دلوں کی کیفیت پر نظر رکھتا ہے ۔یہی رائے معروف اسلامی مفکرمولانا سیدابوالاعلیٰ مودودی ؒ کی بھی ہے ۔چنانچہ پردہ کے صفحہ 222پر مولانا اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا پر مختلف محققین کی آراء تحریر کرنے کے بعد رقم طراز ہیں۔
’’ہم کہتے ہیں کہ آپ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا کو ان میں سے کسی چیز کے ساتھ بھی مقید نہ کیجیے۔ ایک مومن عورت، جو خدا اور رسول کے احکام کی سچے دل سے پابند رہنا چاہتی ہے اور جس کو فتنے میں مبتلاہونا منظور نہیں ہے، وہ خود اپنے حالات اور ضروریات کے لحاظ سے فیصلہ کرسکتی ہے کہ چہرہ اور ہاتھ کھولے یا نہیں؟ کب کھولے اور کب نہ کھولے؟ کس حد تک کھولے اور کس حد تک چھپائے؟ اس باب میں قطعی احکام نہ شارع نے دیے ہیں، نہ اختلاف احوال و ضروریات کو دیکھتے ہوئے یہ مقتضائے حکمت ہے کہ قطعی احکام وضع کیے جائیں جو عورت اپنی حاجات کے لیے باہر جانے اور کام کاج کرنے پر مجبور ہے اس کو کسی وقت ہاتھ بھی کھولنے کی ضرورت پیش آئے گی اور چہرہ بھی۔ ایسی عورت کے لیے بہ لحاظ ضرورت اجازت ہے اور جس عورت کا یہ حال نہیں ہے اس کے لیے بلاضرورت قصداً کھولنا درست نہیں۔‘‘(پردہ ص:۲۲۲)
عورت کے پردے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ غیر مردوں سے ایسے لہجہ میں بات نہ کرے جس سے وہ کسی خوش گمانی کا شکار ہوجائیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔’’اے نبی کی بیویو! تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، اگر تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں نرمی نہ کرو کہ دل کی خرابی میں مبتلا شخص کسی لالچ میں پڑجائے ۔ بلکہ صاف اور سیدھی بات کرو۔‘‘(احزاب32)اس آیت میں خطاب اگرچہ نبی کی بیویوں کو کیا گیا ہے لیکن تمام شارحین اسلام کے مطابق اس کی مخاطب تمام مسلمان خواتین ہیں ۔
پردے میں آواز کے ساتھ ساتھ خواتین کی چال بھی شامل ہے ۔یوں تو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو زمین پر نرم چال چلنے اور اکڑ کر نہ چلنے کا حکم دیا ہے ۔لیکن خواتین کو خاص طور پر یہ ہدایت فرمائی کہ وہ زمین پر پیر مار کر نہ چلیں ۔سورہ نور کی آیت 31میں ہی ارشاد ہوتا ہے ۔’’ اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے۔‘‘
اس ساری گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ :٭ مسلمان خواتین بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں ۔٭جب گھرسے باہر نکلیں تو اپنے اوپر چادر یا نقاب ڈال لیں تاکہ ان کے جسم کے اعضاء اور زیب و زینت کا اظہار نہ ہو۔٭بلا ضرورت چہرے کو نہ کھولیں ۔البتہ بہت ضروری ہو تو چہرہ کھولا جاسکتا ہے ۔جیسے کسی ڈاکٹر سے علاج کے لیے ،کسی سرکاری محکمہ میں شناخت کے لیے وغیرہ وغیرہ۔٭ اگر کوئی مسلم خاتون چہرہ کھولنے والی تحقیق ا ور روایات کو ترجیح دیتے ہوئے چہرہ کھولنا چاہے تو اسے اس کی اجازت ہے ۔اس کو چہرہ ڈھکنے پر مجبور نہ کیا جائے۔٭ خواتین غیر محرم سے گفتگو کرتے وقت اس طرح کا لہجہ اختیار نہ کریں کہ کوئی مرد اس کا غلط مفہوم نکال بیٹھے ۔٭ خواتین اس طرح نہ چلیں کہ ان کی پازیب اور دیگر زیورات کی جھنکار سنائی دے۔٭مردوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کو دیکھ کر نگاہیں بچا لیں ۔ مردوں کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر محرم خواتین سے بات کرتے وقت یا کوئی ضروری چیز مانگتے وقت پردے کا خیال رکھیں۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنے دین پر عمل کی توفیق و سہولت عطا فرمائے ۔آمین۔
