بیدر۔ 4؍اپریل (محمدیوسف رحیم بیدری): مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی طرف سے نافذ کردہ عوام نواز اسکیم پردھان منتری آواس یوجنا میں بہت زیادہ الجھن اور امتیازی سلوک کیاجارہا ہے۔
خصوصاً بیدر جنوب اسمبلی حلقہ کے بگدل گرام پنچایت میں پردھان منتری آوجا یوجنا کے تحت مکانات مختص کرنے کے لیے حکومتی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ پنچایت ڈیولپمنٹ آفیسر پنچایت راج ایکٹ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے لاپروائی سے کام لے رہے ہیں۔ بیدرجنوب اسمبلی حلقہ کے ایم ایل ایز نے اخبارات کے ذریعہ عوام کو مطلع کیا ہے کہ حکومتی رہنما خطوط کے مطابق پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت مکانات الاٹ کیے جانے چاہئیں، یعنی درج فہرست ذات/ درج فہرست قبائل کے مستفید ہونے والوں کو 60%، اقلیتوں کو 15% اور عام زمرے کے مستفید ہونے والوں کو 25% مکانات الاٹ ہوں ۔ تاہم، گرام پنچایت ترقیاتی افسر نے روسٹر سسٹم کے مطابق مکانات الاٹ نہیں کیے ہیں۔ اس کے علاوہ بگدل گرام پنچایت کو پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت پہلے ہی 91 مکانات موصول ہو چکے ہیں، جن میں سے ایس سی ؍ایس ٹی زمرے کے استفادہ کنندگان کو ایک بھی مکان نہیں دیاگیا۔
معزز ایم ایل اے نے ایس سی ؍ایس ٹی کو 60% دینے کے لئے پریس میں بیان جاری کیا تھا۔لیکن یہاں درج فہرست ذات / درج فہرست قبائل کے مستحق غرباء کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔ لہٰذا مطالبہ کیا جاتا ہے کہ اس کی فوری اصلاح کی جائے اور پنچایت راج ایکٹ کے مطابق روسٹر نظام کو لازمی طور پر لاگو کیا جائے اور اس کے مطابق مناسب نمائندگی دی جائے۔ آج ضلع پنچایت سی ای او کو انتباہ دیا کہ اگر ایک ہفتہ کے اندر اس مسئلہ پر توجہ نہ دی گئی تو بگدل کی مین سڑک پر راستہ روکو جیسا سخت احتجاج کیا جائے گا۔
اس موقع پر بگدل گرام سدھارنے ہوراٹا سمیتی کے صدر راج کمار بگدلکر اور جے ڈی ایس رعیت سنگھ یونٹ کے صدر شیوراج کٹگی، بیدر جنوب اسمبلی حلقہ مادیگا دنڈورا ہوراٹاسمیتی کے جنرل سکریٹری پرکا ش ایس ، ہالہلیکر، مہیش دارکے، سدرام بگدال، پربھوراج کرنائک، پنڈت کرنائک، اورعظیم سوداگرموجودتھے۔
