بیدر۔ 10؍جنوری (پریس نوٹ): معراج النبی ﷺ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اس بات کااظہاراصلاحی اجتماع منعقدہ مسجد قباء بیدر میں اقبال الدین انجینئر نے کیا۔ اورکہا کہ سورہ جمعہ میں ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت کا مقصد تزکہ نفس ہے۔ رسول اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناز ل کردہ احکام سنانے پر ، کتاب وحکمت کی تعلیم دینے پر اور اہل ایمان کے تزکیہ نفس پر مامور تھے۔ تزکیہ یعنی برے اخلاق چھوڑ کراچھے اخلاق اختیار کرنا اور برے اعمال چھوڑ کرنیک عمل کرناہے۔ انسانی زندگی خیروشرسے عبارت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ خیر کو غالب کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ سورہ الشمس آیت 9میں فرمان ِ الٰہی ہے۔ ’’یقینا فلاح پاگیاوہ جس نے نفس کاتزکیہ کیااور نامرادہوا وہ جس نے اس کودبادیا۔ تزکیہ نفس کرنے سے ہمیں دونوں جہانوں میں کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ معاشرتی زندگی اور سماج انسان کی فطری ضرورت ہے ۔ اللہ نے رسول اکرم ﷺ کی زندگی مبارکہ کے ذریعہ ان احکامات کانہایت کامل اور بلند عملی نمونہ پیش فرمایاہے۔ کوشش کریں کہ ایک ایسا مضبوط سماج وجو دمیں آسکے جوتمام انسانوں کے لئے باعث رحمت ومؤدت ہو۔

جناب اقبال الدین انجینئر نے آگے رسول اللہ ﷺ کی افضلیت پر کہاکہ ’’رسول اللہ ﷺ کی افضلیت ہمیں قرآن کے ہرہر گوشے سے سنائی دے گی۔ جس کا ذکر سورہ آل عمران82-81میں عالم ارواح میں انبیائے کرام کے اجتماع میں اس طرح فرمائی ہے۔ ’’جب کہ اللہ نے نبیوں سے عہدلیاکہ جس وقت میں تمہیں کتاب وحکمت عطاکروں پھرتمہارے پاس وہ رسول آئے (یعنی محمد ؐ) جو اس کی تصدیق کرتے ہو، جو کچھ تمہارے پاس ہے توتمہیں آپ ؐ پر ایمان لانا ہوگااور ان کی مددکرنی ہوگی‘‘سیرت نگاری کے عالمی مقابلے میں اول آنے والی کتاب رحیق المختوم میں انبیاء کرام نے آپ ؐ کی نبوت کاجواقرار کیا، اس کاذکر تفصیلی موجودہے۔ معراج کی رات سارے انبیاء کرام بیت المقدس میں جمع ہوئے اور رسول اللہ ؐ کی قیادت میں نماز ادافرمائی اور اللہ کی حمدوثنابیان کی۔ معراج کاذکر سورۃ الاسراء آیت نمبر 1میں اللہ نے اس طرح فرمایا’’وہ پاک ہے جس نے اپنے خاص بندے کو رات کے وقت مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک کاسفر کروایا۔ جناب اقبال الدین نے اپنے اختتامی خطاب میں معراج النبی ؐ کے بعض گوشوں پرروشنی ڈالتے ہوئے بتایاکہ رسول اللہ ؐ کو آپ کے جسم مبارک سمیت براق پر سوارکرکے حضرت جبرئیل علیہ السلام کی معیت میں مسجد حرام سے بیت المقدس تک سیرکرائی گئی۔ اس کے بعد آپ ؐ کو بیت المقدس سے آسمان دنیا تک لے جایاگیا۔ آپ ﷺ کے لئے دروازہ کھولاگیا۔ آپ ؐ کی ملاقات حضرت آدمؑ سے ہوئی ۔ اللہ نے آپ کو ان کے دائیں جانب سعادت مندوں کی روحیں اور بائیں جانب بدبختوں کی روحیں دکھلائیں۔ پھر آپ ؐ کو دوسرے آسمان پر لے جایاگیا۔ وہاں پر آپ ؐ کو حضرت یحییٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کرائی گئی۔ پھرتیسرے آسمان پر یوسف علیہ السلام ، چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام ، پانچویں آسمان پر حضرت ہارون علیہ السلام اور چھٹے و ساتویں آسمان پربالترتیب موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراھیم علیہ السلام سے ملاقات کرائی گئی۔ اس کے بعد آپ ؐ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایاگیا۔ پھر آپ ﷺ کو بیت ِ معمورتک اٹھالیاگیا۔ پھر اللہ کے دربارعالیہ میں بصد احترام پہنچایاگیااور تب آپ ﷺ اللہ کے اتنے قریب ہوئے کہ دوکمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ اس وقت اللہ نے آپ ﷺ پر پانچ وقت کی نماز فرض فرمائی ۔ اس کے بعد آپ ﷺ وہاں سے واپس ہوئے اور کچھ دور تشریف لے گئے تو اللہ کی طرف سے ندا آئی کہ میں نے اپنافریضہ کردیا اور اپنے بندوں سے تخفیف کردی ۔معراج کافائدہ اللہ نے مختصراً قرآن میں اس طرح ذکر کیاہے ’’تاکہ اللہ آپ کو اپنی کچھ نشانیاں دکھلائیں ‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے