- ہر سال داخلے کے نام پر نئے اور پرانے طلباء سے دو سے چار، پانچ ہزار روپئے تک وصول کئے جاتے ہیں۔
- ماہانہ فیس میں بھی ہر سال 100-200 روپے کا اضافہ کیا جاتا ہے۔
- اسکول ڈریس، موزے، جوتے اور دیگر تمام قسم کے پروگرامز اور فنڈز کے نام پر کئی قسم کی سالانہ رقم وصول کی جاتی ہے۔
- پرانے نصاب بدل کر نئے تعلیمی نصاب نافذ کر ہر سال کتابوں کے ذریعے 60۔70 فی صد کمیشن خوری کی جاتی ہے
(عبدالمبین منصوری)
سدھارتھ نگر: ہر سال پرائیویٹ اور مانٹیسری اسکول مختلف طریقوں سے والدین کی جیبوں پر منفی اثرات ڈالتے ہیں۔ جس کی وجہ سے والدین کا معاشی، ذہنی اور جسمانی استحصال کے ساتھ ہی ساتھ سماجی استحصال بھی ہوتاہے اور پرائیویٹ اور مانٹیسری اسکول انتظامیہ کی جانب سے زور و جبر کے دم پر من مانا روپیہ وصول کیا جاتا ہے اور کتابوں پر خوب کمیشن خوری کی جاتی ہے جس کی وجہ سے طلباء بنیادی تعلیم سے محروم ہونے کا شکار ہو سکتے ہیں اور ان کے مستقبل کو تاریک بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا جاتا۔
حکومت اور انتظامیہ کی جانب سے ہر سرکاری اسکول میں آٹھویں جماعت تک مفت تعلیم کا انتظام تو ضرور ہے لیکن یہاں بھی ہٹلرزم کا رویہ اپناتے ہوئے اُن سرکاری اسکولوں میں داخلے کے لیے والدین اور طلباء کو بھی ہراساں ہونا پڑتا ہے۔
اس حوالے سے ضلع کے متحرک نوجوان ایڈووکیٹ شاداب شبیری سے بات کرنے کے بعد انہوں نے اپنا دکھ بیان کرتے ہوئے کہا کہ پرائیویٹ اور مانٹسری اسکول ہر سال داخلے کے نام پر 25 سے 50 فیصد اضافہ کر تے ہوئے دو، تین، چار ہزارروپیے تک وصول کیے جاتے ہیں۔ ماہانہ تعلیمی فیس کے نام پر بھی ہر سال ٹیوشن فیس میں پچھلے سالوں کی بنسبت 100-200 روپے ماہانہ اضافہ کیا جاتا ہے۔ اسمارٹ کلاس اور شناختی کارڈ کے نام پر بھی کافی رقم وصول کی جاتی ہے۔ اس طرح والدین کو دھوکہ دے کر پرائیویٹ اور ما نٹسری اسکول انتظامیہ ہر سال لوٹنے کا کام کرتے ہیں۔
ڈاکٹر نوشاد اعظمی نے مذکورہ بالا کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ ہر سال پرائیویٹ اسکول انتظامیہ اپنے اپنے اسکولوں کا نصاب تبدیل کردیتے ہیں جس کی وجہ سے پرانی کتابیں بیکار ہوجاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پرائیویٹ اسکول انتظامیہ کتابوں کے نام پر 60 سے 70 فیصد کمیشن ہر سال وصولتے ہیں اور اس میں سے والدین کو 100 سے 200 روپے بھی کم نہیں کرتے ہیں۔ اسکول ڈریس، جرابیں، جوتے اور دیگر تمام قسم کے پروگراموں اور فنڈز کے نام پر پرائیویٹ اسکول والدین سے کافی رقم وصو لنے کا کام کرتے ہیں۔
عبدالمتین، رمضان علی، محمد تحفظ خان، محمد یعقوب، محمد سلیم اختر، منظر ودود خان، انسان علی نے بھی بتایا کہ L.K.G، U.K.G میں 10-12 کتابوں کا سیٹ دے کر والدین کا کمر توڑنے کے ساتھ ہی ساتھ چھوٹے موٹے ننھے منّے طلباء بھاری بھرکم کتابوں کے بیگ کا بوجھ اپنے نازک کندھوں پر اٹھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے رک جانے کا قوی امکان رہتا ہے۔ ایسے میں حکومت اور انتظامیہ کو پرائیویٹ مانٹسری اسکولوں پر لگام لگانے کی ضرورت ہے جو من مانی اور زبردستی پیسے اینٹھنے کا کام کرتے ہیں۔
