مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ للبنات کدوا میں تعزیتی نشست کا اہتمام
حضرت مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی رحمۃ اللہ بہترین مدرس ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین منتظم بھی تھے،آپ جہاں ایک طرف عربی زبان وادب کے ماہر تھے وہیں دوسری طرف اردو زبان وادب کے بھی انشاء پرداز تھے،مذکورہ خیالات کا اظہار جناب مفتی محمد انتخاب ندوی نے مؤرخہ16/جنوری2025 بروز جمعرات مدرسہ خدیجۃ الکبریٰ کدوا کے کیمپس میں برصغیر کے مشہور عربی ادیب، مقبول انشاء پرداز، رابطہ ادب اسلامی ہند کے صدر، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے ناظر عام مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی کے انتقال پر تعزیتی نشست میں طالبات کو مخاطب کرتے ہوۓ نم آنکھوں کے ساتھ کیا،آپ نے مزید کہا کہا کہ”حضرت مولانا مرحوم مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ کے عکس جمیل تھے،آپ کی زندگی اپنے والد ماجد حضرت مولانا سید محمد واضح رشید ندوی رحمۃ اللہ کی طرح سادہ تھی، آپ بلند اخلاق اور مرنجا مرنج شخصیت کے حامل تھے،آپ کی گفتگو مختصر مگر جامع اور علمی ہوا کرتی تھی،آپ ندوہ کے بہترین ترجمان اور اپنے اسلاف کے بہترین جانشین تھے،مفتی محمد انتخاب ندوی نے مزید کہا کہ آپ نے عربی عبارت انتہائی آسان اور پرکشش ہوا کرتی تھی،عربی میگزین الرائد میں موجود براعم الايمان کا انتظار ہر عربی متعلم بے صبری سے کیا کرتا تھا، آپ نے سیکڑوں اردو اور عربی مضامین اچھوتے انداز میں تحریر کئے ہیں جو طلبہ اور علماء کے لئے سدا مشعل بنے رہیں گے۔
واضح رہے اس موقع پر ادارہ کے مہتمم جناب ماسٹر و حافظ محمد مسرور عالم، جناب مفتی شمشیر ندوی، جناب ماسٹر عبدالرازق کلرک جناب ماسٹر جنید وغیرہم موجود تھے۔
