فیاض قریشی
اس میں شک نہیں کہ جب کوئی معاشرہ اپنی بنیادی غلطیوں کو نظر انداز کردیتا ہے تو وہ کبھی پنپ نہیں سکتا۔ چناچہ دیکھا جاسکتا ہے کہ اس ملک میں مسلم معاشرہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود پنپ نہیں پارہا ہے بلکہ اس کے بگاڑ میں مزید اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے اور  مصیبتیں ہیں کہ بڑھتی ہی جارہی ہیں، ایسا کیوں اور کس لئے ہورہا ہے، آئیے اس کا جائزہ لیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ماں کی گود بچے کے لئے ایک بہترین درس گاہ ہوتی ہے، اس گود میں پل کربچے کا ذہن جیسا کچھ اور جو کچھ بھی بنتا ہے ، جیسے کچھ بھی اثرات قبول کرتا ہے ۔ ماہر ین نفسیات کے مطابق وہ اثرات تاحیات اس کی زندگی میں نمودار ہوتے رہتے ہیں۔ آج مسلمان مائیں اپنے بچوں کی پروش اور تربیت کس طرح کررہی ہیں اس سے متعلق کچھ کہنے کی ضرورت نہیں اور جوں توں کرکے جب بچہ ماں کی گود سے نکل کر اسکول میں داخلہ لیتا ہے تو بچے کو اسکول میں استاد سے کیا اور کیسی تعلیم ملتی ہے استاد کا کردار استادکے اثرات بچے کے ذہن پر کس طرح مرتب ہوتے ہیں اس پر بھی کچھ کہنے کی ضرورت نہیں جب یہی بچہ اپنی تعلیم کو پورا کرنے یا منقطع کرنے کے بعد وقت کے ساتھ مسلم معاشرے کا اہم جز بن جاتا ہے تو مذہب اور عقیدہ کے نام پر اس کا کس طرح استحصال ہوتا ہے اس سے تو ہر کوئی واقف ہے۔ غرض آپ دیکھ سکتے ہیں کہ ماں کی گود سے لے کر زمین کی گود میں پہنچنے تک ایک مسلمان کا ذہن غلط  تعلیم ،غلط تربیت اور غلط ماحول میں پروان چڑھ کر مختلف فکروں میں بٹ جاتا ہے۔ میں اور میری فکر۔ میں اور میرا عقیدہ میں اور میرا مسلک۔ میں اور میری جماعت ۔ میں اور میرا گروہ۔ میں اور میرا فرقہ ۔ اس کے دل و دماغ بلکہ روح میں کچھ اس طرح پیوست ہوجاتا ہے کہ اس کی ساری زندگی” میں اور میرا” کے اطراف گھومتے ہوئے ٹہر کر رہ جاتی ہے۔” میں اور میرا” کے علاوہ اس کے اندر کچھ سوچنے سمجھنے کہنے سننے غور وفکر کرنے کی صلاحیت ہی باقی نہیں رہتی ۔ چنانچہ وہ اس قدر کٹر ذہن بن جاتا ہے کہ وہ اپنے نظریات کی حفاظت میں بسا اوقات اپنی جان تک گنوانا گوارا کر لیتا ہے ۔ اسے اس بات کی مطلق پر وانہیں ہوتی کہ اس نے اپنے کٹر پن سے مسلم معاشرہ کو کسی قدر نقصان پہنچایا ہے کس قدر اس کی مصیبتوں میں اضافہ کر ڈالا ہے ۔ وہ یہ تک نہیں سوچتا کہ اس نے اپنے کٹر رویہ سے اسلام کو غیروں کے آگے کس قدر غلط طریقہ سے پیش کیا ہے اور اسلام دشمن عناصر اس سے کیا کچھ فائدے اٹھا رہے ہیں، ان کے حو صلے کس قدر پختہ اور بلند ہور ہے ہیں۔ دوسری طرف اس کی انا کا یہ عالم ہوتا ہے کہ جب اصلاح کی بات اس کے آگے رکھی جاتی ہے تو اصلاح اس کے لئے ایک بے وقت کی راگنی لگتی ہے وہ اصلاح کو حقارت کے ساتھ رد کر دیتا ہے اور اپنی من مانی کو برابر جاری ہی نہیں رکھتا بلکہ اصلاحی منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے نت نئے جواز پیش کرتے ہوئے من گھڑت دلائل بہانوں کی آڑ میں مزید شور شرابہ اختیار کر لیتا ہے اس طرح اصلاحی منصوبوں کا مذاق بنا کررکھ دیتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کسی انسان کے دل پر دورہ پڑتا ہے تو ایک ماہر ڈاکٹر علاج شروع کرنے سے پیشتر ان اسباب کی جانچ کرتا ہے جن سے کہ دل کا دورہ پڑا ۔مگر کہیں یہ نہیں دیکھا گیا کہ ڈاکٹر دل کا دورہ پڑے ہوئے مریض کے دل کو فراموش کر کے دوسری شکایتوں پر متوجہ ہے ۔ مگر ہمارے قائدین مسلم معاشرے کے لئے اس ڈاکٹر کی طرح ہو گئے ہیں جس نے دل کا دورہ پڑے ہوئے مریض کے دل کوفراموش کر دیا ہے اور دوسری شکایتوں پر پوری تندہی کے ساتھ متوجہ ہے ۔ اس وقت ملک میں مسلم معاشرے کے وجود ہی کو خطرہ لاحق ہے اس معاشرے کی زبان تہذیب تمدن ، صحافت ثقافت سب کچھ داؤ پر لگے ہوئے ہیں۔ اسکی بنیادیں تک ہلا کر رکھ دی گئیں ہیں۔ خفیہ ایجنڈے پر عمل آوری شروع ہو چکی ہے۔ مگر ہمارے قائدین ہیں "کہ ادھر روم جل رہا ہے ادھر چین کی بانسری بجائی جارہی ہیــ” کے مصداق فروعی مسائل اور اصلاح معاشرے کے نام پر شادی بیاہ ، نکاح مسجد کے اندر یا باہر جیسے بحث و مباحثہ میں بڑے اطمینان بڑے سکون کے ساتھ الجھے ہوئے ہیں۔ ایک طویل عرصہ سے ہمدردان ملت جو کہ اسلام مسلمان اور ملک کے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں برابر علمائے کرام کو چوکنا اور متنبہ کرتے آرہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو مسلکوں، جماعتوں، عقیدوں،فرقوں اور فروعی مسائل میں نہ الجھائیں جب کہ مسلمانوں کا خدا ایک ہے رسولؐ ایک ہے تو مسلمانوں کو بھی ایک ہوکر رہنے دیں۔ نائب رسولؐ ہونے کا صحیح اور پورا پوراحق ادا کریں ، اپنے بلند اور باعزت مقام کی لاج رکھ لیں مگر علمائے کرام کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ ادھر اسا تذہ سے برابر پر زور اپیل کی جاتی رہی بلکہ چیخ و پکار کے ساتھ لعن طعن تک ہوئی کہ اساتذہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اپنے فرائض کو نبا ہیں۔ پیغمبرانہ پیشہ کو رسوا نہ کریں اس کی لاج رکھ لیں مگر یہاں بھی معاملہ دھاک کے تین پات والا ہی رہا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم مزید پچھڑ گئے مزید پیچھے دھکیل دئے گئے ہم اس قدر کمزور پڑ گئے کہ ہماری نظروں کے سامنے ہمارے عظمت کی نشان بابری مسجد کو مٹی میں ملادیا گیا۔ دشمنوں نے جھوم جھوم کر خوشیاں منائیں ملک بھر میں مٹھائیاں تقسیم کیں 6 دسمبر کا دن ہمیشہ کے لئے ملک کی تاریخ میں ان کے لئے شان اور فخر کا دن بن گیا اور ہمارے لئے ذلت اورر سوائی کا ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس عبرتناک سانحہ کے بعد ہی سہی ہماری آنکھیں کھل جاتیں ہم سنبھل جاتے مگر نہیں ہمیں گجرات کا انتظار تھا مگر افسوس کہ گجرات میں ہماری درد ناک تباہی جس نے ہندوستان کے ہزاروں فسادات کو مات دیا ، جو نہتے مسلمانوں کے خلاف فرقہ پرستوں کی کھلی ایک طرفہ جنگ تھی جس کو روکنے کے لئے نہ صرف فوج بلکہ فوج کے کمانڈوزکو تک حرکت میں لانا پڑا تھا ہماری آنکھیں کھول نہ سکیں ۔ ہماری بے حسی کو ختم کر نہ سکی۔ ہمارے جمود کو توڑ نہ سکی ہمیں چوکنا اور متحد کرنہ سکی جس کی وجہ فرقہ پرست قو تیں اس قدر دلیر ہوگئیں کہ انہوں نے مکمل طور پر اس ملک میں ہماری تاریخ کو ہی مسخ کرنے کی ٹھان لی ۔ ہمیں اس ملک کے لٹیرے ثابت کرنے پر تل گئے ۔ سب سے بڑا اور سب سے خطر ناک فیصلہ یہ ہوا کہ انہوں نے ملک کے تعلیمی نظام کو ہی بدلنے، اپنے رنگ میں رنگنے کے فیصلے کر لئے اور قدم بھی بڑھا دیا ۔ آج سرسوتی وندانا کو ہمارے ایمان پر تھوپنے کی کوشش ہو رہی ہے ۔ وندے ماترم کو ہمارے بچوں کے ذریعہ ہمارے گھروں میں پہنچانے کے لئے کوششیں تیز ہو گئیں ہیں ۔ نصابی کتابوں کے ذریعہ ہمارے بچوں کے ذہنوں کو پراگندہ کیا جارہا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں ہمارے بچوں کی پڑھائی تعلیم و تربیت نہ ہونے کے برابر ہو کر رہ گئی ہے ۔ دوسری طرف ہمارے لاکھوں بچے عیسائی اور عیسائی طرز کے کا نونٹس اور اسکولوں میں پڑھ کر مغربی تہذیب کے دلدادہ ہی نہیں اس کے علمبردار بن رہے ہیں۔ اپنی مادری زبان سے نابلد تو تہذیب سے کورے ہو رہے ہیں ایسی صورت حال میں ہم ان لاکھوں بچوں کے ایمان عقیدے، تہذیب، تمدن اور زبان کو بچانے کے لئے کیا کر رہے ہیں ۔ ؟ سرکاری اسکولوں میں دن بدن گرتے ہوئے معیار اور حالات کو سدھارنے اور جدید بنانے کے لئے کیا کر رہے ہیں اس سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ستر فیصد سے بھی زیادہ ہمارے بچوں کا اسکولوں میں داخلہ ہی نہیں ہو رہا ہے ان بچوں کے لئے ہم کیا کر رہے ہیں جب کہ یہی وہ سب بچے ہیں جو آگے چل کر ملت کا مستقبل اپنے ہاتھوں میں لینے والے ہیں ۔ تباہ حال اپنی زبان اور تہذیب سے کورے نا آشنا، نا بلد بچے کیا خود سنبھل پائیں گے؟ کیا ملت کو سنبھال پائیں گے؟ اس کا جواب کون دے ؟ سچ تو یہ ہے کہ ہماری حالت بقول شاعر
لگا کے آگ درختوں میں اپنے ہاتھوں سے
عجیب لوگ ہیں سایہ تلاش کرتے ہیں
کی سی ہوگئی ہے۔ ہمارے سوچنے کا انداز بھی کتنا عجیب اور نرالا ہے۔ ملک کے ایک موقر اخبار میں کسی وقت ایک مضمون نگار نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اس ملک میں روزانہ اگر ایک ہزار مسلمانوں کو بھی قتل کر دیا جائے تب بھی اس ملک میں مسلمان باقی رہیں گے۔ سوال یہ ہے کہ جب اس ملک میں مسلمانوں کے ایمان، زبان، تہذیب ،تمدن ،صحافت، ثقافت کے ساتھ سب کچھ ختم کر دیا جائے اورمسلمانوں کو قتل کئے بغیر ہی چھوڑ دیا جائے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ آج مسلمان ملک میں ایک طرف مایوسی کا شکار ہیں تو دوسری طرف بے جاغرور تکبرا اور گھمنڈ میں مبتلا ہیں ۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ وہ قومیں جو مایوسی کا شکار ہوئیں وہ بھی ختم کر دی گئیں اور وہ قو میں بھی جو بے جا خود اعتمادی ،غرور ، تکبر اور گھمنڈ میں مبتلار ہیں وہ بھی تہس نہس کر دی گئیں۔
آج ہم اپنی بگڑی ہوئی ذلت آمیز اور زوال پذیر حالت کو کس طرح سدھاریں کس طرح پاکیزہ بنائیں اپنی غلطیوں کا ازالہ کسی طرح کریں اس ملک میں اپنی نئی تاریخ کیوں کر بنائیں کیوں کر مرتب کریں کیونکر لکھیں جب کہ ملک میں لاکھوں دین کے نام پر چلائے جانے والے دینی مدارس درس گاہیں بڑے بڑے بین الاقوامی شہرت یافتہ دار العلوم، مسلمانوں کے محلوں میں پھیلے ہوئے بے شمار عربی مدر سے ، فلاحی ادارے اور انجمنیں مجموعی اعتبار سے مسلمانوں میں بڑھتی ہوئی جہالت اور گمراہی کو ختم نہ کر سکے۔ ایک دوسرے کی عزت ایک دوسرے کا احترام کرنا سکھا نہیں سکے ۔ آپسی کشت و خون کو روک نہ سکے مسلمانوں کو اس ملک کی ایک مضبوط اور خود دار قوم بنا نہ سکے ۔ آج مسلمانوں کا ایک طبقہ اس سوچ میں مبتلا ہے کہ اگر مسلمان عصری علوم حاصل کر لیں تو ملک میں ان کے حالات بدل جائیں گے۔ سوال یہ ہے کہ اگر مسلمان عصری علوم حاصل کر لیں اور ماہرین بھی بن جائیں تو اس سے کیا ہو گا جب کہ ایک زندہ قوم بن کر رہنے کے لئے اتحاد و اتفاق کے ساتھ ایک دوسرے پر جانثاری کا جذبہ مفقود ہے جب کہ یہی وہ جذبہ ہے جو قوموں کو قوت اور حوصلہ بخشتا ہے اور زندہ جاوید بنا کر کامیابیوں اور کامرانیوں سے ہم کنار کرتا ہے۔
قرآن حکیم نے ہمیں بار ہا اللہ کی رسی کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہنے کی انتہائی سختی کے ساتھ تاکید کی ہے اس وعدہ کے ساتھ کہ وہ نہ صرف ہمیں دنیا میں کامیابی و کامرانی عطا کرے گا بلکہ آخرت میں بھی سرخرو کرے گا۔ مگر ہم نے اللہ کے وعدے اور انعام کی کوئی پروانہیں کی بلکہ اس کی رسی کو ہی تار تار کر ڈالا ۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی تار پوری رسی کا بوجھ اٹھا نہیں سکتی اس بوجھ کو سنبھال نہیں سکتی اس لئے ہم منہ کے بل گرے اور بری طرح گرے نہ صرف دنیا کی نظروں میں گرے بلکہ اللہ اور رسولؐ  کی نظروں میں بھی گر گئے ۔ ذلت ہمارا مقدر بن گئی۔ ملک کی آزادی کے بعد ہماری سب سے بڑی غلطی اور غفلت یہ ہوئی کہ ہم نے ملک وملت کی تعمیر میں اپنی ماؤں کے رول کو یکلخت فراموش کر ڈالا اسا تذہ کے کردار پر نظر نہیں رکھی، علمائے کرام اور خطیب حضرات کو بے لگام چھوڑ دیا جن پر کہ مسلمانوں کو با علم با کردار اور اچھے شہری بنانے کے ساتھ ساتھ نیک جذبات کے تحت متحد رکھنے کی سب سے بڑی سب سے عظیم ذمہ داری عائد ہوتی ہے ، اس بنیادی غلطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم اپنے معاشرے میں مخلص ،نیک،سچے ہمدرد اور دوراندیش سیاست دان پیدا کرنے سے قاصر رہے گو کہ ملک کی آزادی کے بعد ہماری آبادی میں اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہماری نمائندگی ملک کی پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں اور دیگر اداروں میں بڑھتی مگر آبادی کے تناسب سے ہماری نمائندگی تشویش ناک حد تک بھی برابر گھٹتی جا رہی ہے، ڈر ہے کہ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو کسی دن ہم اس ملک میں سیاسی یتیم ہو کر نہ رہ جائیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں ایسے سیاست دان پیدا نہیں کر سکے جو معاشرے کی حفاظت معاشرے کے حقوق کی حفاظت کے ساتھ معاشرے کے ساتھ ہونے والی زور ز بر دستیوں ظلم وستم ، نا انصافیوں اور حق تلفیوں کے خلاف ایک آواز کے ساتھ ایک سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے ہو جاتے اپنی اپنی پارٹیوں کو ہی نہیں بلکہ اپنی کرسیوں کو بھی ٹھوکر مار دیتے۔ کسی بھی قوم کے لئے سیاست دان اس کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں آج ہماری اس ہڈی کو کیڑا لگ گیا ہے ۔ا ب یہ پوری طرح کھوکھلی ہو چکی ہے جو کہ کسی بھی با ر بوجھ کو اٹھانے کے قابل  نہیں رہی اور یہ کھو کھلی اس لئے ہوئی کہ ہم نے مذہب کو سیاست سے الگ کر دیا جب کہ اسلام میں مذہب اور سیاست میں کوئی تفریق نہیں ہوتی ، بقول شاعر مشرق علامہ اقبالؒ
جلالِ بادشاہی ہو کہ جمہوری تماشہ ہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
ہماری اپنی پیدا کردہ تفریق نے ہمارے سیاست دانوں کو کھلی چھوٹ دے کر بے لگام بنادیا وہ مسلم معاشرے کی گرفت اور پکڑ سے باہر ہو گئے اور آج کی بے اصول نفرت آمیز اور گندی سیاست کا مکمل حصہ بن کر ایک حمام میں سب ننگے کے مصداق ملک کے دیگر سیاست دانوں کے ساتھ گھل مل گئے اور اپنی سیاسی بقاء تحفظ اور مفاد کی خاطر جدھر سینگ سمائے ادھر اپنی اپنی پسند کی پارٹیوں میں گھس گئے اور ساتھ ہی پارٹیوں میں اپنا مقام بنانے کے لئے مسلمانوں کو اپنی اپنی پارٹی کی طرف رجھانے اور کھنچنے لگے اس بات کی پروا کئے بغیر کہ اس سے مسلمانوں کوکس قدر فائدہ پہنچتا ہے یا کس قدر نقصان ۔ مسلمان یہاں بھی بٹ گئے ۔ دین کے نام پر مذہبی قیادت نے مسلمانوں کو بانٹ دیا اور سیاست کے نام پر سیاست دانوں نے ، بقول علامہ اقبالؒ
غضب ہیں یہ مرشدانِ خود میں خدا تری قوم کو بچائے
 بگاڑ کر تیرے مسلموں کو یہ اپنی عزت بنا رہے ہیں
نہ صرف عزت بنا رہے ہیں بلکہ اپنی اپنی دوکانیں بھی چمکا رہے ہیں۔ کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ یہ مرشدانِ خودبین ایک طرف مسلمانوں کے اندر فتنے برپا کر رہے ہیںدوسری طرف غلط فہمیاں پیدا کر کے انہیں آپس میں لڑا جھگڑا کر منتشر کر رہے ہیں تو دوسری طرف ممبر رسولؐ اور رسیاسی پلیٹ فارموں سے مسلمانوں کو آپس میں بھائی چارے ،پیار محبت ،صلہ رحمی اور اتفاق واتحاد کے ساتھ رہنے کے لئے پرزور اپیل اور پر زور آواز دینے والے بھی یہی مرشدان خودبین ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ قول و فعل کے تضاد اور دو غلے پن سے بھری آج کی انا پرست مسلم قیادت غیر شعوری طور پر اس ملک میں ہر کہیں مسلمانوں کے لئے بھٹیاں تیار کر رہی ہے اور فرقہ پرست ان بھٹیوں میں آگ لگا رہے ہیں ۔ کاش مسلم قیادت کو اس کا احساس ہو جاتا کہ اس ملک میں مسلمانوں کو دشمنوں نے اتنا کمز ور نہیں کیا جتنا کہ ان کے اندرونی اختلافات، جھگڑوں اور رہنمائی کے فقدان نے کیا ہے بلا شبہ آج مسلمان اس ملک میں ایک زبردست بحران کی لپیٹ میں آگئے ہیں اور ملک کی کمزور ترین قوم بن چکے ہیں جمہوری نظام میں وہی قو میں سرخرو کامیاب وکامران ہوتی ہیں جو اپنے حقوق مانگنے کی نہیں انہیں چھینے کی صلاحیت قوت اور طاقت رکھتی ہیں۔ مگر آج ہماری حالت اس فقیر کی سی ہوگئی ہے جو اپنے کشکول میں پڑی ہر چیز کو بڑی ہی خوشی اور احسان مندی کے ساتھ قبول کر لیتا ہے۔ اس کے باوجود ستم ظریفی یہ ہو رہی ہے کہ ملک کی چنگیزی قوتیں ہم فقیروں کے اس کشکول کو بھی ہمارے ہاتھوں میں دیکھنا نہیں چاہتیں اس کشکول کو بھی ہم سے چھین نے کے لئے پر زور تیاریاں کر رہی ہیں ۔ کیا اس کشکول کو بھی ہم گنوادیں گے اورخالی ہاتھ پسارے رہ جائیں گے۔
آزادی کے بعد ہم نے بہت مصیبتیں جھیلیں بہت کچھ گنواد یا بہت لہولہان ہوئے بہت خون میں نہایا اب ہمیں ہوش کے ناخن لینا ہے ماضی میں ہوئی اپنی غلطیوں کا بھر پور ازالہ کرنا ہے۔ یادر ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو پستی سے باہر نکالنے اور ان کی پسماندگی کو دور کرنے ، ساتھ ہی اس ملک کی ترقی یافتہ اقوام کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے کے لئے انہیں ان اقوام سے دس گنا سے بھی زیادہ محنت کرنی ہوگی ۔ اللہ کا شکر و احسان ہے کہ مسلمان اس ملک میں پست ہونے کے باوجود پست حوصلہ نہیں ہیں ملت کی خاطر کڑی سے کڑی محنت اور بڑی سے بڑی سے قربانی دینے کے لئے ہمیشہ آمادہ اور تیار رہتے ہیں۔ اگر مقصد نیک ہو تو وہ اس کے حصول کے لئے اپنا سب کچھ لٹانے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں ۔ آج بھی یہ وقت کے طوفانوں سے ٹکرا جانے کا عزم اور حوصلہ رکھتے ہیں ۔ بات صرف اتنی ہی ہے کہ ان کے عزم حوصلوں اور ولولوں کو جلا بخشی جائے صحیح رخ پر موڑا جائے ان سے وہ کام لیا جائے جو کام دوسری جنگ عظیم کی مکمل تباہی کے بعد جاپان نے اپنی قوم سے لیا تھا۔ اگر ہم سے یہ کام ہو گیا تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اس ملک کی فرقہ پرست قوتوں کے حوصلے پست ہو جائیں گے وہ ہمارے خلاف نرم پڑ جائیں گے ۔ یہ نفسیات کا خاصہ رہا ہے کہ جمہوری نظام میں جو قوم جس قدر کمزور رہتی ہے وہ اسی قدر جھکا دی جاتی ہے اور جو قوم اٹھ کھڑی ہوتی ہے اس کے آگے جھک جاتی ہے۔ آج حالات کا شدید تقاضہ ہے کہ ہمارے قائدین مسلکوں پارٹیوں اور اپنے اپنے مفادات سے اوپر اٹھ کر ملک کے ہمدرد باشعور دانشوروں کو اپنے ساتھ لے کر آج کی معروف اصطلاح میں ایک مضبوط تھنک ٹینک (Think Tank) تیار کرے اسے مضبوط بنائیں اور اس سے رائے مشورے لیتے ہوئے ملک گیر پیمانے پر نفرتوں، عداوتوں اور کدورتوں سے پاک مسلمانوں کے لئے کم از کم پندرہ تا بیس سالوں پر مشتمل مصنو بہ بند پروگر امس کے ساتھ ایک لائحہ عمل تیار کریں جس میں مسلمان بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے جدید اسکولوں کے ساتھ ان کے کھیل کو داسپورٹس حفظان صحت نشو و نما اور کردار سازی کو اولین ترجیح دیں ، اس پر عمل پیرائی کے لئے ہر سطح پر ملت کی ماؤں، اساتذ، علمائے کرام اور خطیب حضرات جن کے تعاون اور پشت پناہی کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں کر سکتے کبھی سراٹھا کر اس ملک میں چل نہیں سکتے ۔ جی نہیں سکتے انہیں بیدار کریں انہیں اپنی اپنی ذمہ داریوں کا سختی کے ساتھ پابند بنائیں اور اس پابندی کے لئے ایک زبردست تحریک چلا ئیں ہر مسلمان کو اس تحریک سے جوڑ کر ان سے کام لیں اور ساتھ ہی تنازعات سے پاک صاف ستھری ایک نئی مسلم قیادت کو ابھرنے کے لئے راستے ہموار کریں۔
یقینا سرِ دست آج یہ کام ہمارے لئے ہمالیائی سفر سے کم نہیں مگر ہر صورت میں ہمیں اس کٹھن سفر کو اختیار کرنا ہی ہے ۔ دیر ہی صیح بہت دیر ہی صحیح طویل برسوں کے بعد ہی صحیح یقینا ہم چوٹی پر پہنچیں گے بعد اور اس ملک میں اپنی کامیابی کے پرچم لہرائیں گے ہم ضرور اس ملک کی ایک زبردست با وقار قوم بن کر ابھریں گے۔ ہمارا بھی اس ملک کی تعمیر، ترقی میں عمل دخل ہوگا ہم بھی اس میں حصہ دار بنیں گے ہم بھی اس ملک میں عزت کی نگاہوں سے دیکھے جائیں گے بلکہ یہاں کی اقوام ہمیں اپنے سر آنکھوں پر بٹھائیں گے۔ ہمیں یہ کام کر دکھانا ہے۔ اس سے حوصلہ پاکر اس ملک کے مسلمانوں کو ایک انقلابی معاشرے میں ڈھالنا ہے بصورت دیگر اس ملک میں ایک باعزت زندگی گزارنے کے لئے ہماری تمام تر کوششیں دلدل میں پھنس کر ہاتھ پیر مارنے کے علاوہ کچھ نہ ہوں گی ۔ ہمیں یہ بھولنا نہیں چاہئے کہ ہم اس ملک میں یہودی خصلت دشمن کے مد مقابل ہیں جو ہماری آبادی والے شہروں، قصبوں، ضلعوں ، اور دیہاتوں کو ایودھیا اور گجرات بنانے کے لئے ہر کہیں ہر پل پوری تیاری اور بڑی ہی مستعدی کے ساتھ گھات لگائے بیٹھا ہے۔ کیا مسلمان، کیا مسلمان قائدین سب کے سب اس کے سیدھے اور راست نشانے پر ہیں۔
وقت ہمیں بار بار آواز دے رہا ہے کہ ہم سنبھل جائیں، سنبھل جائیں، سنبھل جائیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Fayaz Quraishy
No. 413, 1st Floor, 9th Cross
2nd Block, R. T. Nagar, Bangalore-32

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے