شیگاؤں ضلع بلڈانہ (ذوالقرنین احمد): مؤرخہ ۲۳؍ اپریل ۲۰۲۵ بروز بدھ بمقا م مسجد ابوبکر زم زم نگر شیگاؤں ضلع بلڈانہ مہاراشٹر میں بعد نمازِ مغرب تحفظ اوقاف کانفرنس کے عنوان سےمولانا محمود بیگ صاحب اشرفی کنونیر علاقہ برار آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈکی صدارت میں ایک اہم کانفرنس رکھی گئی تھی جس کی ابتدا ء تلاوت کلام پاک سے کی گئی اسکے بعد ایک نعت پڑھی گئی اس کانفرنس کی ابتداء مولانا عرفان صاحب سنگرام پور آرگنائزر علاقہ براراصلاحِ معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کی تمہیدی بات سے ہوئی ، مولانانے اس کانفرنس کے عزائم اور لائحہ عمل پر روشنی ڈالی ، انکے بعد اوقاف کے عنوان پر بات کرنے کے لئے ڈاکٹر انصار صاحب (جماعتِ اسلامی )شیگاؤں نے امید کے عنوان پر روشنی ڈالتے ہوئے کافی اہم باتوں اور اس قانون کو لےکر حکومت کی نیت کو واشگاف کیا، اس کے بعد وقف قانون کے بارے میں روشنی ڈالنے کے لئے ایڈوکیٹ آفاق صاحب شیگاؤں کو دعوت دی گئی ایڈوکیٹ صاحب نے وقف قانون کی باریکیوں اور اس سے ہونے والے مضر اثرات کو بیان کیا اور اپنے عبادت گاہوں اور اوقاف کے کاغذات کو درست کرنے پر زور دیا ان کےبعد ایڈوکیٹ ذکاء اللہ صاحب(زیڈ۔ بی شیخ )کھام گاؤں نے وقف قانون کے عنوان سے متعلق کافی اہم اور ضروری معلومات فراہم کی، اور اس بات کا عزم دلایا کہ اگر ہم وقف قانون کے خلاف ہماری قانونی و احتجاجی لڑائی لڑتے رہیں گے تو اللہ کی ذات سے امید ہے کہ بل ضرور واپس لیا جائے گا ، ان کے بعد نوجوان عالمِ دین ، قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انیس الدین صاحب اشرفی پاتورڈوی کنوینراصلاحِ معاشرہ کمیٹی ضلع بلڈانہ آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے بورڈ کی جانب سے جاری گائیڈلائن کے مطابق احتجاج کو یقینی بنانے پر زوردیا ،اور کہا کہ وقف قانون میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں یہ آئین کی دفعات آرٹیکل 14،30،29،26،25کے متصادم ہیں اور وقف یہ خالص دینی اور مذہبی معاملہ ہے اس لحاظ سے یہ دین میں مداخلت اور دستور پر بڑا حملہ ہےجس میں حکومت کی نیت درست نہیں ہےحکومت کو یہ قانون واپس لینا چاہئے ، بعد ہ علاقہ برار کے معروف عالمِ دین مولانا سید سلیم صاحب ندوی مہتمم دارالعلوم دھارنی نے قرآن وحدیث کی روشنی میں اس معاملہ کو حل کرنےکی پیشکش کی اور حوصلہ مندباتیں کانفرنس میں بیان کی ، ان کے بعد صدارتی خطاب کے لئے مولانا محمود بیگ صاحب اشرفی کنونیر علاقہ برار اصلاحِ معاشرہ کمیٹی آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ نے اس احتجاج میں ہر ممکن کوشش کرنے پرزور دیا اور بہت ہی درد بھرے انداز میں 30 اپریل کو بتی گُل تحریک میں حصہ لینے کے لئے توجہ دلائی، برادران ِ وطن کو اس احتجاج سے جوڑنے کی اہمیت اور ضرورت بتلائی،اس اجلاس کی نظامت مولانا مفتی صبغۃ اللہ خان ندویؔ کنجیرہ نے کی اخیر میں مولانا سید افسر صاحب اشرفی ؔ مہتمم مدرسہ ضیاء العلوم پاتورڈا کی دعا پر اس کانفرنس کا اختتام ہوا اور اس پروگرام میں بریلوی مسلک سے مولانا سہیل عطاری صاحب ، مولانا نعمت اللہ صاحب حسینیؔ، مولانا رحمت اللہ خان صاحب اشاعتی،مفتی انضما م حسین صاحب اشرفی ؔ، مفتی سید فیضان شیگاؤں معاون قاضی شریعت بلڈانہ ، مولانا عبد الرشید صاحب ندوی،مولانا نعیم الرحمن صاحب مظاہری،حاجی احمد صاحب فروٹ مرچنٹ شیگاؤں ،مولانا عبد المتین صاحب اشاعتی،حافظ ارشاد صاحب اشاعتی،حافظ عثمان صاحب اشاعتی،مولانا حبیب خانصاحب اشرفی،مولانا بشیر صاحب،و دیگر دانشوران قوم ملت وغیرہ بھی شریک تھے۔

