بیدر۔ 24؍جنوری (پریس نوٹ): بید ربہمنی سلاطین کا پایہ ٔ تخت رہاہے۔ 78سال تک گلبرگہ بہمنی سلطنت کاپایہ تخت رہا، اس کے بعد مختلف وجوہات کی بناپر بیدر کو پایہ تخت بنایاگیا۔ آج سے ٹھیک 600سال قبل 1425؁ء میں بیدر بہمنی سلطنت کا پایہ تخت بنا۔ یہ باتیں شاعروادیب اور مصنف جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے کہیں۔انھوں نے ایک پریس نوٹ جاری کرکے بتایاکہ اہل ِ بیدر کافرض ہے کہ وہ بہمنی سلطنت کا 600سالہ جشن منائیں ۔ یہ بات اس لئے بھی کہی جارہی ہے کہ بید رمیں بہمنی سلاطین کے قلعہ ، اوران عادل بادشاہوں کے مقابر سالم حالت میں موجودہیں۔ ان کے آثار کو سر کی آنکھوں سے یہاں دیکھاجاسکتاہے۔ فصیل بند شہراور مدرسہ محمودگاوان (یعنی یونیورسٹی) بھی موجودہے۔ اور اہل بیدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان تاریخی عمارتوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کریں۔ ASI کو توجہ دلائیں۔ خود اٹھیں۔خصوصاً مدرسہ محمودگاوان کیلئے ایرانی قونصل خانہ سے نمائندگی کرنی چاہیے تاکہ ایران سے مدرسہ محمودگاوان کے وزیراعظم خواجہ عمادالدین محمودگاوان کے حوالے سے ترقیاتی کام بیدر میں ہوسکیں۔ بہمنی سلطنت کے 600 سال کے حوالے سے مختلف پروگرام ڈرامہ، پربھات پھیری، مشاعرہ، قوالی، نکڑ ناٹک، مدرسہ محمودگاوان کی عظمت پر وزیراعظم خواجہ عمادالدین محمودگاوان کی علم دوستی کوخراج عقیدت پیش کرسکتے ہیں۔کتابچہ ؍کتابیں ؍آڈیو اور ویڈیو کلپ جاری کئے جاسکتے ہیں۔ کچھ ماہ قبل یہ خوش کن خبر آئی تھی کہ شاہین ادارہ جات بیدر نے مدرسہ محمودگاوان کوگود لیاہے۔اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ اس طرف بھی توجہ دیناچاہیے۔ اور دیگر ادارے بھی بیدر کی تاریخی بقا کے لئے آگے آسکتے ہیں۔جماعت اسلامی ہند نے بھی تاریخ کے حوالے سے کام کرنے کاعز م کیاہے۔ سیمی نار کیاجاسکتاہے۔ دیگر مقامی تنظیمیں اورتاریخی مقامات کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی گلبرگہ کی جماعتوں کوبھی ساتھ لیاجاسکتاہے۔

تاریخ سے جڑے رہنے میں بقا اورسلامتی ہوگی۔گلبرگہ شریف میں انعامدار، محصولدار، پٹہ دار، مقطع دار وغیرہ مل جاتے ہیں لیکن بیدر کے حوالے سے انعامدار ، محصولدار، پٹہ داروں کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔مثنوی کدم راؤ پدم راؤ میں سنسکرت کا استعمال بہت زیادہ ملتاہے ، لہٰذا سنسکرت کے حوالے سے بیدر میں کیاکچھ چیزیں تھیں اور ہیں ،اس کی بھی تحقیق ہونی چاہیے۔یہ بھی معلوم ہوکہ اس دور کے سنسکرت پنڈت کون تھے ۔ آیاشمالی ہند سے بیدر تشریف لائے تھے یاپھر مقامی افراد ہی تھے۔ اس کے علاوہ بھی بہت ساری چیزیں تحقیق اور عمل کی منتظر ہیں۔ جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے رکن پارلیمان ساگرکھنڈرے ، ضلع انچارج وزیر ایشور کھنڈرے اور وزیر بلدیہ و حج جناب رحیم خان سے اپیل کی ہے کہ بیدر کو سیاحتی حوالے سے ملکی سطح پر معروف بنائے رکھنے کے لئے بہمنی سلطنت کے 600سال کاپروگرام حکومتی سطح پرایک افادیت پرمبنی پروگرام ہوسکتاہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے