از: مفتی عبیدالرحمن قاسمی ظہیرآبادی

استاذ حدیث جامعہ حنفیہ للبنات ظہیرآباد
اسلام ایک جامع اور آفاقی مذہب ہے، اسلام نے روزاول ہی سے خدمت خلق خدا‌ کی تعلیم‌ دی ہے، اور خداکے بندوں کے ساتھ ہمدردی وغمخواری کاسبق پڑھایا ہے،  اور فلاحی وسماجی کاموں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے، قرآن کریم کے اندر کہیں لن‌تنالوا البر حتی تنفقوا مماتحبون (ترجمہ: تم ہرگز نیکی حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی محبوب چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو) کے ذریعہ راہ خدا میں خرچ کرنے کو نیکی کا معیار بتایا ہے توکہیں حدیث رسولﷺ  الخلق عیال اللہ (ترجمہ: مخلوق ساری کی ساری اللہ کا کنبہ ) کےذریعہ سے خدا کے بندوں کی ہر طرح سے خدمت کی پذیرائی کی ہے، اور اس بات سے بھی بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلام میں حقوق اللہ کے بعد دوسرا درجہ حقوق العباد کا رکھاگیاہے، انفاق فی سبیل اللہ خلق خدا کی خدمت اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنےکی ایک اہم ترین شکل وقف ہے۔
وقف ایک عربی زبان کا لفظ ہے، اصطلاح شریعت میں وقف کہتے ہیں کسی بھی جائیداد کو اپنی ملک سے خارج کرکے محض اللہ کی رضا وخوشنودی کی خاطر لوگوں کی نفع کی غرض سے خاص کردینا ، یعنی خالص اللہ کے لئے اپنی ملکیت سے نکال کر وقف کردینا تاکہ خدا کے بندوں کو اس سے نفع ہو اور وہ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
اور اسی طرح اسلام میں ہرقابل انتفاع چیز جس میں دوام کی صفت پائ جاتی ہواسے وقف کیا جاسکتا ہے، چاہے وہ زمین جائیدا کی شکل میں ہو ، چاہے عمارت گھر یا دکان کی شکل میں ہو، یا سواری اور دیگر سامان کی شکل میں ہو۔
اوقافی املاک کے بارے میں فقہائے اکرام کا واضح مسلک یہ کہ وقف کرنے سے موقوفہ چیز واقف کی ملکیت سے نکل کر حکما اللہ کی ملکیت میں داخل ہو جاتی ہے واقف کو اس میں کسی قسم کے تصرف کا اختیار نہیں رہتا ، نہ وہ اس سے رجوع کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے بیچ سکتا ہے نہ ہی ہبہ کرسکتاہے اسی طرح واقف کے انتقال کے بعد اس میں میراث بھی جاری نہیں ہوگی۔ (اسلام کا نظام اوقاف)
وقف کو افضل صدقہ کہا گیا ہے ، وقف ایک صدقہ جاریہ ہے ، وقف ایک دائمی صدقہ ہوتاہے ، وقف کے فضیلت اس طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ خود نبی اکرم ﷺ نے مسجد قباء کی زمین ، مسجد نبوی کی زمین اور پھر سات باغ راہ خدا میں وقف کئے اور پھر صحابہ کو بھی اس کی ترغیب و ہدایت دی ؛ جس کے نتیجے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے خیبر کی زمین کو وقف کیا ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بئر روماء(میٹھے پانی کا کنواں ) راہ خدا میں وقف کیا ، اور حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اپنا پسندیدہ باغ بئر حاء کو وقف کیا ، اسی طرح صحابہ وتابعین میں سے ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہوں نے کچھ نہ کچھ فی سبیل اللہ وقف کیا ہے اس کے بعد خلافت بنو امیہ اور خصوصا خلافت بنو عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کے دور میں دنیا بھر میں مختلف علاقوں میں لوگ اس کار خیر یعنی وقف میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور اپنی اپنی زمین و جائیداد کو اللہ کی راہ میں وقف کرکے مسجدیں ، خانقاہیں ، عیدگاہیں ، درگاہیں ، تعلیم گاہیں ، قبرستانیں ، مسافر خانے ، شفاخانے ، بنواتے رہے اور مسلم معاشرہ کی فلاح وبہبود کے لئے سرگرم‌عمل رہے  الغرض یہ صدقہ جاریہ کی بہترین شکل ہے اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے کا ایک دوامی طریقہ ہے؛جو وقف کرنے والوں کے لئے تسلسل کے ساتھ ذخیرہ آخرت بنتا رہتاہے اور اس سے انسان کے مال وعزت میں اضافہ ہوتارہتاہے۔
اسی طرح ہمارے ملک ہندوستان میں بھی مسلم سلاطین اور مسلم حکمرانوں نے ، ملت کا درد رکھنے والےاہل ثروت واہل خیر حضرات نے مساجدو مدارس ، خانقاہ وعیدگاہ ، درگاہ وقبرستان وغیرہ کے لئے بڑی تعداد میں اپنی زمینوں کو راہ خدا میں وقف کیا تھا پھر ہمارے اس ملک ہندوستان میں ایک وقت ایسا بھی آیا جس میں انگریزوں کا ناپاک سایہ پڑا اور وہ یہاں کے سیاہ سفید کے مالک بن بیٹھے اور جس طرح انہوں نے یہاں سے اسلامی حکومت اور اس کے خزانے کو لوٹا اسی طرح اوقاف کی املاک بھی انکی لوٹ کھسوٹ سے محفوظ نہ رہے، اس موقع پر بھی قوم وملت کا درد رکھنے والے مسلمانوں نے صدائے احتجاج بلند کیا اور اوقاف کی باقی زمینوں کو بچانے میں کامیاب ہوگئے ، اس کے بعد 1937ءمیں شریعت اپلیکیشن ایکٹ منظور کیا گیا جس میں آٹھ موضوعات کو داخل کیا گیا نکاح طلاق ،خلع فسخ،ہبہ وصیت ، وراثت اور وقف جن کا خلاصہ یہ تھا کہ ان معاملات میں مسلمان شریعت اسلامیہ کے مطابق ہی عمل کریں کریں گے، جب ملک میں آزادی کی فضاء ہموار ہوئ تو پھر اوقافی املاک کی حفاظت کا مسئلہ درپیش ہوا اس وقت حکومت ہند نے 1954ء  میں سب سےپہلے مسلم وقف ایکٹ کے نام‌سے ایک قانون بنایا ؛ لیکن یہ قانون تحفظ اوقاف کے سلسلے میں کوئ مظبوط قانون نہیں تھا اس لئے اس میں ترمیمات واصلاحات ہوتی رہی چنانچہ 1959ءاور پھر 1964-1969ء کی تبدیلیاں بھی  اوقاف کے درست انتظام وانصرام کے تئیں ہوتی رہی پھر بھی بعض پہلوؤں سے یہ قانون قابل غور تھا اس لئے دوبارہ علماء کرام‌مسلم وکلاء وسیاست دانوں کی فکروں اور کوششوں سے 1995ء کو کافی حد تک غور وخوض کرنے کے بعد ایک نیا قانون نیا مسلم وقف ایکٹ منظور ہوا پھر اس میں بھی 2010اور 2013ء میں اصلاحات وترمیمات کی گئ اس کے بعد‌ حالیہ موجودہ حکومت نے اپنی طاقت واقتدار اور تعداد کی کثرت  کی بنیاد پر وقف ترمیمی بل 2025ء کو پیش کرکے جو ہندوستانی مسلمانوں کے امن وامان کوغارت کیا ہے یہ سراسر ظلم وجبر ناانصافی اور تاناشاہی کی عملی تصویر پیش کرتاہے اسلئے کہ یہ بل ہرطرح سے شریعت کے خلاف ہے دستور ہند کے خلاف ہے اوقاف کے اصول وضوابط کے خلاف ہے جمہوریت کے خلاف ہے ہر سیکولر پسند شخص کے خلاف ہے اور ہندوستان کی سب سے بڑی اقلیت کی جانب چھوڑا گیا ایک زہریلا تیر ہے  اس بل کی ہر شق قابل اعتراض اور ظلم وناانصافی کی علامت ہے اگر اس کی بعض پہلؤوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہوجائے گا اگر اوقاف کی املاک وقف کرنے والے کی جانب سے باضابطہ اندراج اور رجسٹرڈ نہیں ہیں بلکہ ایک زمانے سے وہ مساجد مدارس عیدگاہ درگاہ وغیرہ کی شکل میں موجود ہیں ان کو وقف نہیں مانا جائیگا یہ ایک ایسا سنگین قانون ہے کہ اس کے ذریعہ حکومت بآسانی مساجد مدارس عیدگاہ اور قبرستان وغیرہ پر حملہ کرنا چاہتی ہے ، اور ایسے ہی وقف ترمیمی بل کی ایک شق میں ہے کہ  اوقاف کی جائیداوں کے استعمال کاتعیین خود حکومت کرے گی حالانکہ شریعت کہتی ہے کہ واقف کی منشاء اور اس کے مقصد کے مطابق اس وقف کردہ زمین کو استمعال کرنا ضروری ہے ، سنٹرل وقف بورڈ ہویاریاستی وقف بورڈ ہو اسکے ارکان غیر مسلم بھی ہوسکتے ہیں حتی کہ  دو غیر مسلم ارکان کا ہونا لازمی قرار دیاگیا حالانکہ دیگر مذاھب کی اس طرح کی زمینوں کے ممبر کوئ غیر مذہب کا آدمی نہیں بن سکتا توپھر سوال ہے کہ مسلمانوں کی وقف کا ممبر غیر مسلم کیسے بن سکتا ہے، الغرض مختصراً یہ کہ ایسے ہی وقف علی الاولاد سے روکا گیا ، لمیٹیشن ایکٹ کو اس قانون‌سے ہٹادیاگیا، نو مسلم‌کو اسلام قبول کرنے بعد بھی مذہبی آزادی کو چھین کر وقف کرنے سے روکا گیا ، ایسے ہی غیر مسلموں کی جانب سے دی گئ زمینوں کو وقف ماننے سے انکار کردیا گیا، ایسے سنگین بل ہیں جو ہر طرح سے دستور ہند کی دفعہ14 (مساوات کاحق) ، دفعہ 25 (مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کاحق) ، دفعہ 26 (مذہبی امور کو منظم کرنے کی آزادی) ، دفعہ 29 (اقلیتی حقوق) کی علی الاعلان خلاف ورزی کرتاہے اور شریعت اسلامیہ اور مسلم پرسنل لا کے بھی مخالف ہے اور شریعت اسلامیہ کے اند‌ر مداخلت ہے اور انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمان ہر چیز پر سمجھوتہ کرسکتاہے لیکن اپنے دین وشریعت پر سمجھوتہ ہرگزنہیں  کرسکتا اس سیاہ قانون کو روکنے میں ہمارے ہندوستان کے ہر مسلک ومشرب سے وابستہ اکابر علمائے کرام کی مظبوط ومنظم  تنظیم مسلم پرسنل لا بورڈ کی طرف سے جو بھی اقدام آئے اس کو دل وجان سے قبول کرکے دستور میں دئے گئے حق کے مطابق اپنی صدائے احتجاج بلند کریں گے اور بحیثیت مسلمان ہمارے لئے باطنی تدابیر بھی ضروری ہیں اسلئے اولین فرصت میں ضروری ہے کہ رجوع الی اللہ وانابت الی اللہ ہوں  اور اپنے اقوال واعمال کی اصلاح کریں اللہ رب العزت کی مدد ونصرت کو طلب کریں تب یہ ہماری ظاہری تدابیر میں جان پیدا ہوگی اور اپنی کوشش میں کامیاب ہوں گے اور ہماری اوقاف کی زمینوں کا تحفظ ممکن اگر ہم‌ اب بھی بیدار نہیں ہوں گےتو ہماری یہ مساجد مدارس خانقاہیں عیدگاہیں قبرستان اور اوقاف کی زمینیں ”جو ملک کے تیسرے سب سے بڑے زمین کے مالک ، چھ لاکھ ایکڑ پر محیط اوقاف کی جائیدادیں ” ہماری نگاہوں کے سامنے ہم سے چھین لئے جائیں گے  اور کف افسوس ملنے سے کوئ فائدہ نہیں ہوگا علامہ اقبال نے کہا ہے
وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھَرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں
یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر
زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں
نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے