مولانا ڈاکٹرمحمد فرمان ندوی
استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
کہنے والے نے صحیح کہا ہے کہ ’’ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں ِ‘‘ دنیا نے ہزاروں بار اس کا تجربہ کیا ہے ، لیکن معزول شامی ڈکٹیٹر بشار الاسد کے ذلت آمیزراہ فرارکرنے والے عمل نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ، ۵۴؍ سال سے زائد عرصہ پر پھیلی نخوت و غرور کی عمارت زمین بوس ہو گئی ، اور دنیا نے ایک بار پھر ظلم کے انجام کا کھلی آنکھوں مشاہد ہ کیا ،بشار الاسدچوبیس سال سے سے شام پر قابض تھا ، اور اس کی پشت پناہ کچھ پڑوسی حکومتیں تھی ، جن کی وجہ سے وہ اہل حق پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتا تھا ، اور اس سلسلہ میں کسی نرمی کو روا نہیں رکھتا تھا ، اس سے پہلے اس کا باپ حافظ الأسد بھی اسی طرز حکمرانی کا عادی تھا ، وہ عالمی سطح پر ایک ڈکٹیٹر کی حیثیت سے مشہور ہوا ، اس نے تیس سال تک شام پر حکومت کی ،اور ظلم و جور کا ننگا ناچ سرزمین فلسطین پرجاری رکھا کہ بہت سے لوگوں کو یا تو پس زنداںڈالا گیا ، اور قسم قسم کی سزاؤں سے دو چار کیا گیا ، یا انہیں ملک کردیا گیا ، لاکھوں افراد جو سرزمین شام کے حقیقی باشندے تھے ان کو اپنا ملک چھوڑنا پڑا ، اور وہ جلاوطنی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئے ۔اور ڈھائی کروڑ پر مشتمل شام کا یہ ملک عرب دنیا کا سیاسی قبرستان کہلایا جانے لگا ۔
تیس سال کے دور جبر و قہر کے بعد امید تھی کہ جب حافظ الاسد کے بیٹے بشار الاسدنے اقتدار سنبھالا تو اس کے اندر کچھ تبدیلی آئے گی اور ملک میں اہل حق پر مظالم کم ہوں گے ، لیکن یہ ممکن نہیں ہوا ، اور مشہور محاورہ ( الولد سر لأبیہ۔بیٹاباپ کی روش پر ہوتا ہے)کے مطابق بشار کے دور اقتدار و استبداد میں ظلم و ستم کی یہ آندھیاں سرزمین شام پر شدت کے ساتھ چلنے لگیں اور حق کی آواز کو خاموش کرنے کا طویل المدتی منصوبہ تیار کیا گیا ، اور اس کے مطابق عمل بھی جاری رہا ، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ظلم خواہ کتنا بڑی سطح کا ہو ، اسے ایک نہ ایک دن مٹنا ہے اور اہل حق و انصاف کو غلبہ و انصاف ملنا ہے ، یہی نظام قدرت ہے ، جس پر دنیا قائم ہے ، ولن تجد لسنۃ اللہ تبدیلا ( اور اللہ کے فیصلہ میں کوئی تبدیلی نہیں )۔
اے اللہ ! شام میں برکت عطا فرما :
سرزمین شام کو قرآن کریم نے ارض مبارکہ یا ارض مقدسہ سے تعبیر کیا ہے ، اس کا ماضی شاندار اورعظمتوں سے لبریز ہے ، اس سرزمین کو تاریخی استناد بھی حاصل ہے ، اگرچہ قدیم شام میں فلسطین ، اردن ، لبنان اورسوریا(موجودہ شام )اور اسرائیل بھی ہے ، اس کو اللہ تعالی نے ظاہری اور معنوی برکات و خیرات سے معمور کیا ہے ، ظاھری برکات تو اس کے خوبصورت باغات ، انجیر و زیتون کے درخت ،، شاداب کھیتیاں ، لہلہاتی فصلیں اور موسمی تازہ پھلوں سے عبارت ہیں، یہی وجہ ہے کہ عربی شاعر احمد شوقی نے ان فطری مناظر کو دیکھ کر یہاں تک کہہ دیا کہ آمنت باللہ واستثنیت جنتہ ۔ دمشق روح وجنات وریحان( میں االلہ پر ایمان لاتا ہوںاور ایمان کے تمام اصولوں (یعنی انبیاء ، فرشتے ، کتابیں ، آخرت ) کو تسلیم کرتا ہوں کہ لیکن جنت کااستثناء کرتا ہوں، کیونکہ دمشق میرے لئے دنیا میں جنت کی مانند ہے )، روحانی برکات میں تو یہ بات ہے کہ یہ انبیاء کی سرزمین ہے ، اور یہ محشر کے برپا ہونے کا علاقہ ہے ، ملائکہ اس علاقہ پر اپنے بازو دراز کئے رہتے ہیں ، اور اس میں ایسی محبوب و مقبول جماعت پائی جاتی ہے جس کو کوئی روسیاہ نقصان نہیں پہونچا سکتا ، اللہ تعالی نے اس سرزمین کے مرتبہ کو قصہ اسراء و معراج کے ذریعہ دوبالا کر دیا ، اور قرآن کریم کے پندرہویں پارے کی پہلی آیت میں اس کا تذکرہ کیا ہے ، اللہ کے رسول ﷺ نے سولہ مہینے اس سرزمین کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی ہے ، اور حضرت عیسی علیہ السلام جنہیں آسمان پر اٹھا لیا گیا ہے ، وہ دوبارہ اسی سرزمین پر اتارے جائیں گے ، اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ نے اپنی دعاؤں میں خاص طور پر اس علاقہ کو یاد رکھا : اللھم بارک لنا فی شامنا(صحیح بخاری) ( اے اللہ ! ہمارے شام میں برکت عطا فرما) اور یہ بھی فرمایا : علیکم بالشام ( منذری ، ترغیب وترھیب)(لوگو ! شام کا خیال رکھو ، اس کی حرمت و عظمت کو پیش نظر رکھو )۔یہ وہ تابناک اور روشن پہلو ہیں ، جو شام کے علاقہ کو پر نور بناتے ہیں ۔
سرزمین مقدس میں عروج و زوال کی داستان
تاریخی لحاظ سے دیکھا جائے توشام کا علاقہ قدیم ترین علاقوں میں سے ہے ، تقریبا ڈھائی ہزار سال قبل مسیح کنعانیوں اور غسانیوں کے دوقبیلے جزیرۃ العرب سے آکر یہاںآباد ہوئے ، کنعانیوں نے سرزمین فلسطین اور اس کے اطراف میں بود و باش اختیار کی ، اور غسانیوں نے شام( یعنی موجودہ سوریا ) کو اپنا مستقر بنایا ، پھر آشوریوں اور دوسرے قبائل یہاں آئے ، اس کے بعد کلدانیوں کا زمانہ آیا ، جن میں بخت نصر تھا ، جس نے اس علاقہ پر حکومت کی اور یہاں کی ظالم حکومت ( اسرائیل )کا خاتمہ کیا ، اس کے بعد ایرانی بادشاہ سائرس کی حکومت ہوئی ، جس نے شام پر اپنا جھنڈا گاڑا ، پھر یونانی فاتح سکندر مقدونی کا دور آیا ، جس نے ایرانیوں کو شکست دی ، اور اپنی حکومت قائم کی ، اس اقتدار کے زوال کے بعد بیزنطینی حکومت قائم ہوئی اور وہ عہد رسالت تک رہی
آفتاب اسلام کے طلوع ہونے اور رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے بعد جزیرۃ العرب میں اس کی کرنیں پھیلنے لگیں ، جن سے اس کا علاقہ منور ہو گیا ، خلافت راشدہ میںخلیفہ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں سیدنا ابو عبید ہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں ۶۳۶ء یہ علاقہ فتح ہوا ، فتح کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وہاں کا سفر ایک تاریخی واقعہ ہے جو رہتی دنیا تک تواضع و خاکساری کا نمونہ پیش کرتا رہے گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ شام کی طرف جارہے تھے تو اس وقت ان کے پاس کوئی عمدہ سواری نہیں تھی ، لوگوں نے کہا کہ امیر المؤمنین ! آپ ایک بڑے علاقہ کا اقتدار سنبھالنے کے لئے تشریف لے جارہے ہیں ، ضروری ہے کہ اچھی سواری پر سوار ہو جائیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے برجستہ فرمایا : اللہ تعالی نے ہمیں اسلام کے ذریعہ عزت عطا فرمائی ہے ، اگر ہم اسلام کے اصولوں کو چھوڑ کر دوسری چیزوں کے ذریعہ عزت و شرف کے طالب ہوں گے تو اللہ تعالی ہم کو ذلیل کر دیں گے ( المستدرک علی الصیحین)۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے عام لباس ، اوراپنی خاص سواری پر سفر کیا ، اور اسی انداز میں شام میں داخل ہوئے ۔
خلافت امیہ میں دمشق کو دار الحکومت ہونے کا شرف حاصل ہوا ، اس دور میں شام میں بڑی ترقیات ہوئیں ،اور اس کی شہرت دور دور تک پہونچی ، پھر خلافت عباسیہ میں دمشق اگر چہ دار الحکومت نہیں رہا ، اور بغداد کو عباسی حکومت کا پائے تخت بنایا گیا ، لیکن اس کو اسلامی ثقافت کا مرکز تسلیم کیا جاتا رہا ، عباسی حکومت جب کمزور ہوئی تو سلجوقیوں نے اس پر قبضہ کیا ، اورصلیبیوں کا ناپاک سایہ پڑا ، وہ تقریبا اسی( ۸۰) سال تک اسی علاقہ پر قابض رہے ، اس وقت اللہ تعالی نے سلطان عماد الدین زنگی ، سلطان صلاح الدین ایوبی کو کھڑا کیا ، اور ان کو توفیق بخشی کہ انہوں نے۱۱۸۷ء میں اس علاقہ کو غیر ملکی استبداد سے آزاد کرایا ، سلطان الدین ایوبی کا تعلق کردوں سے تھا ، انہوں نے غیر معمولی محنت وکوشش سے یہ علاقہ فتح کیا ، پہلے منتشر حکومتوں کو متحد کیا ، پھر حملہ کر کے اس علاقہ کو اسلامی قلمرو میں داخل کیا ، اس کے کچھ سالوں کے بعد عثمانی حکومت کے زیر اثر یہ علاقہ رہا ، سلطان سلیم کے زمانہ میںیہ علاقہ عثمانی حکومت میں شامل ہوا ، اور تقریبا چار سو سال تک عثمانی خلفاء اس کے ذمہ دار رہے ،ان کے دور میں شام میں بڑی ترقی ہوئی ، اور استنبول سے حجاز تک جانے والی ریلوے لائن بچھائی گئی ،جو شام سے گذرتی ہے ، پہلی عالمی جنگ عظیم کے بعد جب خلافت عثمانیہ کا شیرازہ منتشر ہوا تو برطانیہ ور فرانس اور روس نے مل کر سایکس پیکو معاہدہ کے تحت شام کو فرانس کے حوالہ کر دیا ،اور فلسطین برطانیہ کے حوالہ کیا
شام کا نیا منظر نامہ :
سوریا ( شام )فرانس کے زیر اثر رہا ، لیکن بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں آزاد ہوا ،لیکن اس نے ایک حصہ الگ کرکے لبنان کے نام سے ایک عیسائی ملک آباد کردیا ، شام کے اولین صدر جمہوریہ شکری قوتلی تھے ، جرنل حسنی زعیم نے ان کا تحتہ پلٹ دیا ، اس طرح یکے بعد دیگرے سیاسی انقلابات شام کی سرزمین پر آتے رہے ،اور یہ فوجی انقلابات تقریبا آٹھ تک پہونچتے ہیں، اسی درمیان مصر جمال عبد الناصر کی قومیت عربیہ کی تحریک زوروں پر تھی کہ مصر و شام کا انضمام ہوا ، اور الجمھوریۃ العربیۃ المتحدۃ کے نام سے ایک حکومت قائم ہوئی ، لیکن کچھ سالوں کے بعد یہ اتحاد ختم ہو گیا ، شام کی سرزمین پر بعث پارٹی جو میشیل عفلق نے قائم کی تھی وہ بر سر اقتدار رہی ، اس کے کئی لیڈران نے حکومت کی ،لیکن بعث پارٹی ہی کاایک نمائندہ حافظ الأسد نے فوجی بغاوت کے ذریعہ ملک پر قبضہ کیا ،اس کی حکومت ۱۹۷۰ء سے ۲۰۰۰ء تک رہی ، وہ شام کی حکومت پر قابض رہا ، اس کا تعلق شیعوں کے نصیری فرقہ سے تھا ، اس کے بعد اس کے بیٹے بشار الأسد نے اپنے والد کے ظالمانہ نہج کو اختیار کیا ، شام میں سنیوں کی تعداد ۸۰؍ فیصد ہے ،اور نصیری دس فیصد ہیں ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا کا درجہ دیتے ہیں ، لیکن بشار الأسد نے نصیری شیعوں کو فوج میں اور ملیٹری میں بڑی تعداد میں ملازمت دی ، اور ان کو اعلی عہدوں پر رکھا ،جس کا اثر یہ ہوا کہ ان کو سنی مسلمانوں پر ظلم کرنے کا موقع ہاتھ آیا ، اور انہوں نے بڑی بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ جیلوں میں سنیوں کو ٹھوسا اور نوع بنوع کی سزائیں دی ، اور ہزاروں افراد کو سولی دی گئی ،صیدنایا کے واقعات کی تفصیلات اس وحشت ناک منظر کا بیان کرنے کے لئے کافی ہیں، اور لاکھوں نے ترکی ہجرت کر نے پر مجبور ہوئے ، اور ہزاروں میں دوسرے ممالک میں مقیم ہیں ، بشار کی پشت پر ایک طرف روس کا ہاتھ تھا ،تو دوسری طرف ایران تھا ، جس نے ہر موقع پر اس کی مدد کی ، ورنہ اس ظالم حکومت کی بساط لپیٹ دی گئی ہوتی ، لیکن حالیہ صورت حال میں انہوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ، اس لئے یہ صورت حال پیش آئی ۔ یہ ظاہری سبب ہوا ، اندرونی طاقت تو اللہ تعالی کی ہے ، جس نے اپنی قدرت قاہرہ اور حکمت بالغہ سے مظلوم کی مدد کی اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہونچایا۔
شام اندیشوں اور امیدوں کے درمیان :
شام کے غیرت مند باشندے اپنی بساط کے مطابق ظلم کے خاتمہ کی کوشش کرتے رہے ، ان کا دینی جذبہ بیدار اور ایمانی حوصلہ متحرک رہا ، وہ فتح و غلبہ کی دعائیں کرتے رہے ، اور اپنے ملک کو ظلم کی بھٹی سے نکالنے اور مظلوموں کو انصاف دلانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگاتے رہے ، اس کے لئے کئی محاذقائم ہوئے ، متعدد تنظیمیں بنائی گئی ،۲۰۱۱ء میں عرب بہاریہ کے بعد اس تحریک کو تقویت حاصل ہوئی ، جب کچھ بچوں نے دیوار پر لکھا تھا کہ بشار کی حکومت ختم ہورہی ہے ،ان بچوں کے ساتھ جو جابرانہ سلوک کیا گیا وہ ناقابل بیان ہے ، ان کے ساتھ سخت کارروائی کی گئی تو ایک بیداری مہم چھڑ گئی ، جس نے پورے شام میں جہاد و انتقام کا جذبہ پیدا کردیا ،اور مسلح تحریکوں نے اس کو اپنی جولان گاہ بنالیا ، پھر ۲۰۱۷ء میں ان کا ایک مجموعہ ھیئۃ تحریر الشام (جو ۲۲ چھوٹے چھوٹے گروپوں پر پر مشتمل تھا اور اس کے HTS کے نام سے جانا جاتا ہے) کی صورت میں تیار کیا گیا ، اور اس کی قیادت نوجوان قائد محمد احمد الشرع کے سپرد کی گئی ، ادلب سے اس انقلاب کا آغاز ہوا ،اوراس انقلاب کو ردع العدوان ( ظلم کا خاتمہ )کا نام دیا گیا ہے ،۲۷؍ نومبر ۲۰۲۴ء کو یہ مہم شروع ہوئی ،اگلے مرحلہ میں حماۃ فتح ہوا ، پھر حمص کا علاقہ فتح ہوا ،اور آٹھ دسمبر کو یہ متحدہ محاذ دمشق پہونچ گیا ، اور اس نے مکمل فتح کا اعلان کیا ،اور بشار روس راہ فرار اختیار کر گیا، ذرائع کے مطابق جاتے وقت اس نے دوٹن ڈالر اور یورو اپنے پاس رکھا ، اس مکمل کارروائی میں معافی کاا علان کیا گیا ، اور سرکاری املاک کو نقصان نہ پہونچانے کی تلقین کی گئی ، اور اس کو بار بار دہرایا جاتا رہا، اس بیدارمغز قیادت کے پیچھے احمد الشرع کی شخصیت ہے ، جن کی عمر بیالیس سال ہے ، ان کی پیدائش ۱۹۸۲ء میں ریاض میں ہوئی ، ان کے والد پٹرول انجینئر تھے ، ۱۹۹۰ء میں یہ دمشق آئے ، اور اپنی فوجی مہم جاری رکھی ،اور اپنے حکیمانہ قیادت اور مبصرانہ رائے کے ذریعہ عالمی میڈیا کو بھی مطمئن کررہے ہیں ، ان کے متعدد انٹریوز انٹرنیٹ پر موجود ہیں ، جس میں انہوں نے بڑی حکمت و بصیرت سے شام کے مستقبل کا نقشہ عالمی سطح پر پیش کیا ہے ۔ انہوں نے شام کی تعمیر نو پر ساری توجہ مرکوز کی ہے ، اور اس سلسلہ میں تمام سیاسی و غیر سیاسی حلقوں سے ملاقات کررہے ہیں ، ابھی چند دن پہلے لبنان کے وزیر اعظم نجیب میقاتی کے ساتھ پریس کانفرنس کی اور ملک کو ترقی اور بہتری کی سمت لے جانے کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ۔اور انہوں نے اعلان کیا ہے کہ شام میں جمہوریت ہوگی اور تمام اکائیوں کو مساوی حقوق ملیں گے ۔
شام کی موجودہ صورت حال یہ ہے کہ شام کی عبوری حکومت کے ذمہ دار وزیر اعظم محمد البشیر بنائے گئے ہیں ، ۱۰؍ جمادی الأخری ۱۴۴۶ھ مطابق ۱۳؍ دسمبر ۲۰۲۴ء کو جمعہ کے دن کو نئی انتظامیہ کے سربراہ احمد الشرع نے تمام باشندوں سے یوم فتح منانے کی اپیل کی ، جامع اموی دمشق میں وزیرمحمد البشرکی امامت میں نماز جمعہ ادا کی گئی ، اور لوگوں نے ملک کی خیر و سلامتی کے لئے دعاء کی ، اس دن عوام و خواص سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے سجدہ شکر ادا کیا کہ اللہ تعالی نے ان کو ایک ظالم اور جابر حکومت سے نجات دی، لاکھوں افراد جو ترکی میں پناہ گزیں کی حیثیت سے زندگی گذاررہے تھے ، وہ بھی واپس ہورے ہیں اور اپنے وطن میں امن و سکون کی فضا محسوس کررہے ہیں ۔ خبروں کے مطابق شام میں کردوں کی قیادت میں شامی جمہوری فورسز ( SDF )نے کئی روز جنگ بندی کا اعلان کیا ہے ، ان کا مطالبہ مستقل حکومت کے قیام کا ہے ، کردوں کا یہ نظریہ ترکیہ کے لئے بھی سوہان روح سے کم نہیں ہے ،کیونکہ وہ اپنے باغیوں کو سورش برپا کرنے کی وجہ سے نشانہ پر رکھتا ہے ، میڈیائی ذرائع کے مطابق ترکیہ نے شامی انقلاب میں اس لئے دلچسپی زیادہ لی ہے ، کیونکہ ایچ ٹی ایس کے افراد کردوںکے خلاف محاذ آرائی میں اس کی مدد کر سکتے ہیں ۔
ادھر اسرائیل نے نئی حکومت کے قیام اور بشار حکومت کے خاتمہ کے ساتھ کئی علاقوں پرقبضہ کر لیا ہے ، تقریبا دس کلو میٹر کا شامی علاقہ اس نے ہتھیالیا ہے ،اور گولان پہاڑی سے تجاوز کرتے ہوئے بفر زون بنا نے کے لئے شام کی زمین پر قابض ہو کر اپنی فوجی تنصیابت قائم کررہا ہے ، اس کا کہنا ہے کہ ہم کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ لر کے ان اسلحے ذخیروں کو تباہ کررہے ہیں ، جو گولان پہاڑیوں کے قرب و جوار میں دفاع کی غرض سے رکھے گئے ہیں ، تاکہ ان اداروں کو ہمارے خلاف استعمال نہ کیا جا سکے ،اس نے یہ بھی کہا ہے کہ سابقہ حکومت سے ہمارا جو معاہدہ تھا وہ ختم ہو چکا ہے ، نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمب نے اپنے بیانوں میں کہا ہے کہ ہمیں ریگستان اور قبرستان سے کوئی سرو کار نہیں ، گویا وہ اس سرزمین میں دخل اندازی سے دور ہیں ، لیکن صورتحال یہ ہے کہ شام میں امریکی اڈہ ابھی موجود ہے ، اور موہوم نظریہ داعش کو موضوع بنا کر اس کے باقی رکھنے کی بات کہی جارہی ہے ، ٹرمب کے ایک جارحانہ بیان نے ہر ایک حیران کردیا کہ اگر ہماری تاج پوشی تک غزہ سے اسرائیلی قیدیوں کو واپس نہیں کیا گیا تو ہم اس کو جہنم بنا دیں گے ۔یہ بیان کئی بار دہرایا گیا ، گویا دھمکیوں کے ذریعہ وہ اس مسئلہ کو حل کرنا چاہتے ہیں ، جو ایک محال بات معلوم ہوتی ہے ۔خوش آئند بات ہے کہ قطر کی سربراہی میں غزہ میں جنگ بندی کی بات آخری مرحلہ میں ہے ، اللہ کرے کہ غزہ کے باشندوں کو امن و سکون حاصل ہو تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطی پر پڑیں گے ۔
شام کی نئی حکومت کے سامنے کئی چیلنجزہیں ، جن کو حل کرنا وقت کا بنیادی تقاضا ہے ،مسلح گروپس کومتحد رکھنا ، اور قابض علاقوںکو واپس لینا ، اورملک کو دوبارہ پورے استحکام کے ساتھ آگے بڑھانا ، اور خانہ جنگی سے بچانا، یہ اور اس طرح کے دیگر تقاضے ہیں ، جن کا پورا ہونا ضروری ہے ۔
صبح روشن کا پیغام :
خلاصہ یہ کہ شام میں جو صبح طلوع ہوئی ہے ، وہ بڑی قربانیوں اور سرفروشیوں کے بعد ہوئی ، اور یہ اسلام کی تاریخ رہی ہے کہ اس کی دعوت پھولوں کی سیج سے ہو کر نہیں گذری ہے ، بلکہ آبلہ پائی اور جان فروشی سے گذرکر منزل تک پہونچی ہے ، پھر صبح روشن طلوع ہوتی ہے ، علامہ اقبال نے عثمانیوں کے حوالہ سے یہ شعر کہا تھا ، لیکن ہم اس کو شامیوں کے حالات پر منطبق کر سکتے ہیں :
اگر عثمانیوں پر کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا
مشہور عربی محاورہ ہے : من لیست لہ بدایۃ محرقۃ ،لیست لہ نھایۃ مشرقۃ ( جس کا آغاز شوریدہ اورتپیدہ نہیں ہوگا ، اس کا انجام بھی روشن اور خوشگوار نہیں ہوگا )۔
