مہوتسو 29/جنوری سے 2/فروری 2025 تک منعقد ہوگا۔

(عبدالمبین منصوری)

سدھارتھ نگر: کپلوستو مہوتسو جو ضلع کے قیام کے سال سے ہی منعقد کیا جاتا رہا ہے۔ پچھلے کچھ سالوں سے اس کا نام بدل کر سدھارتھ نگر مہوتسو رکھ دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ کئی سالوں سے مسلسل 29 دسمبر کو ضلع کے قیام کے بعد سے ہی کپلوستو مہوتسو کا انعقاد کیا جا رہا تھا۔ جسے آرگنائزنگ کمیٹی نے تبدیل کر کے جنوری فروری ماہ میں کر دیا جس سے ضلع کے عوام میں تشویش اور مایوسی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

سب سے بڑی مایوس کن بات تو یہ ہے کہ اس سال پہلی بار آل انڈیا کوی سمیلن اور مشاعرہ کو ضلع کے واحد مہوتسو میں جگہ بھی نہیں مل سکی ہے۔

ضلع انتظامیہ اور مہوتسو آرگنائزنگ کمیٹی نے ہر سال 29 دسمبر کو ضلع میں منعقد ہونے والے کپلوستو مہوتسو کا نام بدل کر سدھارتھ نگر مہوتسو کر دیا اور 29 دسمبر کی تاریخ بھی بدل کر جنوری فروری کر دی گئی۔ جس پر ضلع کے بعض دانشوروں نے دبے لفظوں میں اپنے اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔

حد تو اس بات کی ہو گئی کہ پہلی بار آل انڈیا کوی سمیلن اور مشاعرہ کے پروگرام کو مہوتسو میں جگہ بھی نہیں دی گئی، جس کی وجہ سے ضلع کے ادب نوازوں میں کافی مایوسی دیکھی جارہی ہے۔

ضلع کی ادبی و سماجی تنظیم نئی آواز کے بانی ڈاکٹر جاوید کمال جو ہر ماہ مقامی اور دور دراز کے اضلاع سے ہندی اور اردو کے ادیبوں کو مدعو کرکے مشاعرہ اور کوی سمّیلن کا انعقاد کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مشاعرہ اور کوی سمیلن کا مہوتسو میں انعقاد ہونا چاہیے۔ مہوتسو میں مشاعرہ اور کوی سمّیلن کو جگہ فراہم نہ کر کے ضلعی انتظامیہ اور آرگنائزنگ کمیٹی نے تمام ادب نوازوں کے امیدوں پر پانی پھیرنے کا کام ہی نہیں کیا ہے بلکہ ضلع کے ادبی تخلیق کاروں کی صنف کو بھی تباہ کرنے کا کام کیا ہے۔

ضلع کے نوجوان شاعر اور ایڈووکیٹ شاداب شبیری نے کہا کہ ادیبوں اور شاعروں کے دم پر ہی انگریزوں کو ملک سے نیست و نابود کرنے کا کام کیا گیا تھا۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ اور آرگنائزنگ کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ اور آرگنائزنگ کمیٹی فوری طور پر مشاعرہ کے پروگرام کو مہوتسو میں اضافہ کرکے ضلع کے ادب نوازوں کو قومی اور بین الاقوامی افق پر چمکنے کا موقع فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے۔

اسی طرح سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر منظر عباس رضوی نے بھی ضلع انتظامیہ اور آرگنائزنگ کمیٹی کی کاروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ مہوتسو میں آل انڈیا مشاعرہ اور کوی سمیلن منعقد نہ ہونے کی وجہ سے ضلع کے ادبی حلقوں میں مایوسی نظر آ رہی ہے۔

اس طرح ضلع انتظامیہ اور آرگنائزنگ کمیٹی کی طرف سے آل انڈیا کوی سمیلن اور مشاعرہ منعقد نہ کرنے کے فیصلے سے ضلع کے ادب سے وابستہ تمام افراد بہت افسردہ اور ناراض ہیں اور ان کا پرزور مطالبہ ہے کہ مہوتسو کے پروگرام میں آل انڈیا کوی سمیلن اور مشاعرہ کو ازسرنو شامل کیا جائے۔

واضح رہے کہ امسال مہوتسو 29/جنوری سے 2/فروری 2025 ہونا طے ہے۔

One thought on “آل انڈیا مشاعرہ اور کوی سمیلن کو مہوتسو میں پہلی بار نہیں ملی جگہ”
  1. عبدالمنان ندوی۔استاذ ادب عربی مرکز الإمام احمد بن حنبل الاسلامی تولہوا نیپال نے کہا:

    افسوسناک خبر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے