مطیع اللہ حقیق اللہ مدنی
_________________
رمضان کےآخری عشرہ کی اہمیت و عظمت مسلم ہے۔اہمیت یوں کہ اس قدر کی رات میں قرآن کا نزول ہوا ہے۔ اس کی عظمت کا بیان سورۃ القدر میں ہے اس رات کا قیام خصوصی فضیلت رکھتا ہے یہ فرمان نبوی ہے: کہ جس نے قدر کی رات میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کیا اس کے پہلے کے گناہوں کی مغفرت کردی جائے گی۔
آخری دسوں راتوں کی اہمیت و عظمت یوں ہے کہ ان راتوں میں عبادت میں اجتہاد یعنی محنت و کوشش کرنی چاہیے اور دیگر راتوں کے بالمقابل زیادہ وقت عبادت کے لیے خاص رکھنا چاہیےاور قیام کا اصل مطلب تراویح پڑھنا،اس میں کتاب اللہ کی تلاوت کرنا،حسب توفیق نوافل پڑھنا۔
اور مشروع عبادت کا اہتمام کرنا جس میں صلاۃ، تلاوت قرآن کریم، ذکر اور دعا سب شامل ہیں۔
ان کے علاوہ اور دیگر اعمال کا خصوصی اہتمام ان راتوں میں کرنا اور ان کو موجب فضیلت سمجھنا درست نہیں ہے۔
ایسے ہی اس رات میں تذکیری خصوصی خطابات اور تقاریر اور دیگر پروگرام و اجتماعیت کا خصوصی اہتمام بھی درست نہیں ہے مسئلہ خصوصی اہتمام کا ہے کہ یہ رات عبادت کی رات ہے وہ عبادت کیا ہواس کو ہمیں اسوہ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی سیرت طیبہ کے اوراق و صفحات میں تلاش کرنا چاہیے۔ عبادات توقیفی ہیں۔ ہر اعتبار اس میں توفیق سے کام لینا چاہیےمجرد تحسین سے کوئی بھی عمل کرنا عمل صالح کے دائرہ میں نہیں آتا ہے۔
اسی طرح قدر کی رات میں شعر خوانی خواہ حمد و نعت ہو درست نہیں ہے۔
عبادت کا جو مشروع طریقہ ہے اور اس کی جو کیفیت و صفت ہے۔ اس کا جو وقت ہے اس کی جو مقدار ہے سب کا اعتبار ضروری ہے۔
یہ یاد رکھیں کہ عبادت کو دوسری عبادت پر قیاس کرنا بھی درست نہیں ہے۔
اللہ تعالی ہمیں حسن عمل کی توفیق دے۔
