ابو احمد مہراج گنج۔

اس روۓ زمین کا کوئی بھی خطہ ہو کوئی بھی حصہ ہواور اس حصے پر آباد انسان کا مذہب اور مسلک کچھ بھی ہو،خواہ یہودی ہو ،عیسائی ہو ،بدھسٹ ہو ،ہندو ہو جین ہو پارسی ہو،یا ان سب سے بڑھ کر مذہب اسلام ہی کیوں نہ ہو وہ اپنے ماننے والے کو وہ مذہب اپنے پیروکار کو اپنے والدین کے ساتھ "حسن سلوک” بہترین نگہداشت اور عمدہ معاشرتی معاملات ” کا پابند بناتا ہے ۔

مذہب اسلام تو والدین کے حقوق اور انکی نگہداشت اور ان کے ساتھ برتاؤ کے متعلق بہت واضح الفاظ میں ہدایت دیتا ہے ۔

ہر انسان کو جس طرح اپنے خالق ومالک پروردگار کا شکر ادا کرنا ضروری ہے اسی طرح اپنے والدین کا شکرادا کرنا ہے۔جیسا کہ حکم رب ہے۔ووصینا الانسان بوالدیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان اشکر لی ولوالدیک والی المصیر۔

اس آیت کریمہ کے آخری حصے میں اللّٰہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے کہ اے اس روۓزمین پر موجود انسان میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔یہ وہ تاکید ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کا مقام بہت ہی بلند ہے اتنا بلند کہ رب العزت اپنے ساتھ ہی والدین کا ذکر فرمایا اور دونوں کے لیے ایک ہی لفظ استعمال فرمایا اشکریعنی میرااور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔ہم میں سے کسی کے دل میں بھی یہ سوال پیدا ہوسکتاہے کہ رب کا شکر ہم کیسے اداکریں تو بتادوں کہ اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت سفیان ابن عیینہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ "جس نے پنج وقتہ نمازیں ادا کیں اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔اور جس نے پنج وقتہ نمازوں کے بعد والدین کے لئے دعائیں کی اس نے والدین کا شکر ادا کیا۔

شکر کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا نمبر آتا ہے ۔حسن سلوک کا مطلب ہے کہ رہن سہن میں ان کے ساتھ نہایت درجہ تواضع انکساری اور اکرام و احترام کے ساتھ پیش آئے بے ادبی نہ کرے۔تکبر نہ کرے ہر حال میں ان کی اطاعت کرے، رہن سہن میں ان کے سکون وآرام کا خیال رکھیں ان کی صحت کی دیکھ بھال کریں ۔بیمار ہونے کی صورت میں بہتر علاج معالجہ کی سہولیات میسر کرائیں ۔حضرت حسن بصری رضی اللّٰہ عنہ سے کسی نے دریافت کیا کہ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کس طرح کیا جائے تو انھوں نے فرمایا کہ تو ان پر اپنا مال خرچ کر ،اوروہ تجھے جو حکم دیں اس کی تعمیل کر ہاں گناہ کا حکم دیں تو نہ مان ،حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک میں سے یہ بھی ہے کہ تم ان کے سامنے اپنے کپڑے بھی مت جھاڑو۔کہیں کپڑوں کا غبار اور دھول ان کو لگ نہ جائے ۔

اور بات چیت میں حسن سلوک کا ذکر کرتے ہوئے حق تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا وَلَا تَقُل لَھُمَا اُفٍّ کہ ماں باپ کو اف بھی مت کہو اور نہ ان کو جھڑکو اگر انکی کوئی بات ناگوار گزرے تو بھی ان کو جواب میں "ہوں”تک مت کہو یہ حکم ساری زندگی کے لیے ہے بڑھاپے کی حالت کا ذکر قرآن میں اس لئے کیاگیا کہ والدین کے بڑھاپے کی حالت میں اولاد کی بد تمیزی اور گستاخی کا اندیشہ زیادہ رہتا ہے۔اس لیے والدین کی کسی بھی بات پر اف اور معمولی ناگواری کے اظہار کو بھی ساری زندگی کے لیے منع فرمایا گیا ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ "اگر والدین کی بے ادبی میں”اف”سے کم درجہ ہوتا تو بھی حق جل شانہ اسے بھی حرام فرمادیتے۔تیسری ہدایت جو قرآن مجید میں والدین کے حقوق سے متعلق ہے وہ یہ کہ ہم والدین کے لئے دعائیں مانگتے رہیں اللہ رب العزت نے والدین کے لئے صرف دعا مانگنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ طریقہ دعا اور الفاظ دعا بھی بتلادیا اور فرمایا "وقل رب ارحمھما کما ربیانی صغیرا” حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں ’یعنی جب میں بالکل کمزور و ناتواں تھا انہوں نے میری تربیت میں خون پسینہ ایک کردیا، اپنے خیال کے موافق میرے لیے ہر ایک راحت و خوبی کی فکر کی، ہزارہا آفات و حوادث سے بچانے کی کوشش کرتے رہے، بارہا میری خاطر اپنی جان جوکھوں میں ڈالی، آج ان کی ضعیفی کا وقت آیا ہے، جو کچھ میری قدرت میں ہے ان کی خدمت و تعظیم کرتا ہوں، لیکن پورا حق ادا نہیں کرسکتا، اس لیے تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس بڑھاپے میں اور موت کے بعد ان پر نظرِ رحمت فرما۔ ‘‘

جس کا حاصل یہ ہے کہ والدین کی پوری راحت رسانی تو انسان کے بس کی بات نہیں اپنی مقدور بھر راحت رسانی کی فکر کے ساتھ ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے بھی دعا کرتا رہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ان کی سب مشکلات کو آسان اور تکلیفوں کو دور فرمائے یہ آخری حکم ایسا وسیع اور عام ہے کہ والدین کی وفات کے بعد بھی جاری ہے جس کے ذریعہ وہ ہمیشہ والدین کی خدمت کرسکتا ہے۔

ان آیات واحادیث کی روشنی میں ہم مسلمانوں کو خاص طور پر ہم نوجوانوں کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنے کی ضرورت ہےکہ ہمارا رویہ والدین کے ساتھ کیسا ہے۔والدین کے ساتھ ہمارا برتاؤ مذہب اسلام کے ذریعے دیئے گئے احکامات کی کس قدر تعمیل کرتاہے ۔اللہ پاک ہم سب کو والدین کی خدمت اور ان کے حقوق بجالانے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے