رائے بریلی :معظم گنج (علی میاں نگر) جامعہ نصیحت المسلمین للبنات میں جشن یوم جمہوریہ کے موقع پر جلسہ عام اور تقریب ختم بخاری شریف وتقسیم اسناد برائے فارغات کا انعقاد ہوا،جس کی صدارت عالمی شہرت یافتہ درسگاہ دارالعلوم ندوہ العلماء لکھنؤ کے مؤقر و ممتاز استاد حدیث وفقہ اور جامعہ کے ناظم جناب مولانا مفتی رحمت اللہ ندوی نے کی۔
تلاوت قرآن پاک کے بعد جامعہ سے فارغ ہونے والی طالبات نے اپنی الوداعی نظم پیش کی ، اس کے بعد یوم جمہوریہ کی مناسبت سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے مولانا انوار عالم ندوی(استاد مدرسہ فلاح المسلمین تیندوہ ) نے’’آئین بھارت ‘‘ کی ترتیب کمیٹی ،دستور سازی اوراس کے نفاذ پر اچھی اور عمدہ گفتگو کی ،اور طالبات کو آئین سے روشناس کرایا ۔
بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے مفتی رحمت اللہ ندوی نے فرمایا:بخاری شریف بہت مقبول اور متداول کتاب ہے اور قرآن کریم کے بعد اصح الکتب(سب سے صحیح ترین کتاب) ہے،اس کی مقبولیت کا راز مؤلف کا اخلاصِ نیت ہے، اسی لئے بخاری شریف کی پہلی حدیث اسی اخلاصِ نیت پر ہی ہے،جب کہ آخری حدیث نامہ اعمال کے تولے جانے سے متعلق ہے ،اور اس کا باب ’’ ونضع الموازین بالقسط‘‘ ہے،آخری حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ دو بول بڑے انمول اور مثل آبدار موتی کے ہیں ، یہ دو بول رحمٰن کو بڑے محبوب اور پیارے ہیں ،میزان عمل پر بھاری اورباوزن ہیں ، زبان پر ادائیگی کے لحاظ سے بہت ہلکے پھلکے ہیں ،اور وہ دو کلمے ہیں: سبحان اللہ وبحمدہ ، سبحان اللہ العظیم ۔اس کا ہمیں ورد کرتے رہنا چاہئے ۔
مفتی صاحب نے طالبات کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا:آپ نے تعلیم کا مرحلہ مکمل کرلیا ہے اور یہ سعادت حاصل ہو رہی ہے کہ آج بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس لے رہی ہیں ، یہ آپ کےلئے ،آپ کے خاندان اور مدرسہ کے لئے بڑی سرفرازی کی بات ہے، آپ نے یہاں جو علم حاصل کیا ہے اس پر خود عمل کریں اور اپنے گھر ، خاندان ،گاوں اور محلہ کی خواتین کو بتائیں اور سکھائیں ، ہر ایک کا ادب واحترام کریں ،والدین کی اطاعت کریں ، ماں باپ،بھائی بہن،رشتہ دار اور پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھیں ،جس طرح مدرسہ میں نمازوں کی پابندی اور تلاوت قرآن کریم کا اہتمام کرتی تھیں ،اسی طرح گھر جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں،اپنے والدین ،خاندان ،اور مدرسہ کی نیک نامی کا ذریعہ بنیں، ان کی شہرت کا داغ دار نہ کریں ،پردے کا التزام کریں ، کسی کے مکر و فریب کا شکار نہ بنیں، کسی کے جھانسے میں نہ آئیں، تعلیم کے بعد اب تبلیغ واشاعت کی ذمہ داری آپ پر ہے، آپ مستقبل کی معمار اور نسل نو کی مربیہ ہیں۔
صدر محترم اور دیگر معزز علماء کے بدست عالمیت کی اسناد تفویض کی گئی ،اورسلائی مشین بھی دی گئی، مولانا صدر الاسلام ندوی (استاد مدرسہ فلاح المسلمین تیندوہ) کی دعا پر جلسہ ختم ہوا۔
نظامت کا فریضہ جامعہ کے مہتمم مولانا محمد یوسف مظاہری نے انجام دیا ،مولانا محمد علی جوہر ندوی ( مہتمم جامعہ زید بن ثابت لکھنؤ) مولانا محمد شکیل ، (ڈلمئو)محمد زکریا یوسف، ولی اللہ بن مفتی رحمت اللہ ندویاور علاقہ کے دیگر معززین ،بچیوں کے والدین اورسرپرستان نے بطور بڑی تعداد میں شرکت کی اور سب کے تعاون سے یہ جلسہ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا ۔
