محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک
۱۔مطالبات
ماں نے روتے ہوئے کہا’’ہاں ،میرے بیٹے نے اس دہشت گردانہ حملے میں اپنی جان گنوائی ہے لیکن کوئی اس کی قربانی کو قربانی سمجھنے تیارنہیں ہے ، کیوں کہ میرابیٹامسلمان ہے ‘‘
بہت سے لوگ جمع تھے۔ لاش سامنے رکھی ہوئی تھی۔ ماں روتی اور شکویٰ کرتی رہی۔ وقفے وقفے سے کہتی تھی’’تمہاری طاقتور سیکورٹی ایجنسیوں نے دہشت گردوں کو میرے بچے کی جان لینے کاموقع طشتری میں رکھ کر پیش کیا۔ان خفیہ ایجنسیوں کو سزادوجو اپنا کام صحیح ڈھنگ سے نہ کرتے ہوئے 28معصوم سیاحوں کے قتل کاباعث بنی ہیں جن میں ایک میرابیٹابھی ہے جومقامی ہے‘‘جس وقت ضلع انتظامیہ کانمائندہ ان کے پاس ملنے آیاتو ماں نے اس کابازو پکڑ کر پوچھ لیا’’جناب والا ، ہمارے دشمنوں کے ہاتھوں بک چکی یاغفلت کی نیند سورہی خفیہ ایجنسیوں اور اس سوچے سمجھے منصوبہ میں شامل ڈراؤنے چہروں کو سزاد یں گے نا؟‘‘ افسر نے کہا’’ضرور سزاد یں گے ، آئندہ وادی میں کوئی حملہ نہیں ہوگا، ہم سیکورٹی میں اضافہ کردیں گے‘‘
گھوڑے والے عادل شہید کی ماں روتی رہی ۔ شہید کے بیوی بچے روتے رہے اورپھر شہید سپرد خاک کردیاگیا۔ اگر دہشت گرد نام پوچھ کرگولی ماررہے تھے تو عادل کوخاموش تماشائی بنارہنا چاہیے تھا لیکن اس نے دہشت گردوں کے خلاف مزاحمت کی اور ماراگیا۔ اس کے باوجود اس کو حاصل کچھ نہیں ہوا۔وہ ایسا شہیدتھاجس پر داغ دھبہ تھاتو صرف یہ تھاکہ وہ ایک مسلمان ہے اور دہشت گردانہ حملہ اس کے اپنے علاقے میں ہواہے۔ اور حملہ کرنے والے مسلمان تھے اور پڑوسی ملک سے تعلق رکھتے تھے۔ اس نے اپنی حیات میں جن لوگوں کو بچانے کی کوشش کی تھی ماناکہ وہ مسلمان نہیں تھے لیکن پھر بھی چینلوں پر ہندومسلم وِواد پیداکیاجاتا رہا ۔
سچائی یہ ہے کہ وہاں بھارتی شہری مارے گئے لیکن بدطینت چینل انہیں بھارتی کہنے پر تیار نہیں ہیں ۔چینلوں کی نظر میںمرچکے سیاح ہندو ہیں۔ بھارت واسیوں کی حقیقی شناخت مٹانے والے چینلوں پر کارروائی کی مانگ بھی ہورہی ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ ارباب ِ مجاز کااونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے؟
۲۔ جملہ کمائی
دھوپ آگے پیچھے دائیں بائیں ہے اور آگ کے سامنے کھڑے ہوکر چائے پکانی ہے۔ اور چائے جب پک جائے تو اس کو فروخت کرنا ہے ۔ مشکل کام تھا۔ اور وہ پچھلے 25سال سے اس مشکل کام کو مسلسل انجام دئے جارہاتھا۔ موسم بارش میں برسات اور موسم سرمامیں سردیاں آگے پیچھے اوراس کے دائیں بائیں ہواکرتی ہیں۔
25سال بعد اس کا18سالہ بیٹا بھی اس کے ساتھ چائے پکانے کے لئے کھڑا ہے اور اس کا ساتھ دے رہاہے۔ وہ اپنے بیٹے کی طرف اشارہ کرکے کہتاہے ’’میراکوئی گھر نہیں ہے ، کرایہ کے گھر میں رہتاہوں اور میری کل کمائی یہی18سالہ گبھروجوان ہے ‘‘
۳۔ نکماحسن
پھرناخن نکل آئے ہیں۔ اس نے اپنے ناخنوں کی جانب دیکھااور سوچا’’قدر ت نے تو موقع دیاہے لیکن اس کامنہ نوچ نہیں سکتی ۔کیوں کہ عشق نے نکماکردیاہے ۔اس لئے ہوس ہے کہ ظلم ڈھاتی جارہی ہے ‘‘
۴ ۔ الیکشن کاوقت
’’بدلہ ودلہ بھاڑمیں جائے ، فی الوقت بدلہ لینے کانہیں ، الیکشن لڑنے اور لڑکر کامیاب ہونے کاوقت ہے ‘‘ یہ کہہ کر بڑے صاحب الیکشن کیلئے نکل گئے۔ لوگ ہکا بکاتھے کہ جن لوگوں کودہشت گردوں نے مارا ہے تو اس کے لئے تین دن کے سوگ کااعلان تو کم ازکم کیاجاناچاہیے تھانا؟لیکن شاید ایسا کچھ ہونے کے آثار بھی نہیں تھے۔ جب کہ پوری دنیا سے اس حملہ کی مذمت کی جارہی تھی۔
۵۔ سیاسی فائدہ
وہ ایک خوبصورت خاتون تھیں اور بہت سے سوالات سوشیل میڈیا پر کررہی تھیں۔ میں بھی سوچ رہاتھاکہ دہشت گردوں کے حملہ میں ہندومارے گئے یابھارتی مارے گئے ؟خاتون کہہ رہی تھیں کہ اس حملے کے ہوتے ہی فسطائی طاقت ہماری ملکی شناخت ختم کرنے میں لگے ہیں۔ وہ بھارتی سیاح کہنے کے بجائے کچھ اور کہہ رہے ہیں۔ یہ بھیدبھاؤ ہی نہیں ملک کو چیر کر رکھا جارہاہے۔ ملک کو ایک اور تقسیم کی طرف بڑھانے کی سازش رچی جارہی ہے۔میری سمجھ میں صرف اتنا آیاکہ کچھ لوگ اس ہتھیا کانڈ سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے تھے، اٹھابھی رہے ہیں۔

