تلنگانہ فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معین کا صحافتی بیان

ظہیرآباد تلنگانہ 5/فروری (مشرقی آواز جدید): جناب ڈاکٹر جاں نثار معین تلنگانہ فریڈم فائٹر نے ایک صحافتی بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ دنیا جس برق رفتاری سے ڈیجیٹل ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے، اس میں ڈیجیٹل خواندگی اب کوئی اضافی صلاحیت نہیں بلکہ ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔ علم، روزگار، کاروبار اور طرزِ حکمرانی کی ہر جہت میں ٹیکنالوجی کی ہمہ گیری اس امر کی متقاضی ہے کہ ہر فرد کو ڈیجیٹل مہارتوں سے آراستہ کیا جائے۔ ہندوستان جیسے وسیع و عریض ملک میں، جہاں شہری اور دیہی زندگی کے درمیان نمایاں تفاوت ہے، وہاں ڈیجیٹل خواندگی وہ پُل ثابت ہو سکتی ہے جو پسماندہ طبقات کو ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کر دے۔ حکومتِ ہند نے "ڈیجیٹل انڈیا” جیسے انقلابی اقدامات کے ذریعے اس سمت میں مؤثر پیش رفت کی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ محض چند پالیسیوں اور اسکیموں سے یہ مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی درکار ہے، جو انفراسٹرکچر کی مضبوطی، معیاری تدریس، اور جدید تکنیکی حلوں پر مبنی ہو۔
حکومت نے بجٹ 2024 میں ڈیجیٹل لرننگ اور ICT انفراسٹرکچر کے فروغ کے لیے 6000 کروڑ روپے مختص کیے، جو ایک مثبت پیش رفت ہے۔ مختلف ریاستوں نے بھی اپنے طور پر کامیاب ماڈل متعارف کرائے ہیں۔ کیرالہ کا IT@School پروگرام، تمل ناڈو کے EMIS اسمارٹ کلاس رومز، اور تلنگانہ کا T-SAT نیٹ ورک ایسے اقدامات ہیں جن سے طلبہ کی تعلیمی استعداد میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ بین الاقوامی تجربات پر نظر ڈالیں تو فن لینڈ اور ایسٹونیا جیسے ممالک تقریباً 100فیصد ڈیجیٹل خواندگی حاصل کر چکے ہیں اور یہی ماڈل ہندوستان کے لیے مشعلِ راہ بن سکتے ہیں۔ مگر ان کامیابیوں کی راہ میں کئی چیلنجز بھی حائل ہیں، جنہیں حل کیے بغیر ہم ڈیجیٹل انقلاب کے حقیقی ثمرات سے محروم رہیں گے۔
ہندوستان میں ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنیادی انفراسٹرکچر کی کمی ہے۔ آج بھی ملک کے 47فیصد سرکاری اسکول انٹرنیٹ سے محروم ہیں، اور بہار و جھارکھنڈ جیسے ریاستوں میں صرف 28فیصد اسکولوں میں کمپیوٹر لیبز موجود ہیں۔ یہ حالات ڈیجیٹل تعلیم کے خواب کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ اسی طرح اساتذہ کی تربیت کا فقدان بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق صرف 23فیصد اساتذہ کو باضابطہ ڈیجیٹل تربیت ملی ہے۔ان میں سے بھی محض 42فیصد اپنی تدریس میں ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال کرتے ہیں۔  سائبر سیکیورٹی اور آن لائن اخلاقیات سے ناواقفیت بھی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ ایک سروے کے مطابق 58فیصد طلبہ آن لائن جعلی خبروں اور غلط معلومات کا سامنا کرتے ہیں۔ جب کہ 37فیصد طلبہCyberbullying کے شکار ہوتے ہیں۔ جرمنی جیسے ممالک نے اس مسئلے کے حل کے لیے اسکولوں میں ڈیجیٹل اخلاقیات کو لازمی نصاب کا حصہ بنا دیا ہے۔
مستقبل میں ڈیجیٹل خواندگی کے فروغ کے لیے چند مؤثر حکمتِ عملیاں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ مصنوعی ذہانت (AI) اور Gamification کو تدریسی طریقوں میں شامل کر کے تعلیم کو زیادہ دلچسپ اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ AI پر مبنی لرننگ ماڈلز طلبہ کی انفرادی صلاحیتوں کے مطابق نصاب فراہم کر سکتے ہیں۔ جب کہ گیمی فکیشن کے ذریعے سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر اور پرکشش بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ گوگل اور مائیکروسافٹ جیسی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کر کے طلبہ کو جدید ڈیجیٹل ٹولز تک رسائی دی جا سکتی ہے۔ مثال کے طور پر گوگل کا "Internet Saathi” پروگرام پہلے ہی 3 کروڑ دیہی خواتین کو ڈیجیٹل مہارتیں فراہم کر چکا ہے۔ اس کے علاوہ دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے بھارت نیٹ (BharatNet) منصوبے کو مزید وسعت دی جانی چاہیے۔ تاکہ ہر اسکول اور تعلیمی مرکز کو آن لائن لرننگ سے منسلک کیا جا سکے۔
دیہی ہندوستان کے لیے پانچ کلیدی اقدامات تجویز کیے جا سکتے ہیں، جن سے ڈیجیٹل خواندگی کی مہم کو تیز تر کیا جا سکتا ہے۔ اول موبائل ڈیجیٹل لیبز کا قیام جو جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر دور دراز دیہاتوں میں جا کر طلبہ کو ڈیجیٹل تعلیم فراہم کرے۔ دوم مقامی ڈیجیٹل لٹریسی حب (Digital Literacy Hubs) کا قیام جہاں نہ صرف طلبہ بلکہ دیہاتی کاروباری افراد اور اساتذہ کو بھی عملی تربیت دی جائے۔ سوم کم لاگت والے ڈیجیٹل آلات کی فراہمی تاکہ ہر گھر میں کم از کم ایک ڈیجیٹل ڈیوائس موجود ہو۔ چہارم اساتذہ کی لازمی ڈیجیٹل تربیت، تاکہ وہ نہ صرف خود ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہوں بلکہ اسے تدریسی عمل میں مؤثر طریقے سے بروئے کار لا سکیں۔ پنجم مقامی کمیونٹی پر مبنی بیداری پروگرام، جن میں NGOsخود امدادی گروپس اور دیہاتی رہنماؤں کو شامل کر کے ڈیجیٹل خواندگی کی آگاہی مہمیں چلائی جائیں۔
ڈیجیٹل خواندگی کا مطلب صرف ٹیکنالوجی کا استعمال سیکھنا نہیں، بلکہ اس کے ذریعے ایک باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دینا ہے۔ ہندوستان اس وقت ڈیجیٹل انقلاب کے دہانے پر کھڑا ہے، مگر اسے حقیقی معنوں میں کامیابی میں بدلنے کے لیے مربوط اقدامات، عوامی و نجی اشتراک، اور جدید تکنیکی حلوں کی ضرورت ہے۔ اب یہ سوال نہیں کہ ڈیجیٹل خواندگی ضروری ہے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم اسے کتنی تیزی اور مؤثریت سے ہر بھارتی تک پہنچا سکتے ہیں؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم محض خواب نہ دیکھیں بلکہ عملی اقدامات کریں، کیوں کہ "ڈیجیٹل انڈیا” کا خواب تبھی حقیقت بنے گا، جب ہر ہندوستانی ڈیجیٹل طور پر خواندہ ہوگا۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے