حیدرآباد، بیدر اور سداشیوپیٹ کے شعراء سعداللہ خان سبیل ؔ،ظہورظہیرآبادی ، حامد سلیم ، میرؔبیدری ، فیاض علی سکندرؔنے حصہ لیا
بیدر۔ 27؍جنوری (پریس نوٹ): جناب محمدنصیرالدین نمائندہ مسلم ایکشن کمیٹی ظہیرآباد کی اطلاع کے بموجب 26؍جنوری اتوار کی شب ظہیرآباد کے اردو ادبی ہال ، نزدپولیس اسٹیشن ،مین روڈ ظہیرآباد میں مسلم ایکشن کمیٹی ظہیرآباد کے زیراہتمام ’’مشاعرہ جشن ِ جمہوریت ‘‘منعقد کیاگیا۔ جس کی صدارت سینئر صحافی جناب سید منیرساخر صاحب نے کی ۔ مسلم ایکشن کمیٹی کے صدر جناب محمدیوسف علی اور معتمد جناب محمد معزالدین کی سرپرستی مشاعرہ کوحاصل رہی۔ مشاعرہ کاآغاز خواجہ نظام الدین صدر آئیٹا کی تلاوت قرآن اور اسکی مختصر تفسیر سے ہوا۔ جناب شفیع الدین شفیع ؔ ایڈوکیٹ نے پان بیڑی گٹکھا اور دیگر سماجی برائیوں کے خلاف شعر کہے اور کافی دادحاصل کی۔ نوجوان شاعر فیض عباسی نے مترنم لہجے میں ایک کامیاب غزل سنائی جس کو پسند کیاگیا۔ جناب نظام الدین عازمؔ بزرگ شاعر ہیں ۔ اور جس احتیاط سے شعر کہتے ہیں اسی احتیاط سے شعر پڑھتے بھی ہیں۔ ان کی زبانی غزل سنتے ہوئے لطف دوبالا ہوگیا۔ ان سے دوسری غزل سنانے کے لئے اصرار کیاگیا لیکن عازمؔ صاحب نے خوبصورتی کے ساتھ معذرت کرلی۔ حیدرآباد سے تشریف لائے شرف الدین ارشدؔایک قدآور شخص ہیں ۔ لیکن جب کلام پیش کیا تو لگاکہ موصوف نے اردوزبان دانی میں بھی مہارت حاصل کررکھی ہے۔ کافی غزلیں موصوف سے سنی گئیں اور لوگ محظوظ ہوتے رہے۔
ظہیرآباد کے سامعین جہاں داد بھی خوب دیتے ہیں وہیں بے داد کرنے کاعلمی ہنر بھی انہیں آتاہے۔ جس طرح کے نکتے وہ مشاعرے کے دوران نکالتے ہیں ، جنوبی ہند میں شاید ہی کہیں اس طرح کاادبی ماحول پایاجاتاہو۔ بیدر سے تشریف لائے طنزومزاح کے شاعر جناب حامد سلیم حامدؔ نے آتے ہی اپنے قطعات کے ذریعہ پہلے توہنساہنساکرسامعین کے دل مٹھی میں کرلئے۔اس کے بعد کلام پیش کرتے ہوئے سبھی کادل جیت لیا۔ داد بھی بے تحاشہ وصول کی اور ہنساہنساکر سامعین کوشاد کردیا۔نظامت کے فن میںطاق ڈاکٹر نویدعبدالجلیل نے طنزومزاح کے شاعر کے بعدمترنم شاعر ظہورظہیرآباد ی کو کلام سنانے کے لئے آواز دی۔ ظہورظہیرآبادی نے اردو ادبی ہال کے لئے سابقہ کوششوں پر مختصر جملوں کے ذریعہ روشنی ڈالی اور پھر جب اپناکلام پیش کیاہے تو مشاعرہ ہنسی کے ہنگاموں سے نکل کر سنجیدگی وترنم کی بلندیاں چڑھنے پر مجبور ہوگیا۔ ان حالات میں ڈاکٹر نویدعبدالجلیل ناظم مشاعرہ نے اپناکلام پیش کیا۔ نوید عبدالجلیل کے کلام کی سنجیدگی اور جدیدیت کا امتزاج لوگوں کوداددینے اور سوچنے پرمجبور کرتاہے۔ ان کے بعدحیدرآباد سے تشریف لائے شاعرجناب سعداللہ خان سبیل ؔ نے اپناکلام پیش کیا۔سبیل ؔ صاحب کاتعلق ظہیرآباد سے ہے ، آجکل وہ حیدرآباد میں مقیم ہیں۔ موصوف کوسنابھی گیااور درمیان میں باذوق اور ذہین سامعین نے مختلف حوالوں سے چٹکیاں بھی لیں۔
موصوف کے بعد بیدر (کرناٹک) سے تشریف لائے میرؔبیدری کو زحمتِ سخن دی گئی۔ میرؔبیدری نے بے پردگی ، مردوں کی خواتین کے ساتھ شہ نشین پربیٹھنے کی لعنتی حماقت پر شعر کہے جس کوکافی پسند کیاگیا۔ اسی طرح ہندوستان کی مساجد کوکھود کر منادر برآمد کرنے کی مہم کو بھی ایک غزل میں میرؔبیدر ی نے سلیقہ سے بیان کیااور دادوتحسین سے نوازے گئے۔ سداشیوپیٹ کے فیاض علی سکندرؔکاتعلق ظہیرآباد کے مہمان اور میزبان شاعر ساہے۔ان دونوں حیثیتوں کے حوالے سے موصوف کو سناگیا۔ مصرع کی ادائیگی میں وہ خوبصورتی سے کام لیتے ہیں۔ اب آخر میں دو شاعر رہ گئے تھے۔ سردی کی وجہ سے سامعین بھی گھر واپسی کرنے لگے تھے۔ ان حالات میں ظہیرآباد کے سینئر شاعر جناب سیف الدین سیف غوریؔ نے تحت اور ترنم دونوں لہجوں کے ساتھ اپناکلام پیش کیا۔ جس کو کافی سراہاگیا۔ دادسے نوازے گئے۔ آخر میں صدرمشاعرہ جناب سید منیر ساخرؔنے اپناکلام اس خوش اسلوبی اور مؤدبانہ طریقے سے پیش کیاکہ سامعین عش عش کراٹھے۔ ان ہی کلام کے ساتھ مشاعرہ اختتام کوپہنچا۔
مشاعرہ سے قبل ادبی نشست بھی رکھی گئی تھی جس میں سعداللہ خان سبیل ؔ نے ایک طنزیہ ومزاحیہ مضمون پیش کیا۔ جب کہ بیدر سے تشریف لائے محمدیوسف رحیم بیدر ی نے اپنے افسانچے پیش کئے ۔ جناب محمد اعجاز پاشاہ نمائندہ مسلم ایکشن کمیٹی ظہیرآباد نے تقریب کے آخر میں اظہار تشکرکیا۔ جناب اسحق غوری،جناب سید مقصودبام سیف، جناب سید رشید احمد ،جناب سید رشید شفا،جناب کلیم الدین ،جناب معز لشکری ،جناب محمد افضل ،محمد محبوب غوری ، عظیم الدین ، یاسر خان اور دیگر بیسیوں نوجوان سامعین مشاعرہ میں شریک رہے ۔ استقبالیہ کلمات جناب محمد معزالدین نے پیش کئے اور تمام شعراء کے لئے ظہیرآباد کے دروازے کھلے رہنے کی بات بتائی۔ واضح رہے کہ مسلم ایکشن کمیٹی ظہیرآباد کی جانب سے مشاعرہ میں شریک تمام ہی افراد کے لئے ضیافت کااہتمام تھا۔ دورانِ مشاعرہ سامعین اور شعراء ہر دو کے لئے چائے پیش کی گئی۔
تصویر منسلک ہے
