احتشام بن نظام احمد دہلوی
ندوۃ العلماء لکھنؤ
کیا ہم اپنی شناخت کھو رہے ہیں کیا آج کا مسلم نوجوان اپنی مخصوص شناخت برقرار رکھ پا رہا ہے؟ یا وہ جدیدیت کے نام پر اپنی دینی، اخلاقی اور سماجی اقدار سے غافل ہوتا جا رہا ہے؟ ان سوالات کے جوابات ڈھونڈنے پر محسوس ہوتا ہے کہ آج کا نوجوان ایک عجیب دوراہے پر کھڑا ہے۔ جہاں ایک طرف مغربی ثقافت کی یلغار ہے، تو دوسری طرف ہندتو انتہا پسند سیاست اور یہودی سازشیں ذہنوں کو پراگندہ پال کر رہی ہیں۔ جس کی وجہ سے جوش اور ولولہ تو موجود ہے مگر سمت کا تعین نہیں۔ ایسے میں یہ سوال الجھن میں ڈالتا ہے کہ کیا مسلم نوجوانوں کو اپنی حقیقی ذمہ داریوں کا ادراک ہے؟ نیشنل و انٹرنیشنل میڈیا، ہالی وڈ، بالی وڈ اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسلامی اقدار کو کھوکھلا کرنے کی سازشوں کا ادراک ہے؟۔ "فیشن، لائف اسٹائل، آزادی نسواں اور روشن خیالی” کے نام پر مسلم نوجوانوں کو جو اپنی اسلامی شناخت سے دور کیا جا رہا ہے اس کا احساس ہے؟ اسی طرح ہندوستان میں ہندو انتہا پسندی اپنے عروج پر ہے۔ مسلمانوں کو تعلیمی، معاشی اور سماجی طور پر پسماندہ رکھنے کے لیے سیاسی ہتھکنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ "لَو جہاد”، "گھر واپسی”، "CAA-NRC”، وقف بل اور دیگر قوانین کے ذریعے مسلم نوجوانوں کو خوف میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔
دنیا میں یہودی لابی مسلم امہ کو کمزور کرنے کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل ہے۔ فلسطین پر اسرائیلی قبضہ ہو، مسلم ممالک میں خانہ جنگی ہو، یا مسلمانوں کے خلاف میڈیا پروپیگنڈا! کیا ان سب سے نہیں لگتا کہ یہ سب ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے۔ ایسے میں ہمارے حساس و با شعور نوجوانان مسلم کی ذمہ داریاں دو چند ہو جاتی ہیں، کیونکہ کسی بھی قوم و تہذیب کا اصل سرمایہ اس کے جوان ہی شمار ہوتے ہیں، آج ہمارے نوجوانوں کو کئی طرح سے سوچنے اور لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے، انہیں کسی کی مریدی اختیار کرنے کے بجائے خود اپنے محلہ کی اپنی جماعت وجود میں لانے کی ضرورت ہے، تا کہ بیک وقت حالات و مسائل سے نبردآزما ہونا آسان ہو۔ لیکن اس سے قبل بنیادی طور پر ہمارے نوجوانوں کو جن چیزوں کی سخت ضرورت ہے جس کے بعد وہ قوم و معاشرے کی قیادت کرتے ہوئے عزت و سر بلندی عطا کر سکتے ہیں ان میں سے چند یہ ہیں
تعلیم! موجودہ دور میں دائمی یا دیرپا ترقی کا واحد ذریعہ تعلیم و ایجوکیشن ہی ہے، اس کے بغیر کسی کو کوئی چارہ کار نہیں ہے، حضرت حالی ؒ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ "اب بے علم چل سکتی ہے نجاری نہ معماری” تو بھلا امت کی قیادت بغیر تعلیم کے کیسے ممکن ہے؟ اس لیے نوجوان سیکھنے سکھانے پر زیادہ سے زیادہ توجہ مرکوز کریں۔ کیونکہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمان جب تک علم میں سب سے آگے تھے، دنیا پر حکمرانی کرتے تھے۔ اس لیے آج ہمیں سائنس، ٹیکنالوجی، معیشت، اور قانون میں مہارت حاصل کرنی ہوگی تاکہ دشمنوں اور سازشوں کے مقابلے میں مضبوط بن سکیں۔
ذرائع ابلاغ اور ٹیکنالوجی کا صحیح استعمال! یہ دور ڈیجیٹل جنگ کا ہے، جس میں میڈیا سب سے بڑی طاقت ہے۔ مگر افسوس! مسلم نوجوان سوشل میڈیا پر غیر سنجیدہ چیزوں میں مگن ہیں، جبکہ دشمن ہمارے دین کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر رہا ہے۔ اس لیے نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان ذرائع کا استعمال قوم و ملت کے مفاد میں کریں۔
اسلامی طرزِ زندگی کو اپنانا! اصل کامیابی مغرب کی نقالی میں نہیں، بلکہ اسلامی اصولوں پر عمل کرنے میں ہے۔ حیاء، ایمانداری، سچائی، دیانت اور عدل یہی وہ خوبیاں ہیں جو مسلم نوجوان کو دنیا میں سر بلند کر سکتی ہیں۔
اگر ہم ان میں سے کسی بھی نکتہ یا بات پر عمل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو بہت ممکن ہے کہ علامہ اقبال کا یہ قول ہماری ترجمانی کے لیے کافی ہو جائے "جو قومیں اپنی تہذیب سے غافل ہو جاتی ہیں، وہ دوسروں کی غلام بن جاتی ہیں”۔

