۲۲؍ اپریل یوم وفات پر خصوصی مضمون

ڈاکٹر سراج الدین ندوی
مدیر ماہنامہ اچھا ساتھی بجنور،یوپی

طائر اجل نے کل نفس ذائقۃ الموت کے تحت اک روز اس عظیم ہستی کو بھی اپنے پنجے میں جکڑ لیا جو انس و محبت کا پیکر تھا اور جسے لوگ انیس احمد اصلاحی کہہ کر پکارتے تھے۔ جو اپنی شاعری اور حسن کلام کے ذریعے لوگوں کو رموز حیات سکھاتا رہا۔ یہ سوچ کر دل تھمنے لگتا ہے کہ خاموش طبع فنکار ہم شناسانِ ادب کو سوگوار کرگیا اور دنیائے علم و ادب کو سنسان کر گیا ۔ مولانا انیس احمد اصلاحی صاحب رحمہ اللہ سرائے میر اعظم گڑھ کے رہنے والے تھے۔موصوف1948کو پیدا ہوئے اور22اپریل 2021کوانتقال کرگئے۔ان کے انتقال کی خبر میرے لیے بہت تکلیف دہ تھی۔وہ ہمارے گاؤں سرکڑہ کے مدرسہ احیاء العلوم میں ڈیڑھ سال مدرس رہے تھے۔اس دوران میں بھی وہاں تدریس و نظامت کے فرائض انجام دے رہا تھا۔
مولانا انیس احمد اصلاحی کا خاندان اہل علم پرمشتمل تھا ۔مولانا کے پردادا حاجی باب اللہ (المتوفی1943)اپنے زمانے کے متبحر عالم دین تھے ۔حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کے مرید خاص تھے ۔حضرت جب بھی وہاں تشریف لاتے توحاجی باب اللہ صاحب کے یہاں ہفتوں قیام کرتے ۔ایک مرتبہ حاجی باب اللہ صاحب نے مولانا کا وعظ کرایا تو 20ہزار لوگ شریک ہوئے ۔حضرت تھانوی نے اس کا ذکر اپنی تحریر میں کیا ہے اور اس وعظ کا نام باب اللہ صاحب پر ’باب اللباب‘ رکھا ہے ۔اس زمانے کے علماء،شعراء اور ادباء باب اللہ صاحب کے یہاں قیام کرتے۔ علمی و ادبی محفلیں منعقد ہوتیں۔انیس صاحب کے خاندان کا ہر فرد تعلیم یافتہ تھا۔ان کے چچا بھی حافظ اور عالم تھے ،ان کی پھوپھیاں بہشتی زیور اور قصص الانبیاء اس کثرت سے مطالعہ کرتیں کہ دونوں کتابیں انھیں از بر ہوگئی تھیں۔مولانا کے والد محمد امین صاحب بھی حافظ تھے۔ برائے معاش وہ ملایا چلے گئے تھے لیکن بعد میں سرائے میر واپس آگئے ۔مولانا کی والدہ مفید النساء پھول پور کے علمی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔
مولانا انیس احمد اصلاحی صاحب نے مدرسۃ الاصلاح سرائے میر سے1970میں فراغت کی ،اس کے ساتھ ہی انھوں نے 1969میں الٰہ آباد بورڈ سے عالمیت کا امتحان پاس کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگلش میں ہائی اسکول کیا۔ اسی سال مولانا کی شادی ہوگئی۔مکمل اصلاحی ہونے کے بعد مولانا نے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا۔دارالعلوم دیوبندسے دورہ حدیث کیا۔اس کے بعد 1980 میں مدرسۃ الاصلاح میں تدریسی فرائض انجام دینے لگے۔ مولانا کی علمی تشنگی ابھی باقی تھی جس کو بجھانے کے لیے انھوں نے 1985 میں جامعۃ السعود مدینہ کا رخ کیا۔یہاں سے تدریب المعلمین کا کورس ’’ اللغۃ العربیہ للناطقین بہا‘‘ کیا۔ وہیں پر مزید دوسال رہ کر 1987میں ڈپلوما ان ٹیچنگ کیا۔اس کے بعد پھر مدرسۃ الاصلاح میں معلمی کے فرائض انجام دیے ۔مولاناتادم آخر مدرسہ کی خدمت کرتے رہے ۔2006 سے 2012 تک صدرمدرس بھی رہے ۔
مرحوم انیس احمد اصلاحی اپنی ذات میں ایک انجمن تھے،وہ انتہائی باکمال شخص تھے،انھیں جہاں اپنی درسی کتابوں پر عبور حاصل تھا وہیں اردو زبان و ادب کے حوالے سے نثر و نظم اور تنقید میں بھی ان کا مطالعہ بے مثال تھا۔وہ زود گو اور برجستہ شاعر تھے۔ان کی غزلوں میں فنی اور ادبی کمالات بدرجہ اتم موجود تھے۔ڈیڑھ سال قیام کے دوران میں نے ان کے علمی و ادبی کمالات کا مشاہدہ کیا ہے۔
ایک مرتبہ سیوہارہ میں مشاعرہ تھا۔بشیر بدر نظامت کررہے تھے۔میں اور انیس صاحب بطور سامع وہاں پہنچے۔بشیر بدر کی نظر مولانا پر پڑگئی۔انھوں نے فوراً انھیں اسٹیج پر بلایا اور تعجب سے پوچھا ’’مولانا آپ اور یہاں؟‘‘مولانا نے بتایا میں یہاں کے ایک مدرسہ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہاہوں۔پھر بشیر بدرؔنے ان کا نام شعرا ء کی فہرست میں شامل کرلیا۔ان کا نام اتنا بلند تھا کہ بشیر بدر ؔنے منتظمین سے معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی۔انیس صاحب سے بشیر بدر نے پوچھا کیا سراج صاحب بھی شاعر ہیں؟انیس صاحب نے ہاں میں جواب دے دیا۔بدر ؔصاحب نے مجھے بھی اسٹیج پر بلالیا اور غزل بھی پڑھوائی۔حالانکہ میں باقاعدہ شاعری نہیں کرتا تھا۔بس دوچار غزلیں کہہ لی تھیں۔
مولانا انیس احمد اصلاحی کا مطالعہ بہت متنوع اور وسیع تھا۔وہ ہر عنوان پر بیش بہا معلومات رکھتے تھے۔اپنی اسی خوبی کی وجہ سے وہ ہر انجمن میں شمع محفل بن جاتے تھے،بات دین کی ہو تو وہ مستند عالم دین تھے،بات ادب کی ہو تو وہ شاعر،نقاد اور تجزیہ نگار تھے۔ایک بار میں نے غالب کی خطوط نویسی پر ایک مضمون لکھا اور انھیں دکھایا۔انھوں نے ایک نظر ڈالی اور ایک طرف رکھ دیا۔اس کے بعد کاغذ ،قلم نکالا اور لکھنا شروع کردیا۔تھوڑی دیر میں ہی انھوں نے مضمون میرے حوالے کردیا۔میں نے پڑھا تو میں ان کی علمی صلاحیت کا معترف تو پہلے ہی تھا اب مرید ہوگیا۔
مولانا بلا کے ذہین تھے اور زبردست قوت حافظہ رکھتے تھے۔ایک بار ایک مشاعرے میں گئے۔وہاں سے واپسی پر صبح کو کئی شاعروں کی پوری پوری غزلیں صفحہ ء قرطاس پر منتقل کردیں۔میں صرف مفھوم بتاتا اور وہ من و عن شعر قلم بند کردیتے تھے۔ملک کے مشہور شعرا ء سے ان کے اچھے مراسم تھے۔ایک مرتبہ میں ان کے ساتھ ان کے وطن گیا۔انھوں نے وہاں مجھے اختر مسلمی،ناطق اعظمی اور کوثر اعظمی سے ملوایا۔وہیں سے ہم ماہول کے مشاعرے میں گئے جہاں ان شعرا کو خوب سننے کلا موقع ملا۔انیس صاحب کی وساطت سے میں نے بھی اپنا کلام سنایا۔یہ سفر علمی و ادبی اعتبار سے بہت فائدے مند رہا۔اس سفر میں مولانا انیس صاحب کی قدر و منزلت دیکھنے کو ملی۔
مولانا کی ایک خوبی ان کی سخاوت و فیاضی تھی ،میں نے دیکھا کہ وہ اپنے مشاہرے کا زیادہ تر حصہ اپنے شاگردوں کی ضرورتوں پر اوراپنے احباب کی ضیافت پر خرچ کردیتے تھے۔ وہ دل کے غنی تھے ۔ انیس صاحب مال و زر کی طرف سے بے نیاز انسان تھے ۔ان کو دوسروں پر خرچ کرکے خوشی حاصل ہوتی تھی ،یہ صفت انھیں لوگوں میں پائی جاتی ہے جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ دنیا میں جو خرچ کریں گے اس کا بدلہ اللہ کے یہاں کئی گنا بڑھ کر مل جائے گا۔
برجستہ شاعری میں بھی ان کو کمال حاصل تھا۔وہ مشاعروں کی نظامت کرتے وقت شعرا کو اشعار کے ذریعے بلاتے تھے۔آج کل تو ناظم مشاعرہ خود اسی شاعر کا شعر پڑھ دیتا ہے جسے بلاتا ہے یا کسی اچھے شاعر کا شعر سنادیتا ہے۔لیکن انیس صاحب ان دونوں روایتوں سے ہٹ کر خود شعر کہتے تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک مشاعرے میں انھوں نے مجھے مدعو کرتے وقت یہ شعر پڑھاتھا:

جگمگاتی ہے فضا نور سراج الدین سے
یہ تمہارا گاؤں بھی کتنا عظیم الشان ہے

اس شعر میں صرف یہی کمال نہیں ہے کہ میرا نام آگیا ہے بلکہ میرے نام کا جو انھوں نے بامقصد استعمال کیا ہے اس نے شعر کو ذو معنی بنادیا ہے۔نظامت کے دوران وہ جو زبان استعمال کرتے اسے سننے کو دل چاہتا اور خواہش ہوتی کہ شاعر ی کے بجائے انیس صاحب کی گفتگو سنتے جائیں وہ جو احمد فراز نے کہا ہے کہ:

سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں

یہ شعر انیس صاحب پر صادق آتا ہے۔ان کی گفتگو پر مغز بھی ہوتی،اس میں چاشنی بھی ہوتی،اس میں مزاح بھی ہوتا اورمقصدیت بھی۔وہ شاعر کا مکمل تعارف اس انداز سے کراتے کہ اس کا سراپا اور خاکہ الفاظ میں کھینچ دیتے۔بڑے بڑے شعرا،انشاء پرداز اور ناقدین ان کا منھ تکتے رہ جاتے۔
انیس صاحب میں ایک خوبی یہ تھی کہ علم و فضل اور کمالات کے بلند مرتبے پر فائز ہونے اور معاشی اعتبار سے متمول ہونے کے باوجود دنیا سے بہت بے نیاز تھے۔وہ اپنے فضل وکمال سے نا آشنا محسوس ہوتے تھے،ان میں کوئی تصنع نہیں تھا،سادگی پسند تھے،لباس بھی سادہ،طرز بودوباش اور خوردو نوش بھی سادہ تھا۔وہ ہر قسم کے لالچ، حرص وطمع سے کوسوں دورتھے۔کبھی دوسروں کی عیب جوئی نہیں کرتے، کسی محفل میں غیبت ہوتی تو موضوع ہی بدل دیتے، وہ کسی دنیا پرست سے مرعوب نہیں ہوتے تھے۔ البتہ علم کے گوہر آب دار جہاں ملتے وہیں غوطہ زن ہوجاتے۔وہ ایک مرد مومن تھے۔ وہ صالح تنقید کرتے تھے۔لیکن کسی کے پیٹھ پیچھے اس کی برائی نہیں کرتے تھے۔ان کو دیکھ کر شان قلندری کا مفھوم سمجھ میں آتا تھا۔
انھوں نے شاعری بھی کی،مضامین بھی لکھے اور تقریریں بھی کیں۔ان کی تقریر اور نثر بھی شاعری کی طرح خوب صورت تھی،یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ ان کی شاعری اچھی تھی یا گفتگو۔وہ حاضر جواب بھی تھے،جواب جچا تلا دیتے،خشک موضوع کو بھی پر لطف بنا دیتے۔ادبی لطیفوں سے محفل کو قہقہہ بار بنا دیتے۔ان کے پسماندگان میں صرف دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہی نہیں ہیں بلکہ ان کے شاگردوں کی بڑی تعداد ہے ۔اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ انیس احمد اصلاحی صاحب کو ہمیشہ زندہ رکھیں۔ان کی شاعری اور مضامین کو یکجا کرکے شائع کریں۔یہ ہر استاذ کا شاگردوں پر حق ہوتاہے۔اس لیے کہ شاگرد ہی علمی وارث ہوتے ہیں۔ نسبی وارث تو مال تقسیم کرتے ہیں لیکن علمی وارث اپنے اساتذہ کے علم و فضل کو دنیا کے سامنے لاتے ہیں۔اس سے جہاں استاذ کے مقام و مرتبے میں اضافہ ہوتا ہے۔وہیں شاگردوں کو بھی فخر ہوتا ہے کہ وہ ایسے باکمال استاذ کے شاگرد ہیں۔ ان کے اصلاحی دوستوں،ادبی ساتھیوں اور ان سے فیض اٹھانے والے علمی وارثوں کومیرا یہ پیغام ہے کہ وہ ان کے کارناموں سے دنیا کو واقف کرائیں۔
وہ اچھی جگہ چلے گئے۔وہ دنیا کو بہت کچھ دے گئے۔ جیتے جی ان کے علم کے مطابق ان کومقام نہ مل سکا جس کے وہ مستحق تھے۔اللہ سے دعا ہے کہ وہ انھیں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔جنت میں ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی سیئات کو حسنات میں تبدیل فرمائے۔ آمین۔

اے اجل آ تجھ سے ہی ہستی کا یارانہ کریں
پر شراب مرگ سے رگ رگ کا پیمانہ کریں
انیس احمد اصلاحی
٭٭

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے