مولانا ڈاکٹر محمد فرمان ندوی

استاذ دار العلوم، ندوۃ العلماء لکھنؤ

نفرت و تشد د کا رجحان ایک خطرناک رجحان ہے ، خاص طور سے کسی مذہب سے نفرت تو انسانی فطرت کے خلاف ہے ، اور مذہبی تعلیمات سے بھی مغایر ہے، نفرت کے ذریعہ ہمیشہ سلبی نظریات پروان چڑھتے ہیں اور محبت سے آپسی تعلقات استوار ہوتے ہیں، اور جب بھی معاشرہ میں نفرت و تشدد کا دور دورہ ہوا ہے ، معاشرہ آگ کی بھٹی میں جلتا نظر آیا ہے ، نفرت کے وجودکی بنیادشیطانی اسباب و عوامل ہیں ، جب کہ محبت کا سرچشمہ انسانی فطرت اور آسمانی تعلیمات ہیں ۔

نفرت کی بنیاد اور اس کا پس منظر :
نفرت و تشدد کی تاریخ صدیوں پرانی ہے ، یہ کوئی روز و شب کی پیداوار اور خود رو گھاس نہیں ہے ، جو بغیر کسی کھاد اور دیکھ بھال کے نکل آتی ہے ، اور نہ ہی یہ جادوئی لاٹھی ہے ،جو یکلخت وجود پذیر ہوئی اور ختم ہوگئی، اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ نفرت و تشدد کا سب سے پہلا اظہار ابلیس سے ہوا، جس نے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا، چنانچہ اس کو راندہ ٔ درگاہ کر دیا گیا، شیطان کو اس پر افسوس بھی نہیں ہوا، بلکہ اس نے اس فکر کی ترویج و اشاعت کے لئے مہلت مانگی اور پھر اس غلط نظریہ کو عام کرنے والے افراد تیار کر لئے، اس وقت بھی شیطان کے ہر کارے ہر جگہ نفرت و تشدد کو بڑھاوا دے رہے ہیں اور معاشرہ کو تباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔
بیسویں صدی عیسوی میں نفرت کا ایک نیا ہیولی دنیا کے سامنے آیا ، جس ہم اسلامفوبیا کے نام سے جانتے ہیں، یعنی اسلام سے دشمنی اور بیزاری کا اظہار ، لغت میں فوبیا کے معنی ہیں : خوف وسواسی، لا معقول لہ من شییٔ ما ( ایک موہوم خطرہ اور ڈر، جس کی کوئی عقلی دلیل نہیں ) ، ۲۰۰۱؁ء میں ۹؍ ۱۱ کے بعد اس ہیولی نے بڑی وسعت حاصل کرلی ، اور بڑے پیمانہ پر اس کی تباہ کاریاں سامنے آئیں، پھر یہودیت و نصرانیت اور وثنیت کا ایک مثلث اس کو فروغ دینے میں لگ گیا، ان کے حاملین اور علمبردار اس کو عام کر نے میں لگ گئے، یہاں تک کہ سابق امریکی صدر جاج ڈبلیو بش نے افغانستان پر حملہ شروع کرتے ہوئے کہا تھاکہ ہم نئے سر ے سے صلیبی جنگوں ((Crusade کا آغاز کررہے ہیں ، اور پھر حیلے ، بہانے سے اسلام فوبیا کو بنیاد کر جارحانہ کارروائیاں گئی۔

یورپ میں نفرت و تشدد کے اثرات :
اسلام فوبیا کا پہلا اثر یورپین ممالک میں ظاہر ہوا ، وہاں اسلام سے دہشت و خوف کا ایک مظا ہر ہ سامنے آیا کہ ایئر پورٹوں اور اسٹیشنوں میں اسلام پسندوں کو اسی نظریہ کی بنا پر زد و کوب کیا گیا ، مسلمانوں کی مقدس آسمانی کتاب قرآن مجید کو نذر آتش کیا جانے لگا، اور ان کے رسول جناب محمد ﷺ کے کارٹون بنائے گئے، اوراس کی بڑے پیمانہ پر تشہیر کی گئی ، جس سے پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ، مغربی میڈیا نے اس نظریہ کو بڑھاوا دیا ، اور زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ، جس سے اسلام پسندوں کے خلاف مخالف ماحول پروان چڑھا ، اور اس کے خطرناک نتائج سامنے آئے، لیکن جیساکہ مشہور محاورہ ہے کہ شر میں خیر کا پہلو سامنے آتا ہے (رب ضارۃ نافعۃ)، یورپ و امریکہ کے امن پسندوں نے اسلام کا گہرائی سے مطالعہ کیا، اور اور ان پروپیگنڈوں کی حقیقت کو جانا، اور ان کی تہہ تک پہونچے، جس کی وجہ سے ان کی غلط فہمیاں دور ہوئی، اور وہ اسلام سے متأثر ہوئے، اور ان کے کچھ لوگوں کو اسلام اتنا پسند آیا کہ اس میں داخل ہو گئے اور اسلام قبول کیا اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ میڈیا میں یہ خبریں شائع ہوئیں تو لوگ ا نگشت بدنداں رہ گئے ۔اسی امن پسند لہر کا اثر یہ ہوا کہ مارٹن لوتھر جونیئر نے نفرت و تشدد کا سختی سے انکار کیا ، اور برملا کہا : Hate Breed Hate (نفرت سے نفرت کو بڑھاوا ملتا ہے)۔
یورپ میں نفرت کا ایک دوسرا نمونہ ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۹؁ء میں اس وقت سامنے آیا، جب اسلامفوبیا کے شکار ایک جنونی شخص نے جنوبی نیوزی لینڈ کی مسجد میں نماز جمعہ کے وقت تابڑتوڑ حملہ کر کے پچاس نمازیوں کو شہید کر دیا، اورسیکڑوں کا زخمی کیا، یہ حملہ ایسا گھناؤنا تھا کہ ہر سطح پر اس کی مذمت کی گئی،نیوزی وزیر اعظم جاسند آرڈن نے اس حملہ کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا، اس کے بعد اقوام متحدہ کا بھی بیان آیا، جس میں اس نے اس حملہ کی شدید انداز میں مذمت کی، اور ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۹؁ء کو عالمی انسداد اسلامفوبیا قرار دیا گیا ، ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے، ابھی ۱۵؍ مارچ ۲۰۱۹؁ء کو موجودہ اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انتونیوگوٹرس نے مساوات اور انسانی قدروں کی حفاظت پر زور دیا، اور کہا ہے کہ انسانیت نفرت و تشدد کے مقابلہ میں عظیم تر چیز ہے، جنرل سکریٹری نے اعتراف کیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت و تشدد کا رجحان بڑ ھ رہا ہے ، اور اس کے نتیجہ میں متنوع کارروائیاں سامنے آرہی ہیں۔

مذہبی نفرت پیدا کرنے کا ایک نیا حربہ :
اسلام دھر م جس کو ہم مانتے ہیں ، وہ اللہ تعالی کا دیا ہوا ایک سسٹم ہے، جو زندگی کو اچھے طریقے سے گذارنے کے لئے آسمان سے اتارا گیا ہے، وہ آخری پروفٹ Last Prophet محمد ﷺ کے واسطہ سے ہم تک پہونچا ہے۔ اس دھرم میں دو قسم کے راٹس Rights ہیں، کچھ وہ ہیں ، جو اللہ سے belong کرتے ہیں ، اور کچھ وہ ہیں، پوری مانوتا اور اللہ کے کریچر سے belong کرتے ہیں ۔
پہلی قسم وہ ہے جس میں ہم نماز، روزہ، زکاۃ، حج اور دوسرے ورسپس (عبادت) کو رکھتے ہیں، دوسری قسم وہ ہے جس میں ہم انسانوں سے تعلق رکھنے والی والی باتیں رکھتے ہیں، وقف جس کا آج کل بہت چرچا ہے، وہ اللہ کے رایٹس سے بلانگ Belongکرتا ہے ۔
وقف کہتے ہیں: کسی چیز کو اپنی رائٹ سے نکال کر اللہ کی ٹرسٹی اور وارڈن شپ میں دینا، اور اس کو غریبوں، محتاجوں، ضرورت مندوں اور دیگر سماج کے طبقات کے کے لئے خاص کردینا۔ اس کی سب سے بڑی witness قرآن کی سورہ نمبر تین آل عمران آیت (verse) میں ہے کہ لن تنالوا بالبر حتی تنفقوا مما تحبون ، وما تنفقوا من شییٔ فان اللہ بہ علیم (آل عمران آیت نمبر۹۲) تم بھلائی اور اچھائی کو نہیں پاؤ گے، جب تک اپنی پیاری چیز کو خرچ نہیں کرو گے، اور جو بھی خرچ کرو گے تو اللہ تعالی اس سے خوب واقف ہیں۔ اور قرآن کریم کی ایک دوسری ورسز ہے: وما تنفقوا من خیر فلأنفسکم (البقرۃ: ۲۷۳) اور تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے تو وہ تمہارے فائدے کے لئے ہے۔
اسلام میں وقف کے لئے یہ قرآن کریم کی چند آیتیں (verses) ہیں، جس طرح روزہ ، نماز ، زکاۃ اور حج مسلمانوں کے لئے ضروری ہے، اسی طرح وقف کی حفاظت اور باقی رکھنا ضروری ہے، اسلام کے قانون کے مطابق اس وقف کی زمین کو نہ کوئی مسلمان بیچ سکتا ہے اور نہ اس کو خرید سکتا ہے ، اور نہ گفٹ کیا جاسکتا ہے۔
حدیث پاک جو محمد ﷺ کی باتیں ہوتی ہیں ، اور وہ اسلام دھرم کی دوسرے نمبر پر سورسز((Sources میں شمار ہوتی ہے، اس میں آیا ہے کہ الخلق عیال اللہ، وأحب الخلق الی اللہ من أحسن الی عیالہ پوری مانوتا اللہ کی ایک فیملی ہے، اور اللہ کا ایک خاندان ہے ، اور اللہ کی نظر میں سب سے پیارا وہ مانو ہے جو اس کے فیملی کو فائدہ پہونچائے (مسند أبو یعلی ثابت بنانی)۔اور محمد ﷺ کی باتوں کی اٹھنٹک (Authentic) کتاب صحیح بخاری میں ہے : لوگوں کی مدد کرنا عبادت (Wership) ہے، دولڑنے والے لوگوں میں بھائی چارہ کرانا عبادت ہے، کسی کا سامان اس کے گھر تک پہونچا دینا اور راستہ سے کانٹا یا اینٹ پتھر کو ہٹانا بھی پوتر کام ہے، لیکن ان میں کٹیگری کے اعتبار سے سب اچھا وہ ہے جو انسان اپنے بعد کسی کے فائدے کے لئے کوئی مال وقف کردے ،تاکہ لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں ۔اور پیارے محمد ﷺ کا ایک سنٹینس (Sentence) ہے: اللہ انسان کی اس وقت مدد کرتا رہتا ہے، جب تک وہ دوسرے کی مدد کرتا رہتا ہے (ترمذی: ۱۴۲۵)
اگر ہم محمد ﷺ کی زندگی اور لائف کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ایک باغ کو وقف کیا، اسی طرح ان کے فالوروں میں چار فالور حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی سب نے اپنے خاص اور پرسنل مال کو وقف کیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خیبر کے اپنے مال کے بارے میں محمد ﷺ سے پوچھا تو فرمایا کہ اللہ کے راستہ میں وقف کردو (صحیح بخاری)، مدینہ شہر جو سعودی عرب میں ہے، اور محمد ﷺ وہاں تھے ،وہاں ایک کنواں بئر رومہ تھا ، جس کا مالک ایک یہودی (Jew) تھا، وہ لوگوں کو پانی پینے نہیں دیتا تھا، محمد ﷺ کے ایک فالور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنے مال سے خریدا، اور وقف کردیا کہ جو چاہے اس سے پانی پئے، پانی پینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
ہر زمانہ (Period) اور ہر دور کے مسلمانوں نے اپنے اپنے مال کو وقف کیا ہے، مسجدیں بنوائیں، قبرستان بنوائے، اسپتال بنوائے، مدرسے تعمیر کرائے، یتیم خانے بنوائے اور یہ سلسلہ چودہ سو سال سے جاری ہے ، غریبوں اور یتیموں اور محتاجوں کے لئے مکانات بنوائے ، اس میں کبھی کوئی پاپندی نہیں رہی ۔ اسی ملک ہندوستان میں جب سے مسلمان یہاں ہیں، انہوں نے وقف کے یہ سب کام کئے، لیکن کسی نے کوئی تنقید و اعتراض criticize نہیں کیا، سارے مسلمان اپنے وقف کے مال کی حفاطت کرتے رہے، انگریزی زمانہ ( Period) میں ۱۸۵۷؁ء کے بعد جب انگریزوں نے اس ملک کے اوقاف کو انہوں نے ہڑپنا شروع کیا تو مسلمانوں نے بڑی اسٹریگل Struggle اور اپنی جان اور مال کو قربان کیا ، پھر ۱۹۳۷؁ء میں انگریزوں نے شریعت اپلیکیشن ایکٹ پاس کیا، جس کے ذریعہ ان کے پرسنل لا کو محفوظ کر دیا گیا کہ اس سے کو ئی چھیڑ چھاڑ نہیں کرے گا ۔
وقف کا قانون یہ ہے کہ (۱) اس کا مالک اللہ تعالی ہوتا ، (۲) اور اس کی نگران Warden اور ٹرسٹی مسلمان ہی ہو سکتا ہے، (۳) اور جس مقصد کے لئے وقف کرنے والے نے دیا، اسی مقصد اور پر پز (purpose) میں خرث کیا جائے گا ، (۴)زبانی طور پر کوئی بھی وقف کر سکتا ہے ، اور اگر کسی کو( زبانی طور پر ) ورل Oral )(متولیTrusty بنایا گیا ہے تو متولی ہو جائے گا ،(۵) اور یہ وقف ہمیشہ کے لئے ہوگا ، اگر کسی نے ایک یا دو سال کے لئے وقف کیا تو وہ معتبر نہیں ہوگا۔ (۶) کوئی بھی انسان جو سمجھدار ہو وہ کبھی بھی وقف کر سکتا ہے۔
یہ بنیادی لازمی اور قوانین ہیں، جو وقف کے لئے اسلام نے طے کئے ہیں: اب غور کیجئے کہ موجودہ جو وقف سنسودھن ( ترمیمی ) بل ہے، اس کاسب سے پہلا پوانٹ یہ ہے کہ وقف کر نے والے کا کم سے کم پانچ سال پرانا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ یہ اسلام کے خلاف ہے اور سویدھان( دستور ) کے خلاف ہے
اس بل میں زبان سے وقف کا اعتبار نہیں ہے، جب کہ اسلام میں زبانی طور پر وقف کا اعتبار ہے۔
وقف جائداد کے لئے جو کمیٹی ہوگی اس کے دو ممبران مسلمان نہیں ہونگے، یہ بھی ایک کھلی مخالفت ہے، ۱۹۹۵؁ء کا جو وقف بل ہے، اس میں یہ بات نہیں ہے
نئے بل میں جو فائدہ وقف مال کو ہوگا وہ غریبوں اور یتمیوں Poor Urphan اور غریبی سے ریکھا سے نیچے لوگوں پر حکومت خرچ کرے گی، جب کہ اسلام میں جس نے وقف کیا ہے وہ خود اس کو مال خرچ کرے گا ، اور ۱۹۹۵؁ء ایکٹ میں بھی یہ بات ہے۔
اسی کے ساتھ اس بل میں وقف ٹریبونل کے اختیارات کو ختم کردیا گیا ہے، اور کلکٹر کو اس کا ذمہ دار بنایا گیا، یعنی کلکٹر جس جائداد کو وقف جائیداد نہیں سمجھے گا وہ وقف نہیں رہے گی اس کے خلاف کو ئی اپیل ٹریبونل میں نہیں دی جا سکتی۔ گویا جسٹس کا پانا ایک مشکل کام ہے اس بل میں ایک بات یہ بھی ہے کہ کسی بھی جائداد پر وقف پورڈ ۱۲ سال کے اندر ہی مقدمہ کر سکتا ہے، اگر کسی کے قبضہ کی مدت بارہ سال ہو گئی تو وہ مقدمہ کر نے کا حقدار نہیں ہوگا۔ یہ ایک ظالمانہ بل ہے۔ ۱۹۹۵؁ء ایکٹ میں
مقدمہ کرنے کی کوئی مدت نہیں ہے۔
ان باتوں کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ وقف سنسودھن بل کسی طرح سے مناسب نہیں ہے، اس کو ہر طرح رجیکٹ (Reject) کرتے ہیں اور اپیل کرتے ہیں کہ کاسٹی ٹیوشن میں مسلمانوں کو جو دھرم کی آزادی دی گئی ہے تو اس کو باقی رکھ کر سودھان کی حفاظت اور باقی رکھنے کا کام کیا جائے ۔
اس بل کے پاس کرانے میں بباطن نفرت و تشدد کا عنصر زیادہ کار فرما ہے ،ورنہ کڑروں ای میل جب حکومت کو پہونچ چکے ہیں تو اس کے بعد اب کوئی جواز نہیں رہتا ہے کہ اس کو پاس کرایا جائے، ادھرآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اول دن سے بل مخالف مہم چھیڑ دی ، حکومت کو بار بار یاد دہانی کے بعد اب اس نے مظاھرے اور احتجاج کا انداز اختیار کیا ہے، اور جنتر منتر پر ایک کامیاب مظاہرہ کر کے اپنا فیصلہ کن موقف حکومت کے سامنے رکھ دیا ہے۔ ضرورت ہے کہ حکومت کے افراد نفرت و تشدد کے رجحان کو ختم کر نے کے لئے اس بل کو ختم پارلیمنٹ میں پیش نہ کریں ، اس سے اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری بھی ہوگی اور عالمی سطح پر ملک کی طرف سے اچھا پیغام جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے