وتر کے لغوی معنیٰ طاق کے ہیں جو جفت کی ضد ہے، نماز وتر مؤکد ترین سنتوں میں سے ایک نماز ہے، ہمارے نبی اکرم ﷺ ہمیشہ سفر و حضر میں اس نماز کی ادائیگی کا خاص اہتمام فرمایا کرتے تھے۔

آپ کی قولی و فعلی احادیث سے ایک، تین، پانچ، سات اور نو رکعات کے ساتھ وتر ثابت ہے۔

ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

’’وتر ہر مسلمان پر حق اور ثابت ہے جو پانچ وتر ادا کرنا پسند کرے وہ پانچ پڑھ لے اور جو تین وتر پڑھنا پسند کرے وہ تین پڑھ لے اور جو ایک رکعت وتر پڑھنا پسند کرے وہ ایک پڑھ لے۔‘‘ (صحيح /سنن أبو داود )

آخری رکعت میں رکوع سے پہلے اور بعض روایت و مفتیان کرام کے بقول رکوع کے بعد بھی دعائے قنوت پڑھنا درست ہے

 قنوت وتر کی دعا

: ” اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، فإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ ".لامنجامنك إلا إليك” وصلى الله على النبى محمد "(حسن او صحيح /سنن اربعہ، مستدرک حاکم، السنن الكبرى،بيهقى،صحیح ابن خزیمہ)

* قنوت وتر کی دعا مفرد "اللهم اهدنى فيمن هديت…” اور جمع اللهم اهدنا فيمن هديت…”دونوں صیغوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔

* اکثر کتب حدیث مثلاً : مسند طیالسی، مسند احمد، سنن ترمذی، سنن أبی داود، السنن الکبری للبیہقی، سنن دارمى، المعجم الكبير وغیرہ میں مفرد صیغہ اللهم اهدنى… کے ساتھ وارد ہے جب کہ امام طبرانی نے اپنی کتاب "المعحم الكبير "(2700) اور دوسری کتاب "الدعاء” (735) میں حضرت حسن بن علی ابی طالب رضی اللہ عنہما سے جمع کے صیغہ "اللهم اهدنا فيمن هديت… کے ساتھ روایت کیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالحلیم مدنی استاد جامعہ سلفیہ، بنارس اس حدیث کی اسناد کی بابت لکھتے ہیں کہ "الحديث بهذا الأسناد حسن… ” کہ یہ حدیث اس اسناد سےحسن ہے، کیوں کہ سلسلہ اسناد میں ایک راوی "محمد بن اسماعیل” صدوق ہے،

علامہ البانی رحمہ اللہ اپنی کتاب "إرواءالغليل” (172/2 رقم 429) میں جمع کے صیغہ کے ساتھ وارد حدیث کی تصحیح کی ہے

خلاصہ کلام اور بعض تذکیری کلمات

(١) قنوت وتر کی دعا مفرد اور جمع دونوں صیغوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، لہذا جب کوئی شخص تنہا اور اکیلا وتر کی نماز پڑھے تو وہ مفرد کے صیغہ کے ساتھ قنوت وتر کی دعا پڑھے اور اگر وہ امامت کے فرائض انجام دے رہا ہے تو مقتدیوں کی رعایت کرتے ہوئے جمع کے صیغہ کے ساتھ پڑھے۔

(٢) شروع کے پانچ کلمات دعائیہ ہیں، مقتدی صاحبان کو صرف انہی کلمات پر آمین کہنا چاہیے۔

(٣) اکثر لوگ "انه لا يذل من واليت”پڑھتے ہیں جب کہ شیخ البانی کی تحقیق کے مطابق” وانه… ” واو کے اضافہ کے ساتھ صحیح ہے۔

(٤) تباركت ربنا سے پہلے”سبحانك” اور اس کے بعد "فلك الحمد على ماقضيت” کا اضافہ حدیث سے ثابت نہیں ہے۔

(٥) "ونستغفرك ونتوب اليك” یہ حدیث کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ بعض اہلِ علم کا اضافہ کردہ کلمہ ہے۔

(٦) "لامنجا منك إلا اليك”یہ زیادتی صحیح ابن خزیمہ میں وارد ہے اور شیخ البانی کے بقول یہ صحیح ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے