وقارآباد 27/جنوری(مشرقی آواز جدید): جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد تلنگانہ کا سالانہ اجلاسِ عام کل رات میٹرو فنکشن ہال تانڈور،ضلع وقارآباد زیر سرپرستی حضرت حافظ پیر شبیر احمد صاحب دامت برکاتہم صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ منعقد ہوا۔
اس اجلاس سے مولانا محمد عبدالقوی صاحب دامت برکاتہم صدر دینی تعلیمی بورڈ وناظم ادارہ اشرف العلوم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مکاتب کا نظام امت مسلمہ میں صالح انقلاب پیدا کرنے کا واحد ذریعہ ہے اور اس ذمہ داری کو اداکرنے میں علماء،حفاظ کے ساتھ ساتھ علاقے کے معزز و متمول احباب کی بھی ذمہ داری ہیکہ اس کام کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے اس کو ترجیحی بنیادوں پر کرنے کی فکر کریں۔
مفتی سید عفان منصور پوری صاحب دامت برکاتہم شیخ الحدیث جامعہ اسلامیہ امروہہ نے اپنے خصوصی خطاب میں کہا کہ ایمان اللہ کی عطاء کردہ نہایت گراں قدر اور عظیم نعمت ہے اور ہر آن اس کے تحفظ کی فکر کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے اولاد اور متعلقین کے ایمان کی فکر کئیے بغیر ایمان کے محفوظ رہنے کی امید کرنا خام خیالی ہے اور ایمان کی حفاظت کی عملی کوششوں کے ساتھ قرآن واحادیث میں منقول مسنون دعاؤں کا بھی اہتمام کرنا چاہیئے۔
اس اجلاس سے قائد جمعیۃ حافظ پیر خلیق احمد صابرصاحب ناظم عمومی جمعیت علماء تلنگانہ اور مولانا محمد مصدق القاسمی صاحب صدر جمعیۃ علماء گریٹر حیدرآباد نے بھی خطاب کرتے ہوئے عوام کو اپنے بچوں کے دین وایمان کے تئیں فکر کرنے اور مکاتب کی تعلیم کو ضروری سمجھنے کی تلقین کی۔
مولانا محمد عبداللہ اظہر قاسمی صاحب صدر جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد نے جمعیۃ علماء کے شعبہ جات پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے جمعیۃ کے کارکردگیوں اور آئندہ کے عزائم بیان کئیے اور جمیع اراکین جمعیۃ اور خیر خواہان اور معاونین کا شکریہ ادا کیا۔
اس اجلاس میں مدرسہ قاسم العلوم ٹرسٹ تانڈور کے ساتھ خوش نصیب حفاظ کرام کی دستار بندی اور جمعیۃ علماء ضلع وقارااباد کے مکاتب میں ناظرہ قرآن مکمل کرنے والے 170 طلباء کو تہنیت بھی پیش کی گئی نیز جمعیۃ علماء کے مکاتب کے نگران وذمہ داران اور اساتذہ مکاتب کو یادگار مومنٹوز پیش کئے گئے۔
اجلاس کی کاروائی مولانا عبدالرحمن اطہر قاسمی جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء ضلع وقارآباد نے چلائی۔
اس اجلاس میں حیدرآباد،سنگاریڈی،ظہیرآباد،گلبرگہ،بیدر، سیڑم ،چنچولی،کے علاوہ ضلع وقارآباد کے تمام تعلقہ جات کے ذمہ دار علماء تعلقہ تانڈور کے تمام دیہاتوں سے بڑی تعداد میں عوام وخواص اور مستورات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔۔۔
