تحریر: محمد وسیم راعین
ظلم حرام اور بڑے بڑے گناہوں میں سے ایک ہے ۔ حديث قدسی میں ہے: «يَا عِبَادِي إِنِّي حَرَّمْتُ الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْتُهُ بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا، فَلاَ تَظَالَمُوا»’’میرے بندو! میں نے ظلم کرنا اپنے اوپر حرام کیا ہے اور تمہارے درمیان بھی اسے حرام قرار دیا ہے، اس لیے تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو‘‘۔(صحیح مسلم:6572)
آخرت کے ساتھ‘ دنیا میں بھی اللہ تعالی اس کی سزا دیتا ہے۔اللہ تعالی کا فرمان ہے:{وَلاَ تَحْسَبَنَّ اللهَ غَافِلاً عَمَّا يَعْمَلُ الظَّالِمُونَ إِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيهِ الأَبْصَارُ}[إبراهيم:42] ’’نا انصافوں کے اعمال سے اللہ کو غافل نہ سمجھو وہ تو انھیں اس دن تک مہلت دئے ہوئے ہے جس دن آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی‘‘۔
ظلم کے نتیجہ میں ظالموں کا انجام بتاتے ہوئے اللہ تعالی کا فرمان ہے:{فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةً بِمَا ظَلَمُوا إِنَّ فِي ذَلِكَ لآَيَةً لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ}[النمل: 52]’’یہ ہیں ان کے مکانات جو ان کے ظلم کی وجہ سے اجڑے پڑے ہیں، جو لوگ علم رکھتے ہیں ان کے لئے اس میں بڑی نشانی ہے‘‘۔
ظلم کی تین قسمیں ہیں:
۱۔ کفر وشرک اور نفاق وغیرہ کے ذریعے انسان کا اپنے آپ پہ ظلم کرنا :{الَّذِينَ آَمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ}[الأنعام: 82]. ’’جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کرتے۔ ایسوں ہی کے لئے امن ہے اور وہی راہ راست پر چل رہے ہیں‘‘۔
صحیحین میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی” وہ لوگ جو ایمان لے آئے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کو نہیں ملایا“ تو صحابہ کو یہ معاملہ بہت مشکل نظرآیا اور انہوں نے کہا ہم میں کون ہوگا جو ظلم نہ کرتا ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا مطلب وہ نہیں ہے جو تم سمجھتے ہو بلکہ اس کا مطلب حضرت لقمان علیہ السلام کے اس ارشاد میں ہے جو انہوں نے اپنے لڑکے سے کہا تھا کہ” اے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ بلاشبہ شرک کرنا بہت بڑا ظلم ہے“۔
اس قسم کے ظلم کے ساتھ اگر انسان وفات پاتا ہے تو اللہ تعالی اسے معاف نہیں کریں گے بلکہ وہ اللہ کی رحمت سے دھتکارا جائے گااور ظالم قرار پائے گا:{أَلاَ لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الظَّالِمِينَ} [هود: 18].’’ خبردار ہو کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر‘‘۔
2- ظلم کی دوسری قسم: انسان کا آپس میں ایک دوسرے پہ ظلم کرنا ہے۔ چاہے مختلف قسم کے ذریعے مال ہڑپنا ہو یا لوگوں کی زمین و جائیداد پہ قبضہ کرنا ہو یا لوگوں کی جان لینا یا انہیں قید کرنا یا گالی گلوج کرنا یا کسی کی عزت و آبرو سے کھلواڑ کرنا ہو یا ظلم و زیادتی کی کوئی اور شکل ہو ۔
ظلم کرنے والے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یاد رکھنا چاہیے:«اتَّقُوا الظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» (مسلم). ظلم سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن تاریکی کا سبب ہے‘‘۔
ظالم کی فوری گرفت نہ ہونے سے یہ نہ سمجھ لے کہ اس کا کچھ ہونے والا نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دے دیتا ہے اور جب اس کو پکڑ لیتا ہے تو پھر جانے نہیں دیتا۔” پھر آپ نے (یہ آیت) پڑھی: "اور جب وہ ظلم کرنے والی بستیوں کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو آپ کے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے (کہ کوئی بچ نہیں سکتا۔) بےشک اس کی گرفت سخت دردناک ہے۔(متفق علیہ)
سنن ابی داود و ترمذی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” کوئی گناہ اس لائق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی سزا دنیا میں بھی جلدی دے دے اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی اس کی سزا جمع رکھے جیسے کہ ظلم و زیادتی اور قطع رحمی ہے“-
ظلم کی تیسری قسم:انسان کا اپنے آپ پہ گناہ ونافرمانی کے ذریعے ظلم کرنا ۔ اللہ تعالی کافرمان ہے:{ثُمَّ أَوْرَثْنَا الكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللهِ ذَلِكَ هُوَ الفَضْلُ الكَبِيرُ} [فاطر: 32]. ’’پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کئے چلے جاتے ہیں یہ بڑا فضل ہے‘‘۔
ظلم کی مذکورہ قسم شرک سے کم ہے ۔اس قسم کے افراد کے سلسلہ میں اہل علم کی رائے یہ ہے کہ یہ اللہ کی مشیئت کے تابع ہوں گے اگر چاہے تو اللہ تعالی انہیں عذاب دے اور چاہے تو معاف کردیے اور اس کی ستر پوشی کرے۔ نبی صلی اللہ کا فرمان ہے:’’اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے نزدیک بلا لے گا اور اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور اسے چھپا لے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا تجھ کو فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا فلاں گناہ تجھ کو یاد ہے؟ وہ مومن کہے گا ہاں، اے میرے پروردگار۔ آخر جب وہ اپنے گناہوں کا اقرار کر لے گا اور اسے یقین آجائے گا کہ اب وہ ہلاک ہوا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تیرے گناہوں پر پردہ ڈالا۔ اور آج بھی میں تیری مغفرت کرتا ہوں، چنانچہ اسے اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی، لیکن کافر اور منافق کے متعلق ان پر گواہ ( ملائیکہ، انبیاء، اور تمام جن و انس سب ) کہیں گے کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا۔ خبر دار ہو جاؤ ! ظالموں پر اللہ کی پھٹکار ہو گی‘‘۔(متفق علیہ)
مومن كو انسانوں کے حقوق سے اپنے آپ کو بری کرلینے کی حرص ہونی چاہیے۔دنیا ہی میں ان حقوق سے خود کو آزاد کرلے کیونکہ قیامت کے دن بدلہ نیکیوں میں دینا ہوگا نہ کہ روپیوں پیسوں میں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر کسی شخص کا ظلم کسی دوسرے کی عزت پر ہو یا کسی طریقہ ( سے ظلم کیا ہو ) تو آج ہی، اس دن کے آنے سے پہلے معاف کرالے جس دن نہ دینار ہوں گے، نہ درہم، بلکہ اگر اس کا کوئی نیک عمل ہوگا تو اس کے ظلم کے بدلے میں وہی لے لیا جائے گا اور اگر کوئی نیک عمل اس کے پاس نہیں ہوگا تو اس کے ساتھی ( مظلوم ) کی برائیاں اس پر ڈال دی جائیں گی‘‘۔(صحيح بخاري:2449)
اللہ تعالی ہر قسم کے ظلم سے محفوظ رکھے آمین۔
( عربی سے تلخیص و ترجمہ)
