رفیع نعمانی مہراجگنج
میں امام مسجد ہوں نام تو سنا ہی ہوگا،وہی امام جو ہرگاؤں محلہ اور شہر کی مسجد میں لوگوں کو نماز پڑھاتا ہےاور اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں وعظ ونصیحت بھی کرتا ہے۔میں وہی امام ہوں جو مکتب کے شوروغل میں بیٹھ کر تین سے تیرہ کی عمر کے بچوں کو کلمہ نماز روزہ اور قران کریم پڑھنا سکھاتا ہے۔جو بوقت ضرورت مسجد کے وضو خانہ استنجاء خانہ اور بیت الخلاء تک کی صفائی سے گریز نہیں کرتا ۔شادی بیاہ میں تجہیز وتکفین میں عرس و میلاد میں دنگا وفساد میں ہرجگہ میں نشانۂ خلق خدا رہتا ہوں ۔گویا میں ایک تختۂ مشق ہوں میراہر مقتدی خواہ عالم ہو یا جاہل شہری ہو یا دیہاتی مجھے اپنے رنگ میں رنگنے کے لیے کوشاں رہتا ہے ۔یہاں تک کے میرے شب و روز کی کڑی نگرانی کرتاہے ۔میں کیسے چلتا ہو کیسے سوتا ہوں کس سے بات کرتا ہوں ۔کس کے گھر آتا جاتا ہوں سب میرے مقتدیوں کے علم میں رہتا ہے۔اور میں بے چارہ مصیبت کا مارا امام سب کو خوش کرنے کی کوشش میں ناکام ثابت ہوتا ہوں ۔جبھی تو ایک مسجد سے دوسری مسجد اور ایک شہر سے دوسرے شہر مارا مارا پھرتا ہوں ،میں امام مسجد ہوں ایک مزدور کی یومیہ مزدوری کے نصف پر ہی میں چوبیس گھنٹے کا ملازم ہوں ۔کھانے پینے کی سہولیات کے نام پر پس خوردہ اور متعفن ٹفن باکس سے میرااکثر سامنا ہوتا ہے ۔لیکن میں اس پر رزق حلال کا ٹائٹل لگاکر بڑے آرام سے حلق کے نیچے اتارنے پر مجبور ہوتاہوں ۔کیوں کہ میں پورے گاؤں محلہ اور شہر کی عزت وحرمت کی حفاظت وصیانت کا امام ہوں۔۔ سب کی جلی کٹی سن کر بھی اپنے کام سے کام رکھنے کی کوشش کرنا ہی میرا مقصد ہے۔لیکن میرے مقتدی۔میرے متولی۔میرے خازن میری شرافت نفس کو۔میری خودداری کو ،میری مجبوری پر محمول کرتے ہیں،ان سے بس اتنی گزارش کہ
ستم گر وقت کا تیور بدل جاۓ تو کیا ہوگا
مرا سر اور ترا پتھر بدل جاۓ تو کیا ہوگا
اللہ پاک امت مسلمہ کے تمام افراد کو اپنے امام کی عزت واکرام کرنے والا بنائے آمین یارب العالمین۔

