میربیدری، بیدر،کرناٹک
طنزیہ کچھ گائیے ، میں ہوں مسلمان
نام میرا لائیے ، میں ہوں مسلمان
گالی بھی دلوائیے ، میں ہوں مسلمان
کٹوابھی بتلائیے ،میں ہوں مسلمان
رام کے اِس دیش میں کس طرح رہنا
مجھ کو بھی سمجھائیے ، میں ہوں مسلمان
کیجئے کرنا اگر ہے مآب لنچنگ
درّے سو لگوائیے ، میں ہوں مسلمان
مسجدیں ڈھانے کو بلڈوزر تو ہوگا
آئیے اور ڈھائیے ، میں ہوں مسلمان
کہہ چکے سوّر، مگر ہندوستاں کا
کتّا بھی بتلائیے ، میں ہوں مسلمان
ٹھیلے پر ملتا ہوں ، پنچر کی دُکاں پر
خوب ہی پٹوائیے، میں ہوں مسلمان
تم کہ سوشیل میڈیا ، کالج سے ، میری
بیٹیاں بھَگوائیے ، میں ہوں مسلمان
کیا میں بولوں؟ سب ہی جاکے قبر،اورنگ
زیب کی کھدوائیے، میں ہوں مسلمان
ہند میں پیدا ہوئی اردو تو کیا ہو
اُردو کو جھٹلائیے ، میں ہوں مسلمان
ہرطرح برباد کرنا ہے نا مقصد؟
مدرسوں کو ڈھائیے ، میں ہوں مسلمان
میری خاموشی سمجھتے ہی نہیں نا
ہیجڑا بتلائیے ، میں ہوں مسلمان
ہے اِجازت کاٹنا گائے کی ، تب بھی
مجھ کو ہی کٹوائیے ، میں ہوں مسلمان
اپنی دہشت چھوڑیں ، دہشت گرد لیکن
مجھ کو ہی بتلائیے،میں ہوں مسلمان
اُردو پڑھتے ہیں مسلماں یہ لہٰذا
ختم اِسے کروائیے ،میں ہوں مسلمان
میری جانب ملک کا دستور تو ہے
خوف وہ چھڑوائیے ، میں ہوں مسلمان
مرکے جلنے کا نہیں قائل لہٰذا
آگ ہی دِکھلائیے ، میں ہوں مسلمان
وقف اللہ کاہے ، پر قانون لائے
یہ چلے ،چلوائیے ، میں ہوں مسلمان
مارکر مجھ کو نہ پھیلائیں یو ں دہشت
فوری سے گڑوائیے ، میں ہوں مسلمان
جو غلاظت دِل میں تھی نکلی ہے نا ، پھر
بند اِسے کروائیے ، میں ہوں مسلمان

