نوراللہ خان
سدھارتھ نگر: کچھ جگہوں کی ایک تاریخ رقم ہوتی ہے اور کچھ صدیوں تک باقی رہتی ہے۔ ایسا ہی معاملہ شہرت گڈھ ( پرانا نام چاندپار) سدھارتھ نگر اتر پردیش کا ہے۔
شہرت گڈھ اس وقت ایک تحصیل ہے جہاں نہ صرف کچہری ہے بلکہ ایک ریلوے اسٹیشن بھی ہے جو گونڈہ، بلرام پور، بڑھنی ہوتے ہوئے گورکھپور جانے والے روٹ پر واقع ہے۔
یہ راجہ شہرت سنگھ کے نام سے منسوب ہے۔ اور اسے شہرت اس لئے بھی حاصل ہے کہ یہاں ضلع کا ایک مشہور کالج “شیوپتی ڈگری کالج” ہے جو کافی اہم و تاریخی رہا ہے۔ جہاں کے طلبہ نے نہ صرف میدان تعلیم میں نام کمایا بلکہ سیاست میں بھی متحرک رہے۔ معروف نیتا و سوشل ورکر جناب خلق اللہ خان بھی یہیں کے پروڈکٹ ہیں۔

شہرت گڈھ کئی اہم ہستیوں کا مرکز و مسکن رہا جس میں ڈاکٹر انصاری خاندان سمیت ڈاکٹر اشرف ( اشرف میموریل ہاسپٹل ) اور ڈاکٹر نسیم اشرف اور مشہور سیاست داں و سابق وزیر حکومت اتر پردیش آنجہانی جناب دنیش سنگھ کا نام شامل ہے جو اسی حلقہ سے سرگرم عمل تھے۔
قابل ذکر بات اور خوشی کا باعث یہ بھی ہے کہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے وہاں نہ صرف اشرف میموریل ہاسپٹل اور ڈاکٹر انصاری ہاسپٹل کی خدمات مل رہی ہیں بلکہ تعلیم کے حوالے سے ایک نیا باب جوڑتے ہوئے ڈاکٹر انصاری فیملی کے ہونہار فرزند ڈاکٹر سرفراز انصاری نے “انصاری پبلک اسکول” کی بنیاد ڈالی ہے۔
نوگڈھ ضلع ہیڈکوارٹر سے دور شہرت گڈھ میں واقعی ایک ضرورت تھی جس کی تکمیل لائق ستائش قدم ہے۔ اور یہ شہرت گڈھ کے وقار اور اس کی شہرت اور عظمت دونوں میں مزید اضافہ کرے گا۔
گورکھپور اور لکھنئو کے درمیان جس رفتار سے میڈیکل فیلڈ اور اسکولوں کے حوالے سے سدھارتھ نگر میں ترقی ہوئی ہے اور سدھارتھ یونیورسٹی کا وجود ہوا ہے وہ قابل ذکر اور قابل فخر بھی ہے۔ اس لئے اب معزز سرپرستوں اور والدین سمیت معاشرے کے بااثر اور آئیڈیل لوگوں کی ذمے داری ہے کہ ایسے ماحول میں اپنی حصے داری دےکر ایک بیدار و زندہ دل شہری کی طرح آگے آئیں اور اس علمی قافلہ کے ساتھ چل پڑیں۔
