محمدیوسف رحیم بیدری

۱۔ دوادارو
پروفیسر فیضان حسن لیکچردے رہے تھے، جس میں ادب سے متعلق بات ہورہی تھی ۔ انھوں نے کہاکہ ’’حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اپنی صحت سے متعلق ڈاکٹر ، ویداور طبیب سے باربار دوائی کرانے والا انسان ، جب ادیب بنتاہے تو اپنی تحریروں کی صحت کے لئے کچھ نہیں کرتا، دواداروکانہیں سوچتا۔کسی سے نہیںملتا، مباحثہ نہیں کرتا۔اپنی تحریروں کوکم تریااغلاط والی تحریریں سمجھنا چھوڑ دیاہے۔ ہے نا افسوس کی بات؟‘‘
طلبہ وطالبات فیضان حسن کامنہ دیکھ رہے تھے۔ دراصل طلبہ وطالبات کو ادیب اور شاعر نہیں بنناتھا۔ وہ تو دنیاداری کے جھمیلوں کوحل کرنے کے لئے پیسہ کمانے کے مختلف میدانوں میں جاناچاہتے تھے۔ رابعہ اور رقیہ توکالج کے بعدشام کو باضابطہ ڈانس کلاسیس بھی اٹنڈ کررہی تھیں تاکہ ناچ گانے کی ریلس بناکر دولت کمائی جاسکے۔
۲۔زائد تمنا 
وہ موت سے سخت نفرت کرتاہے ۔ اسلئے روزانہ ہونے والی اموات شیئر کرتے ہوئے لوگوں کو ڈرانے سے باز نہیں آتا۔ بلکہ ایساکرتے ہوئے وہ لوگوں کے خوف سے لطف لیتاہے اور ساتھ ہی موت پر لعنت بھیجتاہے۔ ماہرین موت وحیات کاکہناہے کہ دنیا میں رہنے کی زائد تمنا موت پر لعنت بھجوانے کاکام کرتی ہے۔
۳۔ فوری ضرورت 
ہم اس سے ملے تھے۔ لیکن وہ کہیں اور تھا۔ کافی دیرتک بات چیت کے باوجود بھی وہ واپس نہیں آیاتو ہم نے اس کے مکان کی سیڑھیوں سے اُتر جاناضروری سمجھا
۴۔ گڑھے والے 
بچے گڑھے میں گرنے تیارتھے۔ والدین نے خود کو بے وقوف سمجھااور اپناسرجھکالیاکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
۵۔ کوئی جواب نہیں 
دن کاشور شرابہ اور رات کے گناہ سبھی کچھ جاری وساری ہیں۔ بمباری تو نہیں ہورہی ہے لیکن سوشیل میڈیا پر ایک طبقہ دوسرے طبقہ کو ذلیل کررہاہے اور قتل بھی کررہا
ہے۔ پولیس کاانتباہی اعلان جاری وساری ہے۔ایک دن پوچھ لیاکہ کتنے گرفتار ہوئے ؟
جواباً پوچھا گیاکہ کس کی گرفتاری ؟ کیاتم نے اس ملک کوجمہوری ملک سمجھا ہے ؟ وہ کوئی جواب نہ دے سکا۔
۶۔تین فرار 
تینوں نے مل کر چوتھے بھائی کو مارڈالا ۔ فاتحہ پڑھی ، سوئم ، دہم ، چہلم اور برسی تک سبھی کچھ ٹھیک رہا۔ لیکن جب تینوں نے اختلافات شروع ہوئے تب پولیس کو پتہ چلاکہ تینوں نے مل کر چوتھے بھائی کوماراتھا۔تینوں فرار ہیں اور تینوں کی تلاش میں پولیس لگی ہوئی ہے۔
۷ ۔ لازمی تائید 
ہر قسم کے عنوان پرکی گئی اس کی تقریر میں اللہ اور پیسہ ضرور آتے ہیں۔ پھر وہ خود کو پرہیزگار ثابت کرنے کے لئے تقریر سننے والے افراد کے گھر اور کاروبار پر پہنچ جاتاہے ۔اس قدر اپنی اور اپنی تقریر کی تعریف کرتاہے کہ لوگ اس کی تائید کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے