قلمکار: بابوخان زرگر
حلالہ کسی صورت مستحسن ہے اور نہ ہی کارِ خیر کہ جس سے ثواب حاصل ہو، بلکہ اللہ کی لعنت ہوگی حلال کرنے اور کروانے والے پر مُلّاں چبوترے پر بیٹھے بیٹھے بڑبڑا رہا تھا۔
قریب بیٹھا گھانسی چونک کر انتہائی حیرت سے پوچھا کہ اس طرح کا واقعہ کب اور کہاں پیش آیا!
گھانسی نے مُلّاں سے کہا کہ جو بات سارے جہان میں طَشْت اَزْ بام ہوچکی ہے اس بات سے آپ اب تک بے خبر ہیں ،تعجب ہے! اجی جناب یہ بات آشکار ہوچکی ہے کہ مُحبان راتوں رات اپنے دو ایک بال بچوں سمیت فرار ہوکر اپنے پہلے شوہر گھڑو کے گھر جاکر بیٹھ گئی ہے! سنتے ہیں فخرو کے ساتھ لو میاریج Love marriage کے باوجود بہت دنوں سے گھڑو کے ساتھ بھی ناجائز چکر چل رہے تھے، ان حرکتوں کی وجہ گھڑو کے گھر والوں نے بھی مُحبان کی بدچلنی کے تئیں اسے قبول کرنے تیار نہیں ہیں۔
سننے میں آیا ہے کہ فخرو بیوی کے بدچلنی کا واقعہ عام ہونے پر رسوائی کے خوف سے روپوش ہوگیا ہے اور گھڑو کے گھر والے بھی اسے اپنانے کے لئے قطعی تیار نہیں ہیں اور معلوم ہوا کہ فخرو کے گھر والوں نے بھی انتباہ دیا ہے کہ وہ مُحبان کو حلالہ کے بغیر ہرگز گھر میں دوبارہ قدم رکھنے نہیں دینگے۔
کریں تو کریں کیا؟ جائیں تو جائیں کہاں؟


