قمر الدین ریاضی
استاذ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈانگر نیپال

یقیناً وہ لوگ جن كو اللہ تعالی نے سلیم القلب بنایا ہے اور ان کو باشعور عقلیں عطا کر رکھی ہیں، وہ اس بات سے بخوبی آگاہ رہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کسی بھی نفس کو تقویٰ کے بغیر حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: (وَنَجَّيۡنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُون) ترجمہ: اور (ہاں) ایمان دار اور پارساؤں کو ہم نے (بال بال) بچا لیا۔
لہذا کوئی بندہ نجات پا ہی نہیں سکتا سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے سامنے سلیم دل کے ساتھ پیش ہو۔ یہ دل کی سلامتی صالح اعمال سے حاصل ہوتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (إِنَّ ٱلۡإِنسَٰنَ لَفِي خُسۡرٍ * إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلۡحَقِّ وَتَوَاصَوۡاْ بِٱلصَّبۡرِ) ترجمہ: بیشک (بالیقین) انسان سراسر نقصان میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے اور (جنہوں نے) آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔
اور اسی طرح نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: "آگاہ ہو جاؤ! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہوگا، اور اگر وہ خراب ہو تو سارا جسم خراب ہو جائے گا، خبردار! وہ دل ہے”۔
قارئین کرام! ہر انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کا محاسبہ کرے، کیونکہ یہ نفس ہمارے ہر وقت کا ساتھی ہے۔ نفسِ امارہ ہمیں برائی کی طرف راغب کرتا ہے، باطل کو مزین کرکے پیش کرتا ہے، اور سستی و غفلت میں ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَلۡتَنظُرۡ نَفۡسٞ مَّا قَدَّمَتۡ لِغَدٖۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ) ترجمہ: اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو اور ہر شخص دیکھ (بھال) لے کہ کل (قیامت) کے واسطے اس نے (اعمال کا) کیا (ذخیرہ) بھیجا ہے اور (ہر وقت) اللہ سے ڈرتے رہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔
اسی طرح حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرماتے:
"لوگو! اپنے اعمال کا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا حساب لیا جائے، اپنے اعمال کو تول لو اس سے پہلے کہ وہ تمہارے لیے تولا جائے، اور بڑے پیشی کے دن کے لیے تیار ہو جاؤ۔”
لہٰذا ایک مسلمان کا شیوہ و طریقہ ہونا چاہئے کہ وہ یومیہ اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہے کیونکہ دنیا دار العمل ہے، اور یہ اصلاح کا موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
(وَنَضَعُ ٱلۡمَوَٰزِينَ ٱلۡقِسۡطَ لِيَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ فَلَا تُظۡلَمُ نَفۡسٞ شَيۡـٔٗاۖ) ترجمہ: قیامت کے دن ہم درمیان میں لا رکھیں گے ٹھیک ٹھیک تولنے والی ترازو کو۔ پھر کسی پر کچھ ظلم بھی نہ کیا جائے گا۔
ایک مومن کو اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ نیک اعمال اس کا سرمایہ ہیں، گناہ اس کا نقصان ہیں، اور نفلی عبادات اس کا نفع ہیں۔
ہر نیک عمل کے لیے اخلاص شرط ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ عمل سے پہلے سوچے کہ آیا یہ اللہ کے لیے ہے یا نہیں۔ عمل کے دوران اخلاص برقرار رکھے اور عمل کے بعد کمی کوتاہی کو دور کرنے کی کوشش کرے۔
اخیر میں دعا گو ہوں کہ بار الہ ہم سب کو محاسبۂ نفس کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے دلوں کو سلیم بنائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے