پڈرونہ، کشی نگر: جامعہ رحمانیہ اسلامیہ، رحمان نگر، سمرا ہردو ضلع کشی نگر میں جشن یوم جمہوریہ تزک و احتشام سے منایا گیا،ثقافتی پروگرام جہاں مکمل رول ادا کررہا تھا وہیں قومی ترانہ، نعت و نظم کی بھرپور عکاسی کر رہاتھا۔
پرچم کشائی جامعہ رحمانیہ کے ناظر عام مولوی اسامہ رحمانی نے کی اور نظامت کے فرائض حافظ مظفر الحسن نے بحسن و خوبی انجام دیا باضابطہ پروگرام شروع ہونے پر طلبہ و طالبات کی تقاریر ، قومی ترانے، نعت و نظموں نے سامعین سے دادو تحسین وصول کیااور حاضرین نے ہمت افزائی کرنے کے ساتھ انعام کی برسات کردی جس کی وجہ سے ماحول کافی خوشگواراور دید کے قابل رہا اسکے بعد جامعہ کے سربراہ مولانا احمد کمال عبدالرحمان ندوی کے صدارتی خطاب کرتے ہوئے آئین ہند پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور جن لوگوں نے اس کو تیار کرنے میں اپنا وقت قربان کیا تھا ان کو خراج تحسین پیش کیا، اسلاف میں جہاں مولانا ابوالکلام آزاد کا ذکر کیا وہیں بابا بھیم رائو امبیڈکر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا چونکہ بھیم رائو امبیڈکر خود اقلیتی طبقہ کے تھے اسلئے انہوں نے بھرپور کوشش کی ہے کہ ان کے حقوق کو غصب نہ کیا جاسکے اور اس مقصد میں کامیاب رہے، ۱۹۴۷ میں ہمارا ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا تھا اسکے بعد تین سال مسلسل جدوجہد اور عرق ریزی کر کے آپ کے اسلاف نے یہ آئین تیار کیایہ وہ اساس ہے جس کی بنیاد پر آج ہمارا ملک چل رہا ہے مگر آج اس پر شب خوں مارا جا رہاہے اور ایک نیا آئین ہند تیار کیا جا رہا بلکہ تیار ہو چکاہے تو دوسری طرف ہمارے ملک کی فورس ہوتے ہوئے ایک متوازی فورس تیار کی جا رہی ہے آخر آئین ہند ہوتے ہوئے ایک دوسرے آئین کو جنم دینا یہ آئین سے وفاداری ہے؟ اور ملک پر فور س کی موجودگی میں ایک متوازی فورس تیار کرنا کیا یہ ملک سے وفاداری ہے؟ہمارے ملک کے لئے بڑے شرم کی بات ہے کہ یہ حرکت رات کی تاریکی میں نہیں بلکہ دن کے اجالے میں کی جارہی ہے اور سارا ملک خاموش تماشائی بنا ہو ا ہے نہ تو ہمارے چیف جسٹس کی زبان کھل رہی ہے اور نہ ہی صدر جمہوریہ کی، یہ ہمارے ملک کا بہت بڑا المیہ ہے جس کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، تعلیم کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ آپ سب سے پہلے نونہالوں کو دینی تعلیم دلائیں ، ناظرہ قرآن کی تعلیم ہو جانے کے بعد اپنے بچوں کو عصری درسگاہوں میں داخل کریں، اس کمی کو پوری کرنے کیلئے رحمانیہ اسکول کا قیام ہواہے جہاں درجہ پنجم کی تعلیم دیجاتی ہے اس سے آپ بھرپور فائدہ اٹھائیں تو دوسری طرف جہیز کی لعنت پر بات کرتے ہوئے فرمایا یہ ہمارے معاشرہ کا ناسور ہے جتنی جلدی ممکن ہوسکے اس کا علاج سوچئے ورنہ ملک کے حالات ہنگامہ خیز ہو رہے ہیں توفتنہ ارتداد کی اصلی وجہ جہیز کا مطالبہ ہے اگر اپنی لڑکیوں کو مومن اور عقیدہ کا حامل رکھنا چاہتے ہیں تو میں آپ کو یہی پیغام دینا چاہتا ہوں ، (۱) اپنے بچوں کے تعلیم کی طرف توجہ دیجئے ، (۲) بغیر جہیز کے مطالبہ کا نکاح کا رواج ڈالئے، اس میں امت اسلامیہ کی بھلائی ہے، اللہ تعالی ٰ ہمارے ملک کو پھر سے سونے کی چڑیا بنا دے، امن و امان قائم ہو، پیار محبت کی فضا عام ہو، ہم سب مل کر اس ملک کی تعمیر و ترقی میں بھرپور حصہ لیں۔۔۔۔
