مٹ گئے آلِ محمدﷺ کو مٹانے والے
اب بھی موجود ہیں آقا کے گھرانے والے
کتنی انمول ہے یہ عشق نبی کی دولت
کیا سمجھ پائیں گے دنیا کو کمانے والے
بس کسی طور پہنچ جائیں درِ آقا پر
پھر وہاں سے کبھی واپس نہیں آنے والے
چھوئی سکتی ان کو کبھی فاقہ مستی
یانبی آپ کا صدقہ جو ہیں کھانے والے
با ادب اپنی سرِ راہ بچھا دو پلکیں
مرے سرکارمدینے سے ہیں آنے والے
حشرمیں پائیں گے پروانۂ جنت بیشک
اپنے ماں باپ کے پیروں کو دبانے والے
گھر میں قرآں کی تلاوت کو ضروری کرلو
خودہی مٹ جائیں گے قرآن مٹانے والے
مرا ایمان وعقیدہ ہے اے "زاہد” اک دن
آئیں گے گھوڑوں کو پانی پہ چلانے والے
محمد زاہد رضا بنارسی
دارالعلوم حبیبیہ رضویہ
گوپی گنج، بھدوہی۔ (یوپی) بھارت
