ممبرا(مہاراشٹر): مورخہ ١٣ جنوری بوقت شام وسیم خان وسیم صاحب کی ممبئی آمد پر کوسہ ممبرا میں "پیام شاعر” کی جانب سے حکم چند کوٹھاری اصغر صاحب کی سرپرستی میں ایک عظیم الشان مشاعرے انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت کا فریضہ بحسن وخوبی اعجاز ہندی صاحب نے انجام دیا، وہیں مہمان خصوصی کی حیثیت سے لکھنو سے آئے معتبر شاعر معید رہبر صاحب رہے۔ ساتھ ہی آپ کے مجموعہ کلام "منظور نظر” کی رونمائی بھی عمل میں آئی ،جبکہ نظامت تابش رامپوری صاحب کے ذمہ رہی ، پروگرام کے دوران ترجمان” پیام شاعر” سلیم رشک صاحب نے چینل "پیام شاعر” کے اغراض ومقاصد پر گہری روشنی ڈالی اور شام ساڑھے سات بجے سے رات دس بجے تک مشاعرہ اپنی آب وتاب کے ساتھ جاری رہا۔

لیجئے شاعروں کے نمائندہ اشعار قارئین کی خدمت میں حاضر ہیں:
یہ زمیں میری رہی یہ آسماں میرا رہا
جب تلک یہ سلطنت یہ ہفت خواں میرا رہا
جناب اعجاز ہندی، صدر مشاعرہ
____________________
کچھ ایسے لفظ میرے وظیفے میں آگئے
اردو ادب کے جن مرے قبضے میں آگئے
زبیر گورکھپوری
____________________
بے خودی سے ہم جو تھوڑا ہوش میں آنے لگے
سر تری دہلیز کے پتھر سے ٹکرانے لگے
وسیم خان وسیم (مہمان اعزازی)
____________________
انا پرست ہوں مل جاؤں خاک میں لیکن
خرید سکتا نہیں کوئی مال وزر سے مجھے
معید رہبر، لکھنو (مہمان خصوصی)
____________________
تُو سنگ حُسن پھینک نہ دریائے عِشق میں
ہوتی ہے میرے دِل میں بھی ہلچل کبھی کبھی
سلیم رشک (ترجمان پیام شاعر)
____________________
اپنی سانسوں کا سود دینا ہے
زہر آلود ہے نگر اپنا
خلیق الزماں نصرت
____________________
ابھی سے کیسے اسے سونپ دوں میں دل اپنا
جو کھیل کھیل میں پازیب ادھر ادھر کر دے
شمیم دانش (ترجمان پیام شاعر)
____________________
ہمیں ملحوظ رکھنا ہے وقار آدم و حوا
رہ انسانیت یکساں نہیں کرتے تو کیا کرتے
ایاز بستوی (مدیر پیام شاعر)
____________________
ہمارے زخم پرانے سہی مگر اب بھی
کسی حلاوت و لذت کی بات کرتے ہیں
مومنؔ ہندیؔ (ترجمان پیام شاعر)
____________________
ہم سمجھتے تھے ہمیں استاد لفاظی میں ہیں
لمبی لمبی اب تو وہ بھی چھوڑتے ہیں کیا کریں
حکم چند کوٹھاری "اصغر” (سرپرست)
____________________
ہر ایک شے پہ ان کا ہے احسان ابھی بھی
آقا ہیں دوجہان کے سلطان ابھی بھی
فخر عالم خان اعظمی (ترجمان پیام شاعر)
____________________
راز چھپ ہی نہ سکے لذت یکتائی کے
میں صعیدی تجھے اشعار سے پہچان گیا
ذوالفقار صعیدی
____________________
ہماری جستجو دنیا میں اک دن کارگر ہوگی
سماعت معتبر ہو تو غزل بھی معتبر ہوگی
تابش رامپوری( نظامت)
____________________
غربت نے میری مجھ کو سمجھدار کردیا
شکر خدا نے اور بھی خوددار کر دیا
ہنر رسولپوری
____________________
فاتحہ پڑھنے بھی آئے ہو تو ہے ساتھ رقیب
تم مسلمان ہو مردے کو جلاتے کیوں ہو
محمد علی علوی
____________________
شام کے وقت سمندر کے کنارے اکثر
ہم کو ملتے ہیں بہت درد کے مارے ہوئے لوگ
جگاڑ دیوبندی
____________________
زندگی بدلتی ہے حال کے بدلنے سے
ورنہ کچھ نہیں ہوتا چال کے بدلنے سے
رفیق چوگلے
____________________
جانے کب موت ہم کو آجائے
نیک بن کر سدا رہو پیارے
ساحلؔ بستوی
____________________
میری غربت مجھے پردیس اٹھا لائی ہے
میں نے سوچا تھا کبھی گاؤں نہیں چھوڑوں گا
ذیشان ضیا
____________________
سیاست اب طوائف بن گئی ہے
نہ لیڈر ہے نہ کوئی رہنما ہے
سلمان حنیف خان
____________________
پروگرام کے اختتام پر صاحب خانہ تابش رامپوری صاحب نے شعراء اور سامعین کا شکریہ ادا کیا۔
