محمد عبد اللہ جاوید
وقف ترمیمی قانون کےخلاف احتجاجی مظاہرے مختلف مقامات پر منظم کئے جارہے ہیں۔ ان کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ ‘اس قانون کے خلاف احتجاج میں حکمت‘مصلحت اور ترکیب پیش نظر رکھنا ضروری ہے جس کی مسلم پرسنل لاءبورڈ کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے۔ اگر اس کالحاظ نہ رکھا جائے تو احتجاج ‘محض ایک ملی احتجاج کی صورت اختیار کر لے گا جس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوگا۔لہذا حسب ذیل معروضات پر توجہ ضروری ہے۔
وقف کی املاک کا حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہے ۔اوقاف کے تقدس اور اس کی حیثیت سے ہم سب واقف ہیں۔ یہ جان لیں کہ وقف سے متعلق قانون سازی کا عمل بھارت جیسے مخلوط سماج میں ہوا ہے۔قانون بننے سے پہلے‘وقف بل کی مخالفت میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی شانہ بہ شانہ تھے ۔بلکہ وقف بل کے باریک اور پیچیدہ قانونی پہلوؤں پر مختلف فورموں اور سطحوں پر جس مدلل انداز سے غیر مسلموں نےمخالفت کی وہ جرات وبےباکی کی ایک منفرد مثال ہے۔
وقف ترمیمی بل سے لے کر اس کے قانون بننے تک کے تمام مراحل بلکہ اس کے بعد بھی جس انداز سے اس ملک کے حق و انصاف پسند غیر مسلموں نے ساتھ دیا‘ اس وقف ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج بجا طور پر ‘ بھارتی عوام کی مشترکہ آواز ہے۔ لہذا وقف ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے ذریعہ واضح کرنا چاہئے کہ یہ قانون:
- دستورکے مزاج کے خلاف ہے۔
- مجموعی عوامی مفاد سے ٹکراتا ہے۔
- شہریوں کی آپسی محبت اور باہمی تعاون واشتراک کی فضا کو مکدر کرتا ہے۔
یعنی وقف ترمیمی قانون ‘ دستور ہند کے مزاج اوراس میں بیان کردہ مذہبی آزادی کے سراسر خلاف ہے۔یہ قانون‘ دستور ہند کی بعض دفعات کی کھلی خلاف ورزی کرتا ہے۔اس پس منظر میں وقف ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے سلسلہ میں حسب ذیل امور پیش نظر رہنے چاہئے:
(۱ ) مسلمان‘ بھارت کے حقیقی خیرخواہ
بھارت میں مسلمانوں نے ہمیشہ سے اپنی جان و مال کی قربانیاں دیتے ہوئے اس کے چمن کو سجایا ہے۔ملک کی آزادی کے لئے ہماری ایثاروقربانی کی تاریخ تقریباً دوصدیوں پر مشتمل ہے۔ بزرگوں کی یہی شاندا رروایات برقرار رکھتے ہوئے جب بھی کوئی اقدام ملک کی سالمیت اور دستور ہند کی جانب سے عطا کردہ حقوق کے خلاف ہوگا‘ مسلمان ‘ کمر بستہ ہوجائیں گے۔یہ بات حکمرانوں تک واضح طور پر پہنچنی چاہئے کہ بابری مسجد اور طلاق ثلاثہ جیسے اہم ترین مسائل پر جب ملک کے موقر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا تو مسلمانوں نے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا مدعا پیش کیا۔ کرروڑوں کی مسلم آبادی والے اس ملک میں کہیں کوئی احتجاجی مظاہر ہ نہیں ہوا۔ یہ وطن عزیز میں مسلمانوں کی جانب سے صبروتحمل اور ملک کی خیرخواہی کافقید المثال مظاہرہ ہے۔اب مسلمان اس وقف ترمیمی قانون کے لئے سراپا احتجاج اس لئے بنے ہوئے ہیں کیوں کہ یہ ملک کے دستور کے سراسر خلاف ہے۔
(۲) ملک کی حقیقی ترقی کا راز: عوام مخالف اقدامات سے احتراز
ان احتجاجی مظاہروں کا دوسرا رخ حکمرانوں کو یہ باور کرانا ہونا چاہئے کہ جب کسی ملک میں ‘ خود اسکی عوام کے خلاف قانون سازی اور اس سے ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے تو وہ ملک کبھی حقیقی وپائیدا رترقی نہیں کرسکتا۔نہ اسکے معاشرہ میں امن وسکون قائم رہ سکتا ہے۔چاہے تو وسط ایشاء اور افریقہ کے ان ممالک کو دیکھ سکتے ہیں جنکی عوام مخالف پالیسیاں اور قانون سازی نے انکے معاشروں کو فتنہ وفساد کی آماجگاہ بناکر رکھ دیا ہے ۔
اس کے برعکس ہمارے ملک کی آزادی سے لے کر اس کے بعد کے ادوار کی ترقی میں ‘شہریوں کے حقوق کی پامالی اور ناروا سلوک کی وہ صورت حال نظر نہیں آتی جواب فی الواقعی نظر آرہی ہے۔یعنی ملک کی ترقی ‘عوام کے ساتھ منصفانہ برتاؤ کرنے سے ممکن ہے۔اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں ملک کی سالمیت اور ہمہ جہت ترقی کے لئے موجود ہ فضا‘ سم قاتل ہے۔اس کا قابل عمل حل‘ وہی نعرہ ہے جو خود برسراقتدار پارٹی نے سب کا ساتھ سب کا وکاس کے ذریعہ لگا یا ہے‘اگر اس جانب دیانت داری سے توجہ دی جائے توحالات بدل سکتے ہیں۔
(۳) صف احتجاج میں ‘ہندو بھی ‘ مسلم بھی
وقف ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے لئے ہر اقدام ‘مشترکہ ہونا چاہئے۔اسے مسلمانوں کا مسئلہ بنا کر پیش کرنے سے بڑی سختی سے بچنا چاہئے۔جب سے وقف ترمیم سے متعلق بل اور قانون سازی کے مراحل درپیش رہے ہیں‘ ملک کے سیاسی‘سماجی قائدئین ‘ دیانت دار صحافی اور باشعور لوگوں نے اس کی کھم کھلا خلاف ورزی کی ہے۔ جبکہ لوگ سبھا اور راجیہ سبھا میں ممبران کی ایک بڑی تعداد نے وقف بل کی مخالفت کرتے ہوئے یہاں کے حکمرانوں کوبالخصوص اور عوام کوبالعموم واضح پیغام دیا ہے کہ یہ مسئلہ کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کا نہیں بلکہ دستور ہند کی روح اور اس کے عطا کردہ حقوق کی پامالی کاہے۔
اگر احتجاجی مظاہروں میں ہمارےغیر مسلم بھائیوں کی اچھی خاصی شرکت نہ ہو توان کی حق گوئی ‘بے باکی اوردیانتدارانہ نمائندگی کی بڑی ناقدری ہوگی جو انہوں نے پارلیمان کے ایوانوں سے لے کر عدالتوں اور مختلف فورموں میں بڑے باوقار انداز سے کی ہے۔احتجاج میں غیر مسلم حضرات کی شرکت کو ترجیح بنیاد پر یقینی بنانا چاہئے۔ آپس میں مل کر اس قانون کے خلاف احتجاج میں ایسے نعرہ لگا نا چاہئے جس سے ملک اور باشندگان ملک کی خیر خواہی کا حق ادا ہوجائے۔اس کے برعکس ہمارے عام جلسے جلوس جیسے نعرے لگانے سے احتیاط کرنی چاہئے ورنہ یہ تاثر عام ہوگا کہ وقف ترمیمی قانون کا مسئلہ صرف مسلمانوں کا ہے۔
(۴) آنے والی نسلوں کا بھارت کیسا ہو؟
احتجاج کے موقع پر یہ بات بھی بڑے درد کے ساتھ بیا ن کرنی چاہئے کہ ہم سب مل کر کیسے ملک کی تعمیر کررہے ہیں ؟اور کیسا ملک اپنی آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑ جارہے ہیں؟ یہ بات طے ہے کہ آج ہم بحیثیت بھارتی شہری جو انفرادی واجتماعی کردارادا کریں گے‘وہی آج بنے گا جس کو آنے والی نسل‘ اپنے ماضی کی تاریخ کی حیثیت سے دیکھے گی۔کیا کوئی وطن سے محبت کرنے والا یہ چاہے گا کہ آنے والی نسلیں ہمارے آج کو ایسے ماضی کے طور پر جانے جوفتنہ وفساد ‘ آپسی انتشار‘طبقاتی کشمکش ‘عوام اورقائدین کے درمیان بے اعتمادی ‘ انسانی حقوق کی پامالی ‘ دستور ہند کی کھلی خلاف ورزی جیسے ماحول سے عبارت تھا؟
کیا ہم یہ نہیں جانتے کہ ہمارے بزرگ ہمیں کیسا شاندار ماضی دے کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے ؟ ایسا شاندار ماضی کہ جس کی صرف یاد ‘ آج بھی ملک اور باشندگان ملک کی خیر خواہی میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ بے کراں دل میں پیدا کردیتی ہے؟اورہمارے تن بدن میں حرارت پیدا ہوجاتی ہے؟یاد رہے انقلا ب زندہ باد‘ سرفروشی کی تمنا‘انگریزوبھارت چھوڑو‘ ستیہ گرہ‘سواراج میرا جنم سدھ ادھیکار ہے‘جیسے نعرے محض چند الفاظ نہیں بلکہ ہمارے بزرگوں کے درمیان کی قومی یکجہتی ‘ باہمی تعاون اشتراک کی بنا وجود میں آنے والی دل کی صدائیں تھیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی تازگی آج بھی باقی ہے اور موقع بہ موقع ان کی بازگشت ہمیں سنائی دیتی ہے۔اگر ان نعروں کو حقیقی معنوں میں کارگر بنانا ہے تو ماضی جیسی قومی یکجہتی اور اجتماعی جدوجہد کی مثال تازہ کرنی ہوگی۔ دنیا اسی حال اور ماضی کو بطور تاریخ اپنے دامن میں سجائے رکھتی ہے ‘ جو تعصب سے پاک ‘ آپسی محبت ‘باہمی اعتماد اور حسن تعاون سے معمور رہا ہو۔
(۵) ملک کے حقیقی مسائل ‘ہماری توجہ کے منتظر
ملک میں ہورہے احتجاجات کے پس پردہ جن ایشوز پر رتوجہ نہیں کی جارہی ہے وہ آج تقریباً ہر میدا ن میں اپنا سراٹھائے کھڑے ہیں۔معاشی‘تعلیمی‘ ثقافتی ‘تہذیبی ‘سیاسی ‘تجارتی ‘زرعی غرض ایسے کئی میدان ہیں جن میں روز افزوں بڑھتے مسائل ہماری توجہ کے محتاج ہیں۔اگر ان مسائل کا فوری تدارک نہ کیا جائے تو مستقبل میں مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
اس پس منظر میں یہ بات باشندگان ملک ‘بطور خاص طلبہ و نوجوانوں ‘کے سامنے بڑی دردمندی کے ساتھ رکھنی چاہئے کہ وطن کی محبت صرف اس بات سے معتبر سمجھی جائےگی کہ ہمارا ‘ بحیثیت بھارتی شہری آپسی تعلق کیسا ہے اور کس قدر ہم باہمی تعاون واشتراک سے ملک اور باشندگان ملک کی خدمت کیلئے اپنے آپ کو لگا کھپارہے ہیں۔جس تیزی کے ساتھ مصنوعی ذہانت ‘مشین لرننگ‘ روبوٹکس ‘خلائی سائنس اور سائنس و ٹیکنالوجی کے مختلف میدانوں میں حیرت انگیز ترقی ہورہی ہے ان میں ہمارا کیا رول رہے گا ؟کیا ہم تعلیم وتعلم کے بدلتے معیارات کو سمجھنے سمجھانےکیلئے پوری طرح تیار ہیں؟آج کے اس جدید ترقی یافتہ دور میں ہم اپنے وطن عزیز بھارت کو کہاں اور کس مقام پردیکھنا چاہتے ہیں؟ یہ وہ اہم امور ہیں جو ہمیں بھارت کے ذمہ دار اور باشعور شہری ہونے کے تقاضوں کو دل وجان سے پورا کرنے کے لئے تیار وآمادہ کرسکتے ہیں۔

