محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ بارگاہِ ایزدی 
’’ہمارے خانوادے کاایک ستارہ بارگاہ ِ ایزدی میں پہنچ گیا، اسلئے زیادہ غم نہیں ہے ،منزل پر پہنچنے والے کے بارے میں روتے دھوتے نہیں ہیں‘‘ بڑے صاحب نے سبھی سے کہا۔ ان کے بھائی کی میت پر ہم انھیں تسلی اور دلاسہ دینے آئے تھے۔ مگر وہ ہمیںدِلاسہ دے رہے تھے۔ ہمارے ساتھیوںمیں سے کسی نے پوچھ لیا’’بڑے حضرت ، بارگاہِ ایزدی میں پہنچنا کیاہوتاہے ؟‘‘ بڑے حضرت جھوم گئے ، آنکھیں میں جیسے خمار اُتر آیا۔کہاکہ ’’بارگاہِ ایزدی میں پہنچنے یا پہنچائے جانے کاعمل عین خوش نصیبی ہے۔ اور اس مومن کے لئے خوش نصیبی ہے جس نے بارگاہ والے کو دیکھنے اس سے قربت حاصل کرنے کی تمنا کی ہو‘‘
مجھ سے نہیں رہاجاسکا، میں نے پوچھ لیا’’جس نے ربِ کریم سے متعلق کوئی آرزو ، کوئی تمنا نہ کی ہو، اس کاحال کیاہوگا؟‘‘ بڑے حضرت ابھی بھی اسی فسوں میں تھے ۔ کہاکہ ’’اس کی تمنا ہی کو تمنا کہتے ہیں، وہ ہے ہی تمنا کے قابل ، اس کے بنادنیا نہیں ہے ، وہ دنیااور ہمارے بناقائم ہے اور ہمیشہ رہے گا‘‘ہم وہاں سے چلے آئے تو لگاکہ دنیا بے ثبات ہے لیکن آخرت تو خوشیوں ، آرزوؤں اور تمناؤں کاگھر ہے ‘‘
۲۔ دشمن دماغ 
’’میںاُسکی نہیں اُس کے دماغ کی تعریف کروں گا‘‘ انیل جان نے کہاتو میں نے پوچھا’’ وہ کیوں کر ؟‘‘
انیل جان پہلے تو ہنسا ،بعدمیں بھی دیرتک ہنستاہی رہا۔ میں موبائل دیکھنے میں مشغول ہوگیا اور آہستہ آہستہ میری پیشانی پر شکنیں بھی ابھر نے لگیں جو اس بات کی نشانی تھی کہ میری بیزاری کاآغاز ہورہاہے ۔ پھرا ُس نے جو جواب دیا میرے لئے ہوش اڑادینے والا تھا۔
اُس نے کہا’’اس کے دماغ کی تعریف اسلئے کروں گاکیوں کہ اُس کادماغ خود اُس کوغلط راستے پر لے جارہاہے۔ اسلئے اُس کے خلاف ہمیں کچھ کرنے کی اب ضرورت نہیں رہی ‘‘
۳۔ آن لائن رہنا 
’’ایک طرف کہہ رہے ہیں کہ آن لائن پیسے کمائیں ، دوسری طرف بتایاجارہاہے کہElon Musk صرف ایک گھنٹہ سوشیل میڈیاپر ہوتے ہیں۔ یہ کیا دوغلی پالیسی ہے ‘‘عبدالمعز کافی غصہ میں لگ رہے تھے۔ ان کاغصہ ٹھنڈا کرانا ضروری تھا۔اس لئے انہیں بتایاگیاکہ ’’دراصل جو لوگ سوشیل میڈیا کے ذریعہ پیسے کمارہے ہیں، وہ 24X7بھی سوشیل میڈیا پر وقت دے سکتے ہیں، اس سے ان کی ارننگ میں اضافہ ہوگا لیکن جولوگ دل بہلائی کے لئے ، وقت گزاری کے لئے ، سیروتفریح کے لئے سوشیل میڈیا استعمال کررہے ہیں، ان کیلئےElon Musk  مثال ہیں۔ وہ صرف ایک گھنٹہ وقت سوشیل میڈیا کو دیتے ہیں۔ ‘‘
عبدالمعز بولے ’’اچھا، اچھا ، ایسی بات ہے کیا؟پھر تو Elon Musk  کافی وقت سوشیل میڈیا کو دیتے ہیں۔ سوشیل میڈیا کو دئے جارہے وقت میں وہ کمی کریں کیوں کہ اربوں پتی آدمی کاایک گھنٹہ ہمارے ہزاروں لاکھوں گھنٹوں پربھاری ہوتاہے ‘‘عبدالمعز نے بات تو سہی کہی تھی۔کیاElon Musk  سوشیل میڈیا سے ہٹنا پسند کریں گے تاکہ ان کی ارننگ متاثر نہ ہو۔
۴۔ بہادری کے چرچے 
لوگ بہت سارے تماشائی بنے کھڑے تھے۔ جب کہ وہ صرف دو تھے اور ان کے پاس پستول تھی۔ کون اپنی جان گنواتا۔ انھوں نے اپنے ہدف پر گولیاں چلائیں۔دونوں گارڈ جان سے ہاتھ دھوبیٹھے اور وہ لاکھوں روپیوں سے بھرا ہواصندوق لے کر فرار ہوگئے۔۔۔۔۔۔ شہر بھر میں ان کی بہادری کے چرچے ہیں ۔کوئی دونوں مرنے والوں کی طرف متوجہ نہیں ہے۔ وقت نے بتایاکہ وہ شہر فلمیں دیکھ دیکھ کر طاقتور افراد کی پرستش کرنے لگاتھا ۔ چاہے اس کی طاقت جھوٹ اور فساد کے لئے لگائی جارہی ہو۔سچ ہے بزدلی جب گھر کرلیتی ہے ، وہ اچھے برے کی تمیز کھودیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے