ظہیرآباد تلنگانہ 12/فروری (مشرقی آواز جدید): ضلع سنگاریڈی میں واقع تعلقہ ظہیرآباد جو کہ آجکل صنعتی اور تجارتی مرکز کی حیثیت سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ یہاں کی بڑھتی ہوئی آبادی اور صنعتی وسعت کے سبب صحت عامہ کا  ڈھانچہ  متاثر  ہو رہا ہے۔ ایسے  میں 70 سال سے ایریا اسپتال  اپنے کم وسائل کے باوجود  بہترین خدمات انجام دے  رہاہے ۔  اسی لیے  تلنگانہ فریڈم  فائٹر ڈاکٹر جاں نثار معین نے  ڈاکٹروں، نرسوں، وارڈ بوائز اور صفائی کے عملے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ جو محدود وسائل کے باوجود تلنگانہ میں سب سے زیادہ او پی ڈی مریضوں کو طبی خدمات انجام   دے رہے ہیں۔لیکن  طبی وسائل کی کمی کی بنا پر مکمل  علاج اور  مریضوں کی  سہولیات  پوری کرنے سے قاصر ہیں۔ چنانچہ سیاسی رہنما، سماجی کارکنوں اور مقامی   عوام نے جاں نثار معین  کی قیادت میں ایک یادداشت جناب جے۔ اجئے کمار (کمشنر، تلنگانہ ویدیا ودھانا پریشد (TVVP)، محکمہ صحت، طبی و خاندانی بہبود)، جناب محمد یونس (سی سی)، ڈاکٹر سنگا ریڈی (ڈی سی ایچ ایس)، ڈاکٹر وی۔ سری دھر کمار (میڈیکل سپرنٹنڈنٹ  ایریا ا ہسپتال، ظہیرآباد)، ڈاکٹر کرن مایا (سربراہ شعبۂ امراضِ نسواں)، ڈاکٹر شیشو پی راؤ (ماہر امراضِ اطفال) اور دیگر معزز ڈاکٹر صاحبان  کی موجود گی میں پیش کی گئی۔ اس کے علاوہ  میونسپل کمیشنر،آرڈی او، آر آئنڈ بی   وغیرہ  کو بھی    پیش کی۔  تاکہ  ظہیرآباد ایریا اسپتال کو ملٹی اسپیشلٹی’ ڈسٹرکٹ اسپتال’ میں تبدیل کر یں ۔
  اس  میمورینڈم کی بنیاد پر جے اجئے کمار صاحب نے بھی وہی مطالبہ کیا جس کا ذکر درخواست  میں کیا گیا ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر شیشو صاحب نے بھی  اپنے بیان میں وہی مطالبہ کیا ہے۔ اس ضمن میں  او پی ڈی  آفیس  سے لی گئی معلومات کے مطابق اس اسپتال میں روزانہ 1200 سے 1500 او پی ڈی مریض آتے ہیں۔ جب کہ ماہانہ 350 سے 400 زچگیاں انجام دی جاتی ہیں، جو دستیاب سہولیات سے کہیں زیادہ ہیں۔ یومیہ 150 سے زائد مریض داخل  ہوتے ہیں۔ اتنے  بیڈس کی سہولت نہیں ہے۔ یہاں صرف 50 زچہ و بچہ  کے لیے بیڈس   ہیں۔ جب کہ کم از کم 50 مزید  بیڈس  کی فوری ضرورت ہے۔اسپتال میں انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) اور وینٹی لیٹرز کی عدم دستیابی کے باعث کئی مریض زندگی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ڈائلیسس یونٹس کی کمی کے سبب گردوں کے مریضوں حیدرآباد جاتے ہیں۔ ضروری ادویات اور تشخیصی آلات کی قلت ایک اور  مسئلہ ہے۔  وینٹی لیٹر سے لیس ایمبولینسز نہ ہونے کے سبب ہنگامی حالات میں مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔متعدد پیچیدہ کیسز میں مریضوں کو حیدرآباد ریفر کیا جاتا ہے۔  ماہر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کے باعث کئی مریض دورانِ سفر جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ اسپتال میں کارڈیالوجسٹ، نیفرولوجسٹ اور نیورولوجسٹ جیسے ماہرین کی کمی طبی بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اس سلسلہ میں ڈاکٹر جاں نثار معین نے  کہا:
آئینِ ہند  آرٹیکل 21 کے تحت صحت کا حق ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کے مطابق ریاست پر لازم ہے کہ وہ عوام کو معیاری طبی سہولیات فراہم کرے۔ ظہیرآباد کے ایریا اسپتال کو ڈسٹرکٹ اسپتال میں تبدیل کرنا  قانونی تقاضوں اور تلنگانہ حکومت کی صحت عامہ کی پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے۔حکومت کی طبی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ داری ہے۔  آرٹیکل 38حکومت پر لازم ہے کہ وہ فلاحی ریاست کے اصولوں کو فروغ دے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کرے، جن میں صحت عامہ بھی شامل ہے۔آرٹیکل 39(e) مزدوروں اور صنعتی کارکنوں کی صحت کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیتا ہے۔ جو  صنعتی علاقے میں نہایت ضروری ہے۔آرٹیکل 41 بیماری اور معذوری کی صورت میں حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کو طبی سہولتیں فراہم کرے۔ اور آرٹیکل 47صحت عامہ کو بہتر بنانا اور زندگی کے معیار کو بلند کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ظہیرآباد میں ایک  ملٹی اسپیشلٹی ڈسٹرکٹ اسپتال کا قیام اس آئینی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
   منجملہ  ملٹی اسپیشلٹی اسپتال میں مختلف طبی شعبوں کے ماہرین  میں  کارڈیالوجی، نیورولوجی، آرتھوپیڈکس، گائناکولوجی، پیڈیاٹرکس اور آنکولوجی وغیرہ  دستیاب ہونے چاہئیں۔ ہر شعبے کے ماہر ڈاکٹرز، تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف اور پیرامیڈیکل پروفیشنلز کی موجودگی یقینی بنائی جائے تاکہ مریضوں کو بہترین علاج فراہم کیا جا سکے۔ اور  ہروقت ایمرجنسی سروس کے لیے ماہرین کی موجودگی نہایت ضروری ہے۔ تاکہ کسی بھی ہنگامی صورت حال میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
ملٹی اسپیشلٹی اسپتال میں جدید تشخیصی آلات جیسے کہ MRI، CT اسکین، الٹراساؤنڈ، ایکس رے اور لیبارٹری ٹیسٹ کی سہولت دستیاب ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ روبوٹک سرجری، لیپروسکوپک سرجری اور دیگر جدید طبی تکنیکوں کو اپنانا  چاہیے ۔ تاکہ علاج کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ اسپتال میں ICU، CCU اور NICU کی جدید سہولیات میں اضافہ   کرنا چاہیے۔  تاکہ نازک حالت کے مریضوں کو خصوصی نگہداشت دی جا سکے۔ایمرجنسی  میں فوری طبی امداد فراہم کرنے کے لیے  جدید ترین ٹراما سینٹر ہونا چاہیے۔ جدید ایمبولینس سروس، بلڈ بینک، اور 24 گھنٹے فعال فارمیسی کا انتظام بھی لازمی ہے تاکہ مریضوں کو فوری طبی مدد مل سکے۔ ایسے اسپتال میں ایمرجنسی میڈیکل ٹیم   حادثے یا ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائی کر سکے۔
اسپتال کا ماحول مریضوں کے لیے صاف ستھرا، پرامن اور آرام دہ ہو۔ کشادہ وارڈز، پرائیویٹ کمروں اور ICU بیڈز کی سہولت مہیا کی جائے تاکہ مریضوں کو بہترین سہولیات ہو ۔ تیمارداروں کے لیے ویٹنگ ایریاز، رہائشی سہولتیں ، ریستوران اور   حمام بھی دستیاب ہو۔ تاکہ  تیمار داروں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔اسپتال میں صفائی ستھرائی کے سخت اصول اپنانے چاہئیں تاکہ انفیکشنز سے بچا جا سکے۔ بائیو میڈیکل ویسٹ مینجمنٹ سسٹم قائم ہونا چاہیے تاکہ طبی فضلہ محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگایا جا سکے۔ اور ماحول دوست اقدامات جیسے کہ شمسی توانائی، پانی کی ری سائیکلنگ اور پلاسٹک فری پالیسی کو اپنانا چاہیے تاکہ اسپتال کی سرگرمیاں ماحول پر منفی اثرات نہ ڈالیں۔اسپتال کا انفراسٹرکچر جدید طرز کا ہو اور اسے  خواتین ،معذور اور بزرگ افراد کے لیے سازگار بنایا جانا چاہیے۔  اسپتال میں پارکنگ، ویٹنگ ایریا اور صاف ستھرا ماحول ضروری ہے۔  انفیکشن کنٹرول سسٹم اور جدید وینٹیلیشن سسٹم  بھی ضروری ہے۔ایک اعلیٰ معیار   کے اسپتال میں طبی تحقیق اور تربیت کے لیے ایک علیحدہ سینٹر  قائم کریں۔ڈاکٹروں، نرسوں اور دیگر طبی عملے کی مسلسل تربیت  ہو تاکہ وہ جدید طبی تکنیکوں سے آگاہ رہیں۔ طبی ریسرچ کو فروغ دینے کے لیے اسپتال میں ایک تحقیقی مرکز قائم کریں جو نئی بیماریوں، علاج کے طریقوں اور طبی ٹیکنالوجیز پر تحقیق کر سکے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے، اسپتال میں ای میڈیکل ریکارڈز، ڈیجیٹل پریسکرپشن اور خودکار اپوائنٹمنٹ سسٹم ہو۔ موبائل ایپ اور ویب سائٹ کے ذریعے مریضوں کو آن لائن کنسل ٹیشن، ٹیسٹ کے نتائج اور دیگر خدمات فراہم کی جائیں۔ایک اعلیٰ معیار کا ملٹی اسپیشلٹی اسپتال کمیونٹی ہیلتھ پروگرامز بھی منعقد کرے تاکہ عوام کو صحت سے متعلق آگاہی ہو  سکے۔ فری میڈیکل کیمپس، ویکسی نیشن پروگرامز اور دیہی علاقوں کے لیے موبائل ہیلتھ یونٹس کا اہتمام کر یں ۔معیاری ملٹی اسپیشلٹی اسپتال  سے جدید طبی سہولیات  مریضوں کے آرام اور صحت کو بھی یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
‘ ڈسٹرکٹ اسپتال ‘    اس   لیے بھی  ضروری ہے کہ ظہیرآباد  کی صنعتی ترقی اور بین الریاستی محل وقوع کے باعث نہ صرف مقامی آبادی بلکہ کرناٹک اور مہاراشٹر  کے مسافرین اور تجار مریضوں کے لیے بھی ایک اہم طبی مرکز ہے۔ یہاں موجود صنعتی کارکنوں اور مقامی عوام کو معیاری طبی سہولیات  کے لیے   موجودہ  اسپتال ناگزیر  ہے۔ حکومتِ تلنگانہ کی صحت عامہ کے فروغ کی پالیسی کے مطابق  جدید ٹیکنالوجی  اور طبعی سہولیات   کر لیے کم از کم   300 بستروں پر مشتمل ڈسٹرکٹ اسپتال  قائم کریں۔ماہر ڈاکٹروں بشمول کارڈیالوجسٹ، نیفرولوجسٹ، نیورولوجسٹ اور ماہر اطفال کی تعیناتی۔گردوں کے مریضوں کے لیے مزید40ڈائلیسس مشینوں کی فراہمی۔آئی سی یو وینٹی لیٹرز اور ہنگامی نگہداشت یونٹس کی تنصیب کریں۔جدید تشخیصی آلات اور جان بچانے والی ادویات کی دستیابی۔وینٹی لیٹر سے لیس ایمبولینسز کی فراہمی تاکہ ایمرجنسی کے مریضوں کو بروقت طبی امداد دی جا سکے۔
 اس کے لیے   مقامی سیاسی رہنماوں میں   محمد غوث  نظامی ( سینئر صحافی)،  ایوب (کانگریس پارٹی انچارچ)،  ایوب ( ٹی کے ایس)، محمد محمود( ایکس وارڈ ممبر ) کے علاوہ دیگر   سماجی کارکنوں  اور مقامی عوام  نے     وزیرِ صحت تلنگانہ، وزیرِ اعلیٰ، یونین وزیرِ صحت، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی، ڈائریکٹر آف پبلک ہیلتھ، تلنگانہ ویدیا ودھانا پریشد اور ضلعی طبی افسران سمیت مقامی منتخب نمائندوں کو رسمی درخواست  دی۔چونکہ ظہیرآباد میں صحت کی سہولیات کا بحران روز بروز شدت اختیار کر رہا ہے، جس پر فوری توجہ نہ دی گئی تو ہزاروں زندگیاں مزید خطرے میں پڑ جائیں گی۔ اسپتال کی اپ گریڈیشن صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے، تاکہ ہر شہری کو مساوی اور معیاری طبی سہولیات میسر  ہو سکیں اور لوگ علاج سے مستفید ہو سکیں۔
اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے سیاسی رہنما، سماجی کارکن اور عوامی نمائندے ایک صف میں متحد ہو  کر   وزیرِ صحت تلنگانہ، وزیرِ اعلیٰ، یونین وزیرِ صحت، نیشنل ہیلتھ اتھارٹی، ڈائریکٹر آف پبلک ہیلتھ، تلنگانہ ویدیا ودھانا پریشد اور دیگر متعلقہ اداروں کو رسمی درخواست  پیش کی۔  ظہیرآباد کی عوام اپنی صحت کی سہولیات میں انقلاب دیکھنے کی متمنی ہے اور امید کرتی ہے کہ حکومت اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے فوری اقدامات کرے گی۔یہ مطالبہ صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ ہزاروں زندگیوں کی بقا کی ایک صدا ہے۔ وقت کی پکار کو سننا اور اس پر عمل کرنا حکومت کے لیے نہ صرف فرض ہے بلکہ ایک تاریخی موقع بھی، جو اسے ظہیرآباد کے عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دے گا۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے