بہت جلد شعبۂ اُردو میں سرکاری طور پر تدریسی عملے کی بھرتی کے لئے راہ ہموار:وائس چانسلر شانتادیوی
وجئے پور۔7؍ فروری(محمدیوسف رحیم بیدری): اکا مہادیو ویمنس یونیورسٹی میں پوسٹ گریجویٹ شعبہ اُردو کی ہمہ جہت ترقی اور مکمل طور پر شعبہ بنانے کے لئے سرکاری طور پر اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ یونیورسٹی کے پوسٹ گریجویٹ شعبہ اُردو میں امسال اُردو سال اوّل میں داخلہ کے لئے منعقد کئے گئے جلسۂ استقبالیہ سے خطاب کرتی ہوئی یونیورسٹی کی ہنگامی وائس چانسلر پروفیسر شانتا دیوی نے اس بات کا انکشاف کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شعبہ اُردو میں طالبات کی تعداد اطمینان بخش نہ ہونے کے سبب تدریسی عملے کی بھرتی کا معاملہ ٹھپ پڑا ہوا تھا لیکن اب ایم اے اُردو میں طالبات کی ایک اچھی خاصی تعداد کو دیکھتے ہوئے اِسٹاٹیوٹ محکمہ تعلیم کو روانہ کئے گئے ہیں اور اُمید کی جاتی ہے کہ بہت جلد شعبہ اُردو میں سرکاری طور پر تدریسی عملے کی بھرتی کے لئے راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ اُنہوں نے اس موقع پر زبان کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ زبانیں سیکھنا دراصل حصول تعلیم کی جڑیں مضبوط بناناہے تو دوسری جانب کمیونی کیشن کا بھی ایک بہترین ذریعہ زبانیں ہیں۔ پروفیسر شانتا دیوی نے کہا کہ اُردو زبان میں وہ ساری خصوصیات موجود ہیں جو علم و ہنر کے میدان میں کسی بھی اُردو طالب علم کے لئے دیگر زبانوں کی طرح اہمیت کے حامل ہیں۔ لہٰذا اُردو طالب علموں کو چاہئے احساس کمتری سے اُٹھ کر اُردو میں ایم اے کے ذریعہ ایک شاندار مستقبل بنائیں جس میں سائنس اور ٹیکنالوجی کو فروغ دلانے کے لئے بے شمار مواقع میسر ہیں۔ قبل ازیں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی و سنیئر صحافی رفیع بھنڈاری نے ایم اے اُردو طالبات کو واضع طور پر بتایا کہ ایم اے اُردو کے بعد اُردو کا میدان دیگر زبانوں اور مضامین کی طرح وسیع تر ہے جس میں روز گار کے بھی بے شمار مواقع میسر ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ ایم اے اُردو میں ڈگری حاصل کرنے کے بعد سیاحت اور صحافت کے میدان کا انتخاب اور ترجمہ کی پڑھائی جب کہ ذیلی تعلیمی تربیت کے لئے اسکول آف لینگویجس ایک اہم پلاٹ فارم ہے۔ تو دوسری جانب درس و تدریس سے وابستہ ہونا اور بیرونی ممالک میں کام کر رہے ہیں بین الاقوامی اداروں میں تک بے شمار روزگاری کے مواقع اُردو دانوں کے لئے حاصل ہیں۔ بھنڈاری نے کہا کہ اُردو والوں کو چاہئے کہ احساس کمتری سے بالاتر ہو کر اصل قومی دھارے میں شامل ہوجائیں۔ اُردو زبان و ادب، شاعری کے ساتھ ساتھ مختلف فنون میں قدم بڑھا کر نہ صرف روزگاری بلکہ اپنی تہذیب کو سنوارتے ہوئے ایک بہترین معاشرے کی تشکیل کے لئے اُردو کا سہارا ہر ایک کے لئے کار آمد ثابت ہوسکتا ہے۔ اُنہوں نے طالبات کو مشورہ دیا کہ اُردو دُنیا میں قدم بڑھاتے ہوئے مشاہدے کے لئے مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی حیدرآباد کے تعلیمی ٹور پر جائے کیونکہ حیدرآباد میں اُردو یونیورسٹی ایک باوقار اعلیٰ تعلیمی ادارہ ہے جو اُردو کے طلبہ کے لئے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اُنہوں نے وائس چانسلر سے پرزور مطالبہ کیا کہ یونیورسٹی میں شعبہ اُردو ایک قدیم ڈپارٹمنٹ ہے جس کے لئے تدریسی عملہ کی بھرتی اور ریسرچ جیسے پی ایچ ڈی، ایم فل کے لئے بھی فوری طور پر گنجائش کی جائے۔ شعبہ اُردو کی چیرمن پروفیسر رضیہ باگل کوٹ نے جلسہ کی صدارت کی اور طالبات کو آواز دی کہ ایک شاندار مستقبل کے لئے اُردو کسی دوسری زبانوں سے کم نہیں ہے شہ نشین پر پروفیسر نام دیو گوڈا ، ڈاکٹر گلاب راتھوڈ، ڈاکٹر پرجاپتی، اے۔ ایم ۔مومن، ڈاکٹر سید سمیع الدین، مبینہ جمعدار موجود تھیں۔ اس کے موقع ہر ایم اے اُردو کے طالبات میں زرینہ ایس، ام سلمیٰ شیخ، آسیہ دولتکوٹی، عمیرہ دیگنال نے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ امسال گولڈ میڈل حاصل کرنے والی طالبا عروشہ ڈونور کے اعزازمیں تہنیت پیش کی گئی اور سال اوّل کی طالبات کو تحفہ جات سے نوازا گیا۔ قبل ازیں جلسہ کا آغاز مسکان مکاندار کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ سلمیٰ باگیواڑی نے نعت پیش کی۔ بی بی جان کھندیل والے نے خیر مقدم کیا۔ عمرہ پٹیل نے نظامت کے فرائض انجام دئے۔ آخر میں افسانہ بیگم نے شکریہ اداکیا۔ واضح رہے کہ مذکورہ یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پوسٹ گریجویٹ شعبہ اُردو میں وائس چانسلر نے قدم رکھتے ہوئے شعبہ کا کامیابی کے ساتھ احوال سنا اور مذکورہ یقین دہانی کے سبب ایم اے اُردو میں داخلہ لینے والے طالبات کے حوصلے بلند کئے ہیں جس کا یہاں اُردو آبادی کی جانب سے خیر مقدم کیا جارہا ہے۔
