رمضان المبارک میں لوگ صلاۃِ وتر جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور جب امام قنوت وتر پڑھتا ہے تو اکثر مقتدی حضرات امام کے ہر "کلمہ” پر آمین کہتے رہتے ہیں، لوگوں کا یہ عمل شرعا درست نہیں ہے، بلکہ جن کلمات کے ذریعہ اللہ رب العالمین سے کسی چیز کا مطالبہ اور سوال کیا جائے ان پر آمین کہیں اور وہ جملے جو اللہ کی عظمت وجلال، تسبیح وتہلیل، تکبیر اور تقدیس و تنزیہ پر مشتمل ہوں، ان پر آمین نہیں کہیں گے۔
قنوتِ وتر کے شروع کے پانچ جملے جو دعاؤں پر مشتمل ہیں، اُنھیں پر مقتدی آمین کہیں گے اور وہ جملے یہ ہیں:
(١) "اللَّهُمَّ! اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ”
اے اللہ! مجھے ہدایت دے اُن لوگوں میں (داخل کرکے) جن کو تو نے ہدایت دی ہے۔
(٢) "وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ”
اور مجھے عافیت دے اُن لوگوں میں (داخل کرکے) جن کو تو نے عافیت دی ہے۔
(٣) "وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ”
اور میری کارسازی فرما اُن لوگوں میں (داخل کرکے) جن کی تو نے کارسازی کی ہے۔
(٤) "وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ”
اور مجھے میرے لیے اس چیز میں برکت دے جو تو نے عطا کی ہے۔
(٥)”وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ”
اور مجھے اس چیز کی برائی سے بچا جو تو نے مقدر کی ہے۔
باقی درج ذیل جملے اللہ کی تعریف و توصیف پر مشتمل ہیں، یہاں اس کو دہرائیں گے یا خاموش رہیں گے اور بقول بعض سبحان اللہ کہیں گے:
"فإِنَّكَ تَقْضِي وَلا يُقْضَى عَلَيْكَ”
تو فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
” وَإِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ”
جسے تو دوست رکھے وہ ذلیل نہیں ہو سکتا۔
"وَلا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ”
اور جس سے تو دشمنی رکھے وہ عزت نہیں پا سکتا۔
"تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ”
اے ہمارے رب! تو بابرکت اور بلند و بالا ہے۔
اس سے پہلے "سبحانك”
بعد میں "نستغفرك ونتوب إليك” اور "فلك الحمد على ماقضيت” کے الفاظ کا اضافہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہیں، لہٰذا انھیں دعا کے دوران نہیں پڑھنا چاہیے۔
"وَلَا مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ”
تیری عذاب سے تیری رحمت کے سوا کوئی جائے پناہ نہیں۔
(حسن او صحیح /سنن اربعہ، مستدرک حاکم، صحیح ابن خزیمہ)
چوں کہ "آمین” کا مطلب ہوتا ہے "اللهم استجب!”
اے اللہ! تو قبول کر لے۔
لہٰذا اگر کوئی آخر کے تینوں جملوں یا اس جیسے دیگر جملوں پر آمین کہتا ہے، تو اس کا کوئی مطلب اور مفہوم ہی نہیں نکلتا ہے، بلکہ ایک بے تکی سی بات ہو جاتی ہے۔
اسے لیے امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"ﻳُﺆمِّن في الكلمات الخمس التي هي الدعاء، وأما الثناء وهو قوله:” إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ… إلى آخره” فيشاركه أو يسكت، والمشاركة أولى لأنه ثناء وذكر لا يليق فيه التأمين” (المجموع شرح المُهذَّب :(٤١٨/٣)
(قنوت وتر کے اندر) ابتدا کے پانچ کلمات میں آمین کہی جائےگی، اس لیے کہ وہ دعا ہے اور رہی بات "إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ” سے آخر تک کے جملوں کی، جس میں اللہ رب العزت کی حمد وثنا ہے تو (مقتدی) اس میں مشارکت اختیار کریں گے یا خاموش رہیں گے البتہ امام کے ساتھ اس کا دہرانا بہتر ہے، کیوں کہ وہ اللہ کی حمد وثنا اور ذکر کے جملے ہیں، جس پر آمین کہنا مناسب نہیں ہے۔
اس بات کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ "(صحيح البخاري:835) "یہ نہ کہو کہ اللہ پر سلام ہو، کیوں کہ اللہ تو خود سلام ہے۔
چناں چہ جن کلمات کے اندر اللہ رب العزت کی حمد وثنا، عظمت وجلال، عزت و کبریائی، تسبیح وتہلیل اور تکبیر وتنزیہ موجود ہو، اس میں آمین (اے اللہ!تو قبول کر لے) کہنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟؟؟!!!

