مہراج گنج( نمائندہ): گزشتہ روز آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی صاحب نے اوکھلا کے انتخابی ریلی سے جیسے ہی "بی جے پی کا چھوٹا ریچارج” بولا وہاں موجود عوام نے "کجریوال کیجریوال” کہہ کر اس کا جواب دیا جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اوکھلا کی عوام اس بار کیجریوال کے دو رخے چہرے اور دو منھے ساکھ کو پہچان چکے ہیں۔ مذکورہ باتیں کل شام کو ضلع مہراج گنج کے مشہور سماجی کارکن اور رشتہ گروپ اتر پردیش کے بانی مولانا عبد الحلیم صاحب قاسمی نے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں ۔

مولانا عبد الحلیم قاسمی نے مزید کھل کر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اویسی صاحب نے بالکل درست فرمایا ہے کہ کیجریوال جو سنگھ کی شاخ کا پڑھا لکھا چہرا ہے فری کے نام پر دہلی والوں خاص طور سے اوکھلا اور مصطفیٰ آباد کے لوگوں کو الو بنارہا ہے ۔فری پانی کا حال یہ ہے کہ اوکھلا واطراف کے علاقوں میں صبح آٹھ بجے سے ہی "پانی لے لو پانی” کی صدائیں گونجتی ہیں جو کیجریوال کے فری پانی کے دعوے کو مسترد کرتی ہیں ۔اس بار اوکھلا کی عوام فری پانی بلکہ فری شفا کے نام سے ووٹ کرے گی ۔

سماجی مسائل پر گہری نظر رکھنے والے مولانا قاسمی نے کہا کہ اویسی صاحب نے اپنے اوکھلا والے بیان سے دلی کی سیاست میں نئے اصطلاحات کا استعمال بہت بہتر طریقے سے کیا ۔اویسی صاحب "مفلر بابو” "چھوٹا ریجارچ” جیسے جملوں سے سیدھے عوام سے کنکٹ سے کیا ۔

نامہ نگار نے جب سماجی کارکن مولانا قاسمی سے "مجلس کی رکنیت کے متعلق پوچھا تو ان کا جواب تھا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے مگر مستقبل میں اس پرہیز بھی نہیں ہے”

مولانا قاسمی نے کہا کہ کیجریوال کے ترقی کے دعوے کے پول جس طرح اویسی صاحب نے کھولا ہے وہ قابل تقلید ہے۔اوکھلا کی بلند بلڈنگوں کو ہٹا کر اگر دیکھا جائے تو اوکھلا کی سڑکیں اور نالیاں مہراج گنج کے سڑکوں اور نالیوں پر ہنسنے لگیں گی۔اور چھوٹا ریجارج تو پیدل اوکھلا کی گلیوں میں چھ میٹر بھی چلنے کی ہمت کر پائیں گے ۔

اوکھلا چونکہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے اس لئے وہ کوڑے کے ڈھیر اور گندی نالیوں سے اٹا پڑا ہے ۔بلکہ اوکھلا اور مصطفیٰ آباد کوڑوں کا ماونٹ ایورسٹ بنتا جا رہا ہے ۔

نامہ نگار کے اس سوال پر کہ اویسی صاحب کی پارٹی کو اس بار دلی کی اسمبلی میں کوئی سیٹ مل سکتی ہے ؟

مولانا قاسمی نے کہا سیٹ ملے یا نہ ملے چند باشعور ،باہمت اور مسلم مسائل پر توجہ دینے والے زمینی حقائق سے آگاہ لیڈر ضرور مل جائیں گے ۔جس کی قوم کو فی الحال شدید ضرورت ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے